//شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے کن شرائط کا ہونا

شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے کن شرائط کا ہونا

تحریر طاہر زرتشت نازؔ ناروے

اساتذہ کے نزديک حسنِ شاعري کيا ہے؟ نيز اساتذہ اور مستند شعراء اس کي کيا تشريح کرتے ہيں

اس ميں کوئي شک نہيں کہ محاسنِ شاعري کا يکجا ہونا شاعري کا حسن بھي ہے اور کمال بھي ہے۔شعر کي جماليات جن عناصر ميں پنہاں ہيں۔ ايک شاعر کے ليے ان کا ادراک ضروري ہے۔

حسنِ شعر دو اہم محاسن وزن اور تخيل کا پابند ہے۔ ليکن اس ميں ايک خاص پہلو يہ بھي ہے کہ تخيّل حقيقت سے جتنا قريب ہو گا شعر کا حسن اتنا ہي ديرپا اور جاوداں ہو گا۔ مجازي اشعار بھي بسا اوقات بلند تخيل کي وجہ سے بہت اونچے مرتبہ پر فائز کيے جاتے ہيں ليکن ايسا کم کم ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے يہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ حقيقت کو وزن اور خيال کے سانچے ميں ڈھالنا ہي حسنِ شعر ہے۔

 کولرج کے خيال ميں شاعري بامعنٰے حسن کي تخليق ہے جو بہت بامعنٰے الفاظ ميں کي جاتي ہے۔ يعني اس نے عمدہ الفاظ کے استعمال کو لازم قرار ديا۔ اس کے علاوہ کولرج شاعري کے ليے ارفع خيالات کو لازم قرار ديتا ہے اس کا کہنا ہے کہ “ شاعري ميں ذوق سليم ضروري ہے اور عظيم فن پاروں کا مطالعہ، قواعد و ضوابط اور نفسيات سے لگاؤ ذوق سليم کے لئے ضروري ہے”۔

شاعري ميں وزن کے استعمال کو ضروري قرار ديتے ہوئے کولرج کا کہنا ہے کہ “اس ميں شک نہيں کہ نثر اور شعري زبان ميں الفاظ ايک ہي ہوتے ہيں۔ ليکن الفاظ کي ترتيب انہيں مختلف بناتي ہے۔ يہ فرق وزن کے خيال سے پيدا ہوتا ہے”۔

اس کا خيال ہے کہ ’’جو چيز شاعري اور نثر کو الگ کرتي ہے وہ وزن ہے شاعر کے دل سے اُٹھنے والے جذبات و احساسات کے طوفان کو وزن کا استعمال متوازن بناتا ہے‘‘

ان کا يہ بھي کہنا ہے کہ ’’نثر ميں الفاظ بہترين ترتيب ميں پيش کئے جاتے ہيں اور شاعري ميں بہترين الفاظ بہترين ترتيب ميں پيش کيے جاتے ہيں‘‘۔

وُڈزورتھ (Wordsworth) نے مضبوط تخيّل اور طاقتور احساسات کے بے ساختہ بہاؤ کو اہم قرار ديا ہے۔ جرمن شاعر اور نقاد گوئٹے نے اپني تنقيدوں ميں فطري شاعري کي چار خصوصيات بتائي ہيں۔

رواني اور شيريں بياني،خصوصي مضامين جو عام نہ ہوں،تخيل ميں وسعَت و گہرائي، نيا پن (تنوع)

 جبکہ مقدمہ شعرو شاعري ميں مولانا الطاف حسين حالي کے مطابق شاعري کے ليے يہ شرائط ضروري ہيں۔

وزن، قافيہ و رديف، تخَيّل۔ کائنات کا مطالعہ، تفحّص الفاظ۔

حالي کا کہنا ہے کہ وزن اور بحر شاعري کے ليے اہم ہے۔ شاعر کا “تخيل جتنا بلند” ہو گا شعر کا  وزن اور شاعري کے لئے اہم ہے۔ شاعر کا تخيل جتنا بلند ہوگا۔ شعر کا معيار اسي قدر بلند ہوگا۔

 “کائنات کےمطالعہ” سے ان کي مراد جُزئِيات نگاري اور منظر نگاري ہے۔ يعني اس طرح منظر کشي کي جائے کہ چھوٹي سے چھوٹي چيز کو بھي نظر انداز نہ کيا جائے۔اور دنيا کے وسيع موضوعات کو شعروں ميں پرويا جائے اور “تَفَحُّص الفاظ” يعني مناسب بلکہ بہترين الفاظ کا استعمال جو شعر کے ابلاغ کو خوبصورت بنا دے۔

