//سورۃ الناس کی خوبصورت تفسیر

سورۃ الناس کی خوبصورت تفسیر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ إِلٰهِ النَّاسِ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (سورۃ الناس مکمل)

اس طرح دعا کر۔ جنّ ہو یا آدمی ہو، جو کوئی انسانوں کے سینے میں وسوسے ڈالتا ہے اور انسان کی ترقی کو روک کر اسے پیچھے ڈال دیتا ہے، اس کے وسوسہ کی بدی سے اس خدا کے حضور میں پناہ گیر ہوتا ہوں۔ جو انسانوں کا پرورش کنندہ اور ان کا بادشاہ اور ان کا معبود۔

اس سورہ شریفہ میں اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کو بیان کیاگیا ہے۔ ربّ، مالک، الٰہ۔ اور پھر ان ہر سہ صفات کے اس پرتو کی طرف بالخصوص اشارہ کیا گیا ہے جو کہ انسان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کیا معنے۔ وہ خدا جس نے انسان کو پیدا کیا، اس کو تمام قویٰ کی تربیت کے واسطے ہر قسم کے سامان مہیا کئے۔ یہ جنین تھا تو ماں کے پیٹ کے اندر ہی اسے غذا پہنچائی، پیدا ہوا تو ساتھ ہی ماں کی چھاتیوں میں اپنی غذا کا ذخیرہ موجود پایا، اسے چھوڑا تو ماں باپ اور اقرباء کو اپنے سامانِ خوردنی، پوشیدنی کے مہیا کرنے میں مصروف پایا، بڑا ہوا تو محنت مزدوری کی اور خدا نے اس میں برکت ڈالی۔ اس لفظ میں اپنے اصل مربی کے بےانتہاء احسانات کو یاد کرنے کے بعد اس دعا میں انسان اپنے خدا کو یاد کرتا ہے جو اس کا حقیقی بادشاہ ہے۔ اسی کے قبضۂ قدرت میں تمام زمین و آسمان کی کَل ہے۔ چاہے تو ایک آن میں زلزلہ یا بجلی سے یا اور جس طرح چاہے۔ سب کو فنا کردے، یا فنا شدوں کو پھر پیدا کردے۔ تمام انسانوں کے دل بھی اس کے قابو میں ہیں، وہ بادشاہ حقیقی ہے، ہر ایک انسان کے خیالات اس کی نگاہ میں ہیں۔ بغیر اس کے اِذن کے نہ کوئی نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ مَلِکِ النَّاس ہے۔ پس وہ جو ہمارا ربّ ہے اور جو ہمارا مَلِک ہے اور سلطان ہے۔ وہی اس لائق ہے کہ ہمارا الٰہ ہو اور معبود ہو، اسی کی عبادت کی جاوے، اسی سے اپنی حاجتیں مانگنی چاہئیں۔ اور اسی کی تعریف کرتے ہوئے سر اس کے آگے جھکایا جاوے۔ پتھر کے بُت تو ہماری اپنی مخلوق ہیں اور ہم خود ان کی تربیت کرتے ہیں۔ اور ان پر حکومت کرتے ہیں۔ جس طرح چاہیں ان کو گھڑ کر بناتے ہیں اور جہاں چاہیں ان کو رکھتے ہیں۔ برہمن کے قابو میں آیا تو اس نے زری کے کپڑے پہنادئیے اور سونے کے زیوروں سے مرصّع کردیا اور محمود کے ہاتھ لگا تو اس نے کاٹ کر جوتیاں رکھنے کے واسطے دہلیز کے باہر گاڑ دیا۔ رومن پادری نے اس پر سونے کا گِلْٹ کیا اور گرجے میں سجایا اور اس کے پروٹسٹنٹ بھائی نے اپنے باپ دادوں کی بے وقوفی پر مضحکہ اڑانے کے واسطے اسے عجائب گھر میں رکھ دیا، سو بُتوں کا تو ذکر ہی کیا۔ جبکہ خود بُت پرست بھی بُتوں کو چھوڑ جاتے ہیں، باقی رہے عناصر اور حیوان اور انسان جن کے بعض بےوقوف لوگ پوجا کرتے تھے جو سب کے سب خود محتاج تھے اور اپنی عمر گزار کر مر گئے۔ نہ ان میں سے کسی نے ہماری ربوبیت کی اور نہ کوئی ہمارا مالک اور مَلِک تھا اور نہ کوئی ہمارا معبود ہوسکتا ہے۔ ظاہری بادشاہوں کی حکومت ظاہری حالات پر ہے۔ چور چوری پر سے پکڑا گیا تو اس کو سزا مل گئی۔ لیکن چور جب چوری کی نیت کرتا ہے اور کسی کی عمدہ شَے دیکھ کر دل میں ارادہ کرتا ہے کہ موقعہ پر اسے اٹھا لے۔ اس وقت اس کی نیت اور ارادے کو بجز خدا کے کون دیکھ رہا ہے۔ پس حقیقی بادشاہ وہی ہے۔

