//شعر و شاعری ماہ جولائی ۲۰۲۰
urdu_shairy

شعر و شاعری ماہ جولائی ۲۰۲۰

۔ طنز کے تیر چلاتے ہیں جو ہر جانے انجانے پہ

روزمہ  الفضل ربوہ 9 جنوری 2013ء میں محترمہ صاحبزادی امة القدوس صاحبہ کی ایک خوبصورت نظم شامل اشاعت ہے۔ اس طویل نظم میں سے انتخاب ہدیہ قارئین ہے:

طنز کے تیر چلاتے ہیں جو ہر جانے انجانے پہ

شک کی نظر میں ڈالتے رہتے ہیں اپنے بیگانے پہ

چھوڑ انہیں جو لوگ کہ بگڑے جاتے ہیں سمجھانے پہ

وقت کا لٹّولے  آئے گا خود ہی ہوش ٹھکانے پہ

ہنستی ہے تقدیر ہمیشہ بندوں کے گھبرانے پہ

ہر شے دھندلی دکھتی ہے جب آنکھ میں جالا لگتا ہے

پھیلتا ہے ہر سُو جو دھواں تو سورج کالا لگتا ہے

ظلمت کے پروردہ کو تاریک اُجالا لگتا ہے

تلخ دہن کو شہد بھی لوگو تلخی والا لگتا ہے

روٹھ سے جاتے ہیں جگ والے کی سچی بات بتانے پہ

بات تو ساری دل کی ہے کہ یہ دل کس پہ آئے گا

گر دنیا یہ چاہے گا تو دنیا کا ہو جائے گا

اس گھاٹے کے سودے میں پر اپنا آپ گنوائے گا

بُت خانہ تو بُت خانہ ہے کعبہ نہ بن پائے گا

چاہے لکھ دو کعبے کا تم نام کسی بُت خانے پر

دعا

دُعا کیجئے کہ حق دے اِسْتِقامَتْ

کہ سب برکت وفا پر مُنْحَصِرْ ہے

بہت اچھا عمل ہے جو ہو اَدْوَمْ

مگر یہ بھی دُعا پر مُنْحَصِرْ ہے

دُعا بھی وہ کہ ہو مَقْبولِ باری

سو یہ فَضْل خدا پر مُنْحَصِرْ  ہے

تُو اے دِل چھوڑ دے حِرص و تمنا

کہ اب سب کچھ خدا پر مُنْحَصِرْ ہے

اَدْوَمْ :یعنی وہ کام جو مسلسل کیا جائے ور اُس میں ناغہ نہ ہو۔

لا ریب خلافت ہے گھنا سایہ خدا کا

امة الباری ناصر

چلمن یہ جو ہلکی سی ہے اس کو بھی ہٹا دے

یوں چُھپنا مری دید کی خواہش کو ہوا دے

شُہرہہے ترے فیض کا اے ساقیٔ کوثرؐ

دل کھول کےاس پیاس کی ماری کو پلا دے

لا ریب خلافت ہے گھنا سایہ خدا کا

اک نعمتِ عظمیٰ ہے یہ دنیا کو بتا دے

خود رفتہ ہوں بیگانہ ہوں میں ہوش و خرد سے

دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے

پھر دل کی کسک آنکھوں میں رکھ دے گی اُ داسی

لگتا ہے خطرناک ہیں موسم کے ارادے

اک ڈھال ترے فضل کی ہر وار کو روکے

وہ ابر ِکرم برسے کہ ہر آگ بجھا دے

منسوب رہوں ذات سے تیری ہی خدایا

جینا نہیں آیا ہے تو مرنا ہی سکھا دے

سائل ہوں سلیقہ دے مجھے عرضِ دعا کا

اس درد سے جو عرش الہٰی کو ہلِا دے

تو خود خالق و مالک نے دیا ہے یہ وعدہ

سایہ ہے خلافت کا جو ہر دُکھ کی دوا دے

ہو ایسی غزل دل سے اُتر جائے جو دل میں

آقا بھی مرا دیکھے، مجھے داد، دعا دے

اللہ تعالیٰ کو خاکساری پسند ہے

(دُرِثمین)