اس کے علاوہ حالي کہتے ہيں کہ “قافيہ بھي وزن کي طرح شعر کا حسن بڑھا ديتا ہے۔ جس سے کہ اس کا سننا کانوں کو نہايت خوشگوار معلوم ہوتا ہے اور اس کے پڑھنے سے زبان زيادہ لذت پاتي ہے”۔ (حالي مقدمہ شعروشاعري)

شاعري کي اپني زبان ہوتي ہے۔ اس کے کچھ ضروري لوازمات بھي ہيں۔جن کا خيال رکھنا بے حد ضروري ہے۔ ايک شعر کے دو عناصر اہم ہيں ايک وزن اور دوسرا خيال۔ اس کے علاوہ کئي ايسے عناصر کو بھي شعر کا حسن سمجھا جاتا ہے جو ايک شعر کي زيبائش بڑھاتے ہيں۔ انہيں شاعري کي صنعتيں بھي کہا جاتا ہے۔ اعلي پائے کي شاعري ان صنعتوں سے بہرہ ور ہوئے بغير معياري تخليق کے پيمانے پر پوري نہيں اترتي۔ صنعتيں بے شمار ہيں ان ميں سے چند اہم صنعتوں کے بارے ميں ان کي افاديت کے پيش نظر ايک شاعر کا جاننا بہت ضروري ہے۔

تخيل

انسان کي قوت متخيلہ جہاں تخليقات کا سبب بنتي ہے وہاں ان کا معيار اور مقام بھي متعين کرتي ہے۔ جتنا تخيل بلند ہو گا شعر کا معيار اسي قدر بلند ہو گا۔ بلند تخيل عُميق مطالعے، علم اور گہرے مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔ ليکن عموماً يہ انسان کو پيدائشي وديعت ہوتا ہے۔

حالي اپني کتاب مقدمہ شعروشاعري ميں کہتے ہيں  ’’قوت متخيلہ يا تخيل جس کو انگريزي ميں اميجينيشن کہتے ہيں۔ يہ قوت جس قدر شاعر ميں اعليٰ درجے کي ہو گي اسي قدر اس کي شاعري اعليٰ درجے کي ہوگي اور جس قدر ادنيٰ درجے کي ہو گي اسي قدر اس کي شاعري ادنيٰ ہوگي۔‘‘

اکثر ديکھنے ميں آيا ہے خيال جتنا حقيقت سے قريب ہوتا ہے اتنا ہي وہ قيمتي اور بلند ہوتا ہے۔ حقيقي شاعري ميں خدا کي واحدانيت کو بيان کرنا تخيل کي معراج ہے۔ عمدہ تخيل شعر کو حياتِ جاوداں بخشتا ہے۔ تخيّل کي بلندي شعر کا معيار بلند کرتي ہے اور،شاعر کے مقام کا تعين کرتي ہے۔تخيل کي پرواز شہپارے تخليق کرواتي ہے۔ چند اشعار مثال کے طور پر پيش ہيں۔

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گيا

جامِ جم سے ميرا جامِ سفال اچھا ہے

تخيل کے سبب شعر کي قدروقيمت مقرر ہوتي ہے۔ يہ تخيل کا کمال ہي ہے کہ درج ذيل شعر آج بھي زبانِ زدِ عام ہے۔

اُن کے آنے سے جو آجاتي ہے رونق منہ پر

وہ سمجھتے ہيں کہ بيمار کا حال اچھا ہے

(غالب)

ميں جو سربَسجَدہ ہُوا کبھي، تو زميں سے آنے لگي صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کيا ملے گا نماز ميں

( اقبال)

جو اعلي ظرف ہوتے ہيں ہميشہ جھک کر ملتے ہيں

صراحي سرنگوں ہو کر بھرا کرتي ہے پيمانہ

قواعد و عروض کي پابندي (وزن)

غزل يا نظم جن قواعد کے مطابق لکھي جاتي ہے ان قواعد کا دھيان رکھنا چاہيئے۔ وزن کے پيمانے شعراء و اساتذہ نے مقرر کررکھے ہيں۔۔ ان کو اچھي طرح سے سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروري ہے۔ غزل اور نظم ميں ان مقررہ اوزان کا خيال رکھا جاتا ہے۔ ان کي پابندي نہ کرنے سے خيال چاہے کتنا ہي اچھا کيوں… نہ ہو، شعر کي ادبي حيثيت متعين نہيں ہوتي۔ بحر کا استعمال اور وزن کا خيال رکھنے سے شعر ميں آہنگ يعني صَوت پيدا ہوتا ہے۔ نثري نظم ميں اوزان و بَحور کي پابندي نہيں کي جاتي اسي ليے اساتذہ اور بڑے شعرا کے نزديک نثري نظم قابل اِعتِنا نہيں ہے۔