اس دعا میں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوکر اپنے خدا کے ساتھ اس تعلق کو یاد کرتا ہے کہ اے خدا تُو ہی میرا پرورش کنندہ ہے اور تو ہی میرا بادشاہ ہے اور تو ہی میرا معبود ہے۔ پس میں تیرے ہی حضور میں اپنی یہ درخواست پیش کرتا ہوں کہ نیکی کے حصول کے بعد جو انسان کے دل میں ایسے بُرے خیالات آتے ہیں کہ اس کو نیکی سے پیچھے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کے شرّ سے مجھے بچا۔

اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وسوسوں کو پیدا ہونا ضروری ہے۔ پر جب تک انسان ان کے شر سے بچا رہے یعنی ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے اور ان پر قائم نہ ہو۔ تب تک کوئی حرج نہیں۔ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میرے دل میں بُرے بُرے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا میں ان کے سبب سے گناہگار ہوں۔ فرمایا۔ فقط بُرے خیال کا اٹھنا اور گزر جانا تم کو گناہگار نہیں کرتا۔ یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے جیسا کہ بعض انسان کو شیطان کی طرح ہوتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں بُرے خیالات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس فقط ان کی بات سننے سے اور ردّ کردینے سے کوئی گناہگار نہیں ہوسکتا۔ ہاں وہ گناہگار ہوتا ہے جو ان کی بات کو مان لیتا ہے اور اس پر عمل کرلیتا ہے۔