الٰہی بخش کے کیسے تھے تِیر

کہ آخر ہو گیا اُن کا وہ نخچیر

اُسی پر اس کی لعنت کی پڑی مار

کوئی ہم کو تو سمجھا دے یہ اسرار

تکبّر سے نہیں مِلتا وُہ دِلدار

ملے جو خاک سے اُس کو ملے یار

کوئی اس پاک سے جو دِل لگاوے

کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے

پسند آتی ہے اُس کو خاکساری

تذلّل ہے رہ درگاہِ باری

عجب ناداں ہے وہ مغرُور و گمراہ

کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ

بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے

مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے

کب تک ؟؟؟

طاہرہ زرتشت ناؔز

آہ و زاری یونہی نادار کریں گے کب تک

قتل کر کے بھی وہ انکار کریں گے کب تک

نسل و رنگت کا ہر اک فرق مٹانا ہو گا

یوں تعصب کا وہ اظہار کریں گے کب تک

ظلم کا ہاتھ تجھے روکنا ہوگا مالک !

تیرے بندوں پہ وہ یلغار کریں گے کب تک

جس طرف دیکھو وہی خوف ہے ویرانی ہے

امن کی راہ کو ہموار کریں گے کب تک

قصرِ ابلیس کو تُو جڑ سے ہلا دے پیارے

تیری ہستی کا وہ انکار کریں گے کب تک

عصرِ بیمار کا اب تجھ پہ ہے لازم چارہ

ترے مرسل کا یوں انکار کریں گے کب تک

آ کہ رنجور ہیں ! زخموں پہ لگا دے مرہم

آہ و زاری مرے مختار! کریں گے کب تک

وصیت الرسولؐ برموقع حجة الوداع

’’مسلمان کا خون تُم پر حرام

اسی طرح جیسے کے عُرفہ حرام

مسلمان کا مال تُم پر حرام

ہے جیسے کہ حج کا مہینہ حرام

مسلمان کی تُم پہ عِزَّتْ حرام

اِسی طرح جیسے کے مکّہ حرام

مسلمان کی عِزَّتْ و جان و مال

سدا اُن کا کرتے رہو اِحْتِرام‘‘

وصیت یہ اُمَّتْ کو حضرتؐ نے کی

کہ پہنچا دو سب کو یہ میرا پیام

حُقُوق الْعِباد اس میں سب آ گئے

جو عامِل ہوں اُن پر خدا کا سلام

(الفضل جنوری 1940ء)

نظریں فلک کی جانب ہیں خاک پرجبیں ہے

(تضمین برمصرع حضرت مسیح موعود ؑ)

صاحبزادی امة القدوس

ہر ایک ہے ہراساں یہ دَور نکتہ چیں ہے

ہر دل میں ہے تکدّر ، آلودہ ہر جبیں ہے

ناپختہ ہر عمل ہے ، لرزیدہ ہر یقیں ہے

وصلِ صنم کا خواہاں شاید کوئی نہیں ہے

’’فکروں سے دل حزیں ہے جاں درد سے قریں ہے

جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

آنکھوں میں سیلِ گریہ ، سینہ دھواں دھواں ہے

ہر نفس مضطرب ہے ہر آنکھ خونچکاں ہے

ہونٹوں پہ مسکراہٹ ، دل مہبطِ فغاں ہے

فُرقت میں یاں تڑپتا انبوہِ عاشقاں ہے

غربت میں واں پریشاں اک دلرُبا حسیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

اک دَورِ پُرسکوں کا آغاز چاہتی ہُوں

لَے ہو طرب کی جس میں وہ ساز چاہتی ہُوں

نظرِ کرم ہی میرے دمساز چاہتی ہُوں

میں تیرے لفظ کُن کا اعجاز چاہتی ہُوں

سب کی ہے تو ہی سنتا اِس بات کا یقیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

