//شخصیت نہیں فوٹو کاپیاں

شخصیت نہیں فوٹو کاپیاں

. تحریر سعدیہ قریشی

بھیڑ چال کا رواج صرف سکرین پر اور سوشل میڈیا پر ہی نہیں۔ ہم اپنی عام زندگیوں میں ہی انفرادیت سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ میں اکثر نوٹ کرتی ہوں کہ گھروں کی سجاوٹ‘ فرنیچر اورآرائش میں بھی ہم ایک نقل خور قوم ہیں۔ہماری اپنی شخصیت کا عکس ہمارے گھر کے در و دیوار‘ سجاوٹ اور آرائش میں دکھائی دینا چاہیے لیکن ہم ٹھہرے اندھا دھند تقلید کرنے والی قوم‘ منفرد اور الگ دکھائی دینے کا حوصلہ کہاں سے لائیں۔لان کے بے شمار برانڈز ہیں مگر سب کے سب ایک ہی جیسے پرنٹس‘ ڈیزائن‘ موٹفس‘ کہیں کوئی انفرادیت کا پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ اب تو ایک جیسے ڈیزائن دیکھ دیکھ کر دل ان برانڈڈ کپڑوں نے پاکستانی عورتوں کو ان کی انفرادی تخلیقی صلاحیتوں سے محروم کردیا ہے۔ پہلے یہ ہوتا کہ خواتین کپڑوں کو خود ڈیزائن کرتیں۔ گرمیوں کی لمبی دوپہروں میں اپنی قمیضوں پر اپنی حس جمالیات کے مطابق کڑھائی کرتیں‘ سجاتی سنوارتیںمگر پکے پکائے حلوے کی صورت برانڈڈ سوفٹ یا پھر انہی کی نقلچیاں یعنی ایپلیکاز آپ کو اپنی بساط کے مطابق دستیاب ہیں۔خریدیئے اور پہنیے‘ پھر اپنی شخصیت کے خدوخال کو میک اپ اور سٹائل کے ٹرینڈ میں پھونک کراپنی شخصیت سے دستبردار ہو کر ایک دوسرے کی فوٹو کاپیاں بن جائیے۔سوشل میڈیا پر ’’ٹرینڈ‘‘ کو فالو کیجئے۔ کبھی سوچیں کہ آپ کون ہیں۔آپ کی انفرادیت کیا ہے‘ کیا آپ کی کوئی شخصیت بھی ہے یا آپ صرف ایک فوٹو کاپی ہیں۔