سورة النّاس قرآنِ شریف کی سب سے آخری سورة ہے اور اس کا مضمون آخری زمانہ میں ایک بڑے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ فتنہ خنّاس کا ہے۔ جو کہ لوگوں کے دلوں میں قسماقسم کے وساوس ڈال کر ان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کریگا۔ کیونکہ یسوع کو خدا بنانے اور اس کی پُوجا کرنے کا فتنہ زمانہ نبویؐ سے پہلے دنیا میں پھیلا ہوا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور نے اس کی خرابیوں کو دنیا پر ظاہر کرکے اس کا زور مٹا دیا تھا۔ یہاں تک کہ خود نورِ اسلام کی چمک سے جھلک پاکر عیسائی قوم میں اس قسم کے ریفارمر پیدا ہوگئے تھے۔ جنہوں نے اپنی قوم میں سے یسوع اور مریم کے بُت بنائے اور بُتوں کی پوجا کرنے کی رسم کو مٹانے کی کوشش کی۔ اور اس کوشش میں بہت کچھ کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف لاکھوں عیسائی اپنے مذہب کی خرابیوں سے آگاہ ہوکر اور اس سے بیزار ہوکر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ غرض اسلام وہ مذہب تھا جس نے دیگر باطل ادیان کے ساتھ دینِ عیسوی کو بھی پست کردیا تھا۔ لیکن آخری زمانہ میں وہی عیسائیت کا فتنہ ایک نئے رنگ میں مخلوق کے سامنے آکر موجود ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو قرآنِ شریف اور اسلام سے پیچھے ہٹا کر پھر اسی پرانی گمراہی میں ڈال دے۔ یہ خنّاس تعلیم دیتا ہے کہ ہمارا ربّ یسوع مسیح ہے۔ چنانچہ عیسائیوں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے رَبُّنَا الْمَسِیْحُ اور یسوع کا نام عیسائی کتب میں بادشاہ یعنی مَلِک ہے۔ اور اس کی عبادت بھی کی جاتی ہے گویا کہ وہ اِلٰہ یعنی معبود ہے۔ ان عقائد کی بیخ کنی کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رَبِّ النَّاسِاور مَلِكِ النَّاسِاور إِلٰهِ النَّاسِ۔ وہی ایک خدا ہے جس کی صفاتِ حمیدہ کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور جس کی وحدانیت کے بارے میں اس سورة سے اوپر ایک سورة چھوڑ کر اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ۔ اللّٰهُ الصَّمَدُ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص: 2 تا 5) کہ وہ اللہ ایک ہے، وہ بےاحتیاج ہے، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ اس کا کوئی کنبہ قبیلہ ہے۔ اس سورت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔ کہ آخری زمانہ جنگ کا زمانہ ہوگا۔ اور اسلام سے لوگوں کی رُوگردانی کرانے کے واسطے کوئی لڑائی اور ظاہری جنگ کی کاروائی نہ ہوگی۔ جیسا کہ پہلے کیا جاتا تھا۔ بلکہ صدورالنّاس پر بذریعہ وساوس ہوگا۔ اور وہ وسوسہ ڈالنے والے خنّاس دو قسم کے ہوں گے۔ ایک تو پادری لوگ جن کے وساوس موٹے رنگ کے ہر طرح کے کذب اور بہتان کے ساتھ ہیں۔ یہ خنّاس تو ناس میں ہے۔ لیکن ایک بڑا خنّاس جو شر میں اس سے زیادہ سخت ہے۔ لیکن اپنی شرارت میں کسی قدر مخفی ہے اس واسطے اس کو جنّ کہا گیا ہے وہ اس زمانہ کے چھوٹے فلسفی اور جزوی سائنس دان ہیں جو حقیقی فلسفہ اور سائنس سے بےخبر ہیں اور تعلیم یافتہ گروہ کو خفیہ رنگ میں دہریت کی طرف کھینچ کر لے جارہے ہیں۔ حالانکہ بظاہر مذہب سے اپنے آپ کو بےتعلق ظاہر کرتے ہیں۔ مگر باطن میں مذہب کے سچے اصول کو اکھاڑنے کے درپے ہیں۔

اس سورة شریفہ میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔ کہ آخری زمانہ کا فتنہ محض دعا کے ذریعہ سے دور ہوگا۔ چنانچہ اس کی تائید میں حدیث شریف میں آیا ہے۔ کہ کفار مسیح موعود کے دم سے مریں گے۔ اور حضرت مرزا صاحب سے میں نے بارہا سنا ہے۔ آپ فرمایا کرتے ہیں کہ اس قدر فتنہ کا مٹانا ظاہری اسباب کے ذریعہ سے نہیں ہوسکتا۔ ہمارا بھروسہ صرف ان دعاؤں پر ہے جو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور میں کرتے ہیں۔

خداوند تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سُنے گا اور وہ خود ہی ایسے سامان مہیا کرے گا کہ کفر ذلیل ہوجائے گا اور اسلام کے واسطے غلبہ اور عزّت کے دن آجائیں گے۔

لطیفہ: کسی نے کہا ہے کہ قرآن شریف کا ابتداء حرف ب سے ہوا ہے۔ اور آخر حرف س کے ساتھ ہوا ہے۔ یہاں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن شریف انسان کے واسطے بس ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ (الانعام:39) اس کتاب میں کسی شے کی کمی نہیں رہی۔ اس مضمون کو کسی نے فارسی میں اس طرح ادا کیا ہے۔