انسانی لغزشوں سے میں ماورا نہیں ہوں

ماحول سے علیحدہ ربُ الوریٰ نہیں ہوں

لیکن میں تجھ سے غافل میرے خدا نہیں ہوں

میں بے عمل ہوں بیشک پر بے وفا نہیں ہوں

نظریں بھٹک رہی ہیں پر دل میں تُو مکیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

میں مانتی ہوں میرا خالی ہے آبگینہ

نہ آہِ صبح گاہی نہ زاریٔ شبینہ

تسلیم کا سلیقہ نہ پیار کا قرینہ

پر میری جان میرا شق ہو رہا ہے سینہ

اب اس میں تابِ فکر و رنج و محن نہیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

بے چین ہو کے کوئی دن رات رو رہا ہے

وہ اپنی سجدہ گاہیں ہر دم بھگو رہا ہے

دامانِ صاف اپنے اشکوں سے دھو رہا ہے

تو جانتا ہے سب کچھ یاں جو بھی ہورہا ہے

ہے روح بھی فسردہ دل بھی بہت حزیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

کرب و بلا کے لمحے بڑھتے ہی جا رہے ہیں

سوز و گداز میرا سینہ جلا رہے ہیں

یہ ناگ وسوسوں کے پل پل ڈرا رہے ہیں

سب صبر و ضبط میرا کیوں آزما رہے ہیں

کچھ اس کا بھی تدارک تُو ربّ عالمیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

