//شادی کے بناؤ سنگھار کی روایت اور بیوٹی سیلون
makeup_kit

شادی کے بناؤ سنگھار کی روایت اور بیوٹی سیلون

تحریر زیبا شہزاد

خواتین بناؤ سنگھار کے حوالے سے ہمیشہ سے جنونی رہی ہیں۔ اگر کسی دعوت یا شادی میں جانا ہو تو اس وقت ان کی تیاری عروج پر ہوتی ہے۔ خواتین تیار ہونے میں گھنٹوں لگاتی ہیں لیکن پھر بھی تیاری ختم ہونے میں نہیں آتی۔ کبھی بیس خراب، تو کبھی آئی لائنر، کبھی کاجل پھیل جاتا ہے تو کبھی لپ اسٹک کا شیڈ ٹھیک نہیں۔ اور اگر سب کچھ ٹھیک ہو تب بھی خواتین کی تسلی نہیں ہوتی جب تک وہ دوبارہ منہ دھو کر میک اپ نہ کریں۔ دوسری اور پھر تیسری اور آخری بار (جو کہ شرعی اعتبار سے بھی آخری بار سمجھی جاتی ہے ) یہ عمل دہرایا جاتا ہے۔

خواتین میک اپ کے لئے اس قدر وہمی ہوتی ہیں کہ آخری وقت تک ان کی تیاری مکمل نہیں ہوتی۔ بالاآخر گھر کے مرد گھر کے باہر کھڑے ہو کر غصہ سے آوازیں لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ بہت دیر ہوگئی آبھی چکو۔ اور اندر سے ڈرے لہجے میں چیخ نما آواز آتی ہے آئی بس ایک منٹ۔ اور یہ ایک منٹ کا دورانیہ بیس منٹ طویل ہوتا ہے۔ لیکن جب سے بیوٹی سیلون کا رواج عام ہوا ہے خواتین کا بار بار منہ دھو کر نئے سرے سے میک اپ کرنے کی یہ مشکل آسان ہو گئی ہے۔

البتہ بس گھر کے مردوں کے لئے یہ مشکل ہو گئی ہے کہ جس خاتون کو وہ سیلون چھوڑ کر آتے ہیں اس کی واپسی پر اسے پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے ہی واپس کیا جائے جنھیں وہ چھوڑ کے گئے تھے نا کہ کوئی اور ان کے ہمراہ کر دی جائے۔ جن دنوں بیوٹی پارلر جنھیں اب سیلون کہا جاتا ہے کا رواج عام نہیں تھا تب شادی والے گھر میں اک عجیب ہڑبونگ مچی ہوتی تھی۔ ہر کوئی تیار ہونے کے لئے واویلا مچا رہا ہوتا۔

سوائے دلہن کے کسی کی بھی تیاری مکمل نہ ہوتی۔ دلہن وہ فرد واحد ہوتی جو مہینہ بھر میلے چیکٹ کپڑوں میں گھومتی۔ پیلے جوڑے میں ملبوس، تیل میں چپڑی، لمبا سا گھونگھٹ نکالے گٹھری بن کر ایک کونے میں جو دبکی ہوتی وہی دلہن شمار کی جاتی۔ لڑکی کا شادی کے دن تک سرخی پاؤڈر کا استعمال ممنوع تھا۔ کہ سمجھا جاتا ایسے دلہن پر روپ نہیں آتا۔ تب دلہے بھی سادہ ہوتے۔ بوسکی قمیض، سفید لٹھے کی شلوار نوٹوں والے ہار، تلے والے سہرے کے پیچھے سلائیاں بھر بھر ڈالا گیا سرمہ سانولے رنگ پر عجب بہار دکھاتا۔

اس پر مزید یہ کہ نظر لگنے کے اندیشے کے پیش نظر احتیاطی طور پر دلہا کے گال پر بھی کالا ٹیکا لگا دیا جاتا۔ تب دلہے منہ کے آگے رومال رکھتے تھے۔ ممکن ہے یہ اس وجہ سے ہوتا ہو کہ کسی دلہے نے آئینہ دیکھ لیا ہو۔ اور مارے خفت کے منہ پر رومال رکھ لیا ہو۔ جسے دلہے کی شرم سے تعبیر کر کے بعد میں فیشن کے طور پر اپنا لیا گیا ہو۔ گئے وقتوں میں دلہن شرماتی تھی، دلہا بھی شرماتا تھا لیکن مزے کی بات یہ شادی کا پیغام دیتا