اوّل و آخر قرآن زچه با آمد وس

یعنی اندر دو جہان رهبرما قرآن بس

لطیفہ: فلسفی کہتا ہے کہ سورة شریف میں سب سے پہلے جو لفظ ناس آیا ہے۔ اس سے مراد اطفال ہیں اور ناس ثانی سے مراد نوجوان لوگ ہیں۔ اور ثالث سے مراد بوڑھے ہیں۔ اور چہارم سے مراد صالحین ہے اور پنجم سے مراد مفسدین ہیں۔ کیا معنی؟ کہہ میں اس خدا کے حضور پناہ گزین ہوتا ہوں جو ربّ الناس ہے، چھوٹے ناتواں بچوں کے واسطے بھی تمام سامانِ پرورش کرتا ہے۔ اور مَلِكِ النَّاسِ ہے۔ نوجوان جوشیلے لوگ سب اس کے قابو میں ہیں، إِلٰهِ النَّاسِ ہے۔ جب بڑا آدمی ہوتا ہے۔ اور چالیس سال سے زیادہ عمر پاتا ہے، تب اس کے عقائد اور معرفت کمال کو پہنچتے ہیں اور عادتیں کی پر پختہ ہوجاتی ہیں۔ اور اپنے خدا کی عبادت میں پکا ہوجاتا ہے، ایسے لوگوں کا معبود وہی خدا ہے، اس خدا کے حضور میں مَیں خنّاس کے وساوس کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔ جو يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (الناس:6) نیک لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔ وہ خناس کچھ جنّ ہیں اور کچھ مفسد انسان ہیں۔

یہ ایک عجیب دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے خود ہم کو سکھائی ہے۔ اس کے کسی قدر ہم معنے وہ دعا ہے جو دوسری جگہ قرآنِ شریف میں آتی ہے اور وہ اس طرح ہے۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا (آل عمران:9) اے ہمارے رب بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائی۔ ہمارے دلوں کو کج نہ کر یعنی ایک دفعہ جس نیکی کو ہم حاصل کریں۔ وہ استقامت کے ساتھ ہمارے اندر قائم رہے۔

یہ سورۃ شریفہ قرآن شریف میں سب سے آخری دعا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ یہ قرآن جس کے پڑھنے کی تو نے ہم کو توفیق دی ہے۔ اب ایسا کر کہ ہمارے دل اس پر ایمان کے واسطے ایسا پختہ رہیں کہ اس کلام کے متعلق کوئی وسوسہ اور بدخیال کبھی ہمارے دل میں نہ آنے پاوے۔ اور ہم اس پر عمل کریں اور تیرے نیک بندوں میں شامل ہوجاویں۔ قرآن شریف کے ذریعہ سے رحمان خدا نے کس قدر رحمت دنیا پر نازل فرمائی۔ تمام احکامِ شریعہ، گزشتہ بزرگوں کی نیک مثالیں، طریقِ دعا، غرض ہر شے ضروری کی تعلیم دی گئی ہے۔

یہ سورہ شریفہ کے شروع میں انسان کا نام تین بار لیا گیا ہے۔ اور ہر بار اللہ تعالیٰ کا ایک جدا نام پر رکھا گیا ہے۔ یعنی پہلی دفعہ رَبّ النّاس کہا گیا ہے۔ دوسری بار مَلِكِ النَّاسِ فرمایا ہے اور تیسری بار إِلٰهِ النَّاسِ مذکور ہوا ہے۔ ہر سہ صفات الٰہیہ انسان کی تین مختلف حالتوں کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے تین فیضانوں کی طرف جو انسان کی ان حالتوں پر وارد ہوتے ہیں اشارہ کرتی ہیں۔

انسان بلحاظ اپنی روحانی ترقی یا تنزل کے تین درجے رکھتا ہے۔ سب سے ادنٰی درجہ کا انسان وہ ہے جسے کچھ خبر نہیں کہ حصولِ نیکی اور حصولِ معرفت الٰہی کیا شے ہے اور وہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ ایسے شخص کے واسطے نیکی بدی سب برابر ہیں۔ اگر وہ بدی کرتا ہے تو اسے کبھی کچھ فکر نہیں ہوتا کہ میں بدی کرتا ہوں۔ اس کا نفس اس پر نہ صرف غالب ہے۔ بلکہ پوری طرح اس پر حکمران ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین اور دینداری کیا لطف اپنے اندر رکھتی ہے اور نہ دینداروں کی محبت اختیار کرتا ہے اور نہ اس کو کبھی یہ خواہش ہی پیدا ہوتی ہے کہ دیندار بنے، وہ اپنی حالت میں مِثل ایک بےخبر کے پڑا ہے جس نے معرفت کا کبھی نام بھی نہیں سنا۔ یہ شخص نفسِ امّارہ کے ماتحت ہے، پر خداتعالیٰ ان سب کے واسطے ربّ النّاس ہے۔ یعنی وہ سب کی پرورش کرتا ہے، جو