ذوقِ دعا کو میرے رنگِ ثبات دے دے

جامِ لقا پلا دے ، آبِ حیات دے دے

یہ تو نہیں میں کہتی کُل کائنات دے دے

فکروں سے تلخیوں سے بس تو نجات دے دے

نظریں فلک کی جانب ہیں خاک پر جبیں ہے

’’جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے‘‘

غزل

آصفہ بلال ، پاکستان

آگہی    کا   عذاب  دیکھا   ہے

دور  تک  اک  سراب  دیکھا ہے

وصل کی تشنگی بھی دیکھی ہے

ہجر  بھی  بے حساب  دیکھا   ہے

بندگی  آج  کہہ  رہی  ہے مجھے

ملتجی    مستجاب    دیکھا    ہے

عشق کی مشکلیں ہی کیا کم تھیں

اس  پہ  تیرا  عتاب   دیکھا     ہے

کیا  ہے  یہ  کاروبارِ  سود و زیاں

کیا  گناہ  کیا  ثواب  دیکھا   ہے

پھر  سے  اترا  ہے  مسیحا کوئی

دھوپ  کو  پھر  سحاب  دیکھا ہے

اشک دو بوند، بہانے کو نہیں آئیں گے

سعدیہ تسنیم سحر

روح کا بوجھ بڑھانے کو نہیں آئیں گے

پھینکے سکے تو اٹھانے کو نہیں آئیں گے

دوستی اپنی جگہ “میں “ بھی سبھی کو ہے عزیز

میں جو روٹھی تو، منانے کو نہیں آئیں گے

جب بھی آئیں گے تو  بس اپنی خوشی کی خاطر

میرے احباب ہنسانے کو نہیں آئیں گے

اتنی مصروف یہ دنیا ہے کہ میت پہ بھی اب

اشک دو بوند، بہانے کو نہیں آئیں گے

سوطریقوں سے بتائیں گے ،اندھیرا ہے بہت

پھر بھی قندیل، جلانے کو نہیں آئیں گے

جن کو انگلی سے پکڑ کر ہے چلایا برسوں

وہ مرا ہاتھ بٹانے کو نہیں آئیں گے

دین کے تاجر

امۃ الباری ناصر

ہر طرف نحوست کے گہرے ہو گئے سائے

عقل و فہم سے عاری اقتدار پر چھائے

ظلمتوں کے متوالو ! ہر چراغ گل کردو

در دریچے مت کھولو روشنی نہ در آئے

شر کا شور اتنا ہو جس سے کان پھٹ جائیں

بات حق و حکمت کی کان میں نہ پڑ جائے

پیر تسمہ پا ملا دین کے ہوئے تاجر

پی گئے وطن کا خوں جو بھی رہنما آئے

عہد سوگ میں پرچم سرنگوں ہی رہتا ہے

کاش میڈیا کوئی خیر کی خبر لائے

بانجھ ہوگئی دھرتی خشک ہو گیا پانی

کاش آسماں سے اب کوئی رہنما آئے

اس دہرِ بے ثبات میں تجھ کو ہے کیا ملا

فہمیدہ مسرت احمدجرمنی

ڈُھونڈا تمام عُمر نہیں با وفا ملا

راہِ وفا میں کون ہے جِس کو صِلہ ملا

صاحب ، ہماری حرماں نصیبی تو دیکھیے

منزل کی آرزو تھی فقط راستہ ملا

چھائی ہُوئی ہیں چاندکےچہرے پہ زردیاں

پاگل چکور جان سے جاتا ہُوا ملا

چاہا تو تھا چھپانا سدا رازِ عشق کو

لیکن ہر ایک شخص یہاں کھوجتا ملا

دیکھیں جسے بھی اوروں پہ اُنگلی اُٹھائے ہے

اپنے گریباں میں نہ کوئی جھانکتا ملا

اک حشر کا سماں ہے یہ دُنیا میں چار سُو

اپنے کئے کی انساں سز ا کاٹتا ملا

رہ رہ کے اب یہ خُود سے مسرت کرے سوال

اس دہرِ بے ثبات میں تجھ کو ہے کیا ملا

نظم

صفیہ چیمہ فرینکفرٹ

دھرم سارے اک پاسے صرف خدائی اے

مولا میرے سن لے چولی میں پھیلائی اے

دنیا دے وچ ایہہ مصیبت کیہ آئی اے

ہر پاسے نھیرا اے تےراہ کوئی نہ لبدی

بندےکُرلاندے دیتی سب نے دہائی اے

پَیڑی اے وَبا بندہ بندے توں اے ڈردا

کیہڑا پاسا رہندا جتھے تک نہ رسائی اے

جدوں ملن نعمتاں تے رب بھل جاندا اے

بندہ آکھے ایہہ تے ساری میری ای کمائی اے

بندہ اے تکبّرا، ناشکرا وی ہوندا اے

قرآن دے وچ مولا خبر سنائی اے

معاف کرمولا سانوں اسیں گنہ گار آں

تیری شان اُچی مولا تیری ای ودھائی اے

گورے کالے مل کے دعاواں پئے کردے

دھرم سارے اک پاسے صرف خدائی اے

صفی توں صبر کر منگ دعاواں نی

ایدھے پچھے ربا کیہڑی کارفرمائی اے

دلِ نادان تو خوشیوں کے ترانے مانگے

شازیہ افروز-جرمنی

دلِ مضطر نے جو کہنے کو فسانے مانگے

یاد سے میں نے حسابات پرانے مانگے

پھر زمانے نے نئے درد کا سامان کیا

میں نے جب زیست سے لمحات سہانےمانگے

تن میں تو خون کی اک بوند میسر نہیں اور

چشم خوں ناب بہانے کے بہانے مانگے

آنکھ خوگر ہے نئے خواب سجانے کی مگر

دل تو تعبیر کو پانے کے زمانے مانگے

زندگی درد کے سازوں میں ڈھلی جاتی ہے

دلِ نادان تو خوشیوں کے ترانے مانگے

ننھے دیے میں حوصلہ توبہ بلا کا تھا
فوزی بٹ

خاموش اس لیے تھی مجھے ڈر خدا کا تھا
چھوڑا نہ ہاتھ میں نے بھی صبرورضا کا تھا
میں نے ہمیشہ سب کے لئے کی ہے بس دعا
بستی میں سب کے پاس ہنر بد دعا کا تھا
لرزا بھی پھڑپھڑایا بھی لیکن ڈٹا رہا
ننھے دیے میں حوصلہ توبہ بلا کا تھا
ترک تعلقات کا ہے تجزیہ یہی
دونوں طرف معاملہ جھوٹی اَنا کا تھا
دامن میں میرے پھول، ستارے ہیں مانگ میں
اس میں اثر ضرور کسی کی دعا کا تھا
خوشبو کا پیرہن لیے یادیں رلا گئیں
اس میں قصور دوستو کالی گھٹا کا تھا
تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ فوزی تھی روکتی
پر جان جس نے لی وہ کسی آشنا کا تھا