”کاکے دا ویاہ اے، آنا جے“ دلہا کا ابا بھی شرما رہا ہوتا۔

سچی بات یہ ہے کہ دلہے تب کاکے ہی ہوتے تھے۔ لڑکے ابھی سولہویں سال میں قدم رکھتے ہی تھے کہ ایک منخنی سا وجود ان کے ساتھ باندھ دیا جاتا جسے وہ سمجھتے یا نہیں لیکن نبھاتے ضرور تھے۔ آج کے دور کی طرح مس اندر سٹینڈنگ کے نام پر شادی کے چند روز بعد طلاقیں ہونے کا رواج نہیں تھا۔ زمانہ کیا بدلا اقدار تک بدل گئیں۔ آج جہاں بہت کچھ بدلا ہے وہیں دلہن کے بناؤ سنگھار کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔ وہ لڑکی جسے شادی کے دن تک منہ دھونے کی اجازت نہ تھی، اس خاص مقصد کے لئے دلہن کی رکھوالی کی جاتی کہ چہرے پر کسی بھی چیز کے استعمال سے جن عاشق ہو جائیں گے۔

ایسے حکم دینے والی دادی، نانیاں تو اب اگلے دیس سدھار چکیں۔ اب تو من مانیاں کرنے والی من موجیوں کا دور ہے۔ جن کی تیاری شادی سے چھ ماہ قبل شروع ہوجاتی ہے۔ شادی سے چھ ماہ پہلے دلہن کے بیوٹی سیلون کے چکر شروع ہوجاتے ہیں۔ اور برائیڈل سروس کے نام پر عام سے گلی محلے میں کھلے ”بیوٹی پارلر“ والیاں ہزاروں جبکہ پوش علاقوں میں ”سیلون“ والیاں لاکھوں کماتی ہیں۔ آج کی دلہن گٹھری بن کر کسی کونے میں چھپی نہیں ہوتی بلکہ برائیڈل شاور میں آنے کے لئے بیوٹی سیلون میں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔

اور حیرت کی بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے فل تیار ہونے پر کوئی سرکش جن عاشق نہیں ہوتا بلکہ سیلون سے تیار ہو کر آئی پریوں کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ جِنوں کو قابو کرنے کے لئے ہی بیوٹی سیلون کا رخ کیا جاتا ہے۔ اب جِنوں کی کیا مجال کہ وہ آواز بھی نکال سکیں۔ بیوٹی سیلون سے آئی پریاں جنوں کو اپنے جنون میں مبتلا کر دیتی ہیں اور وہ بیچارے سیلون کے عطا کردہ عارضی حُسن کے دھوکے میں آکر ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔

مگر افسوس جب جِنوں کا جنون اترتا ہے تب تک چڑیاں کھیت چگ گئیں ہوتی ہیں۔ شادی کی اگلی صبح تہہ در تہہ جمے میک اپ اتارنے کے بعد جب اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ تو جِنوں کی بھی چیخیں نکل جاتی ہیں اور وہ جن ایسا ڈرتے ہیں کہ ساری عمر پھر ڈرتے ہی گزار دیتے ہیں۔ اسی بات کابدلہ لینے کے لئے ہی شاید مردوں نے بھی اپنے دفاع میں’ ’men’s salone‘‘کھول لئے ہیں۔ اب مرد حضرات بھی بیوٹی فل نظر آنے کے تمام لوازمات پورے کر کے فنکشنز میں جاتے ہیں۔

اب جتنی تیاری دلہن کی ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ کانشس دلہا اپنی تیاری کے لئے ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں مردوں کے لئے بھی اتنا ہی سرخی پاؤڈر متعارف ہو چکا ہے جتنا خواتین کے لئے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی فنکشن میں جانا ہو تو خاتون خانہ کے بلانے پر خفیہ دراز سے سرخی پاؤڈر نکال کر لگاتے مرد آواز لگاتے ہیں۔ آیا بس ٹائی باندھ لوں۔ اب مرد بھی خواتین کے مقابلے میں تیار ہونے کے لئے ’’salon men’s ‘‘ کا رخ کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ تراہ صرف دلہا ہی کا نہیں نکلے۔

بلکہ دلہن کے ارمانوں پر بھی اتنی ہی اوس پڑے جتنی کہ دلہا کے ارمانوں پر۔ ایسے ہی ایک صاحب کو شادی سے پہلے سیلون جانے کا اتناخبط ہوا کہ وہ ایک دن میں مختلف سیلون سے دو دو بار فیشل کروانے جاتے اور نتیجہ آپ قارئین کی حسب توقع نکلا۔ جی ہاں شادی والے دن چھلے گال، لال بھبوکا چہرہ آئینے میں دیکھتے اپنے دوستوں کو گالیاں دیتے پائے گئے۔ جنھوں نے کالے رنگ کو گورا کرنے کے لئے بار بار فیشل کروانے کے مشورے دیے تھے۔