قافيہ و رديف

شاعري کي مختلف اصناف ہيں۔ غزل، پابند نظم، آزاد نظم، نظم مُعَرّيٰ وغيرہ۔ غزل اور پابند نظم قافيہ اور رديف کي پابند ہوتي ہيں۔ اور رديف اور قافيہ کا مناسب انتخاب شعر کے ابلاغ ميں حسن پيدا کرتا ہے۔ بسا اوقات رديف قافيہ وارد ہوتا ہے۔ يعني اچانک کچھ اشعار خود بخود تخليق ہو جاتے ہيں۔ بقيہ غزل کو مکمل کرنے کے ليے اسي کے قافيہ و رديف ميں مزيد اشعار کہے جاتے ہيں۔ رديف وہ الفاظ ہيں جن سے ہر شعر کا اختتام ہوتا ہے ايک غزل ميں ہر شعر کا ايک ہي رديف رکھا جاتا ہے۔ اور ہم قافيہ الفاظ ہوتے ہيں۔ رديف اور قافيہ کے امتزاج سے اشعار ميں زيادہ نغمگي پيدا ہوتي ہے۔ آزاد نظم ميں رديف اور قافيہ کي پابندي ضروري نہيں۔ اسي طرح نظم مُعَرّيٰ ميں صرف وزن يعني بحر کا دھيان تو رکھا جاتا ہے ليکن رديف قافيہ نہيں ہوتا۔

قافيہ اور رديف کيا ہے ؟؟

رديف اور قافيہ در اصل شعري اصطلاحات کے اجزا ہيں۔ ان کے بغير صنفِ نظم کا تصور بھي نہيں کيا جا سکتا۔ قافيہ اور رديف بھي نظم ميں اسي طرح اہميت کے حامل ہيں جس طرح بحور اور زمين ضروري ہيں۔ بلکہ رديف اور قافيہ اصنافِ نظم کے لئے ريڑھ کي ہڈي کي طرح ہيں۔ ان کے بغير نظم، نظم نہيں لگتي اور ان کے بغير اصنافِ نظم ميں ترنم بھي پيدا نہيں ہوتا۔

رديف کے معنٰي…گھڑ سوار… کے پيچھے بيٹھنے والے کے ہيں۔ شعري اصطلاع ميں رديف سے مراد قافيہ کے بعد آنے والے وہ الفاظ ہيں۔ جو مکرر آتے ہوں، اور يکساں بھي ہوں۔ مگر رديف ہر مصرع ميں آئے يہ بھي لازم نہيں ہوتا۔

نقش فريادي ہے کس کي شوخئِ تحرير کااس ميں “ کا” رديف ہے۔

قافيہ : کے معنٰي پيروي کرنے کے اور پيچھے آنے والے کے ہيں۔ اردو ادب ميں قافيہ ايسے الفاظ کو کہتے ہيں جو اشعار ميں الفاظ کے ساتھ آخر ميں بار بار آتے ہيں اگر ان کو ہٹا ديا جائے تو خلا پيدا کر جاتے ہيں۔ اس لئے ترنم اور نغمگي کے لئے قافيہ کا استعمال لازم و ملزوم تصور کيا جاتا ہے۔ تسلسل کو قائم رکھنے کي ايک خوبصورت مثال ملاحظہ ہو

دلِ ناداں تجھے ہوا کيا ہے

آخر اس درد کي دوا کيا ہے

 اس شعر ميں ہُوا اور دَوا قافيہ ہيں اور کيا ہے “ رديف ہے

نئي لکھنے والي بہنوں کے لئے چند باتيں خاکسار نےاساتذہ و ديگر شعراء کي اختصار سے پيش کردي ہيں۔

يہ مضامين تو اپنے اندر سمندروں کي سي وسعت اور گہرائي رکھتے ہيں ۔ مطالعہ کي عادت اس سلسلہ ميں اہم ہے ۔ ان مضامين پر بے شمار کتب موجود ہيں ان سے استفادہ کيجئے ۔ اللہ تعالٰي آپ سب کا حامي و ناصر ہو ۔ آمين ثم آمين۔

نوٹ : يہ معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کي گئي ہيں۔