غزل

بشارت سکھی جرمنی

دعا ہے میری تجھے بھی کبھی جلائے بہار

کہ دشت ہجر میں ہر سو تجھے رلائے بہار

نہ جانے کیسے ستم اب کے ہم پہ ڈھائے بہار

جو چھو کے آئے رخ یار دلربائے بہار

گلوں کی چوٹ سے چھلنی ہے تار  تار نفس

کہ زخم زخم پکارے ہے ہائے ہائے بہار

خزاں کی رت میں بھی رکھا ہے اک عجب سا فسوں

ہے زرد پتوں میں لپٹی ہوئی نوائے بہار

یہ میری سوختہ جانی نہ جان لے لے مری

کوئی تو مجھ کو منائے کوئی تو لائے بہار

کریں گے خار بھلا کیا رفوگری گل کی

ستم ظریفی کا ہر رنگ کیوں دکھائے بہار

سنا کے مژدہ مجھے قید جاودانی کا

در قفس پہ مرے آ کے کیوں  جلائے بہار

اداس چہروں پہ کوئی تو رنگ بکھرائے

سفیر بن کے سکھی چاہتوں کی آئے بہار

حمد

‎حمىرا ناصر- شارجہ

کرم  کى کر نظر مولا ترے در پر سوالى ہے

‎نگہ نادم،زباں چپ،دل گرفتہ جھولى خالى ہے

‎مرے عملوں مرى سوچوں کى تجھ کو ہے خبر مولا

‎تو پردہ پھر بھى رکھتا ہے ادا کىسى نرالى ہے

‎پکڑ لے ہاتھ تو مىرا اندھىرے چار سو چھائے

‎نصىبا تب ہى  چمکا ہے نگہ جب تو نے ڈالى ہے

‎تو چاہے خاک کر دے ىا مجھے اپنا بنا لے اب

‎دعارکھ دى ترے آگے، رضاہم نے اٹھا لى ہے

‎تو ہى حاجت روا مىرا تو ہى مشکل کشا بھى ہے

‎سو اپنے سارے روگوں کى فقط تجھ سے دوا لى ہے

تتلی

عندلیب

تتلی نینی تال کی

نکلی لے کر پالکی

بھاگی بھاگی چلی جا رہی

راہ پکڑ بھوپال کی

رنگ برنگے پنکھوں والی

ہے یہ بڑے کمال کی

پھول پھول کا رس پیتی ہے

چاہ نہ روٹی دال کی

کبوتر  اور  محبت

ڈاکٹر لبنی عکس

مرے ہاتھ مجھ سے گلہ کر رہے ہیں

کہ میں نے قلم کب سے پکڑا نہیں ہے

تمہیں کوئی خط کب سے لکھا نہیں ہے

میں کیسے بتاؤں کہ خط کیسے لکھوں

وہ خط دینے والے کبوتر کہاں ہیں

دلوں کو ملاتے پیامبر کہاں ہیں

وہ خط جو کسی سے ملاتے تھے جاناں

ہنساتے کبھی وہ رلاتے تھے جاناں

مگر اب تو ای میل کا ہے زمانہ

ملاقات کرنی تو واٹس ایپ آنا

محبت میں اب تازگی ہی نہیں ہے

دلوں میں بھی پاکیزگی ہی نہیں ہے

محبت تو اب ایک دھوکہ ہے لوگو

تصاویر دینے کا سودا ہے لوگو

محبت جو جسموں سے کی جا رہی ہے

دلوں میں جگہ بھی نہیں پا رہی ہے

تو اب سوچتی ہوں کہ دل جو لگا لوں

میں اب اپنے گھر میں کبوتر بھی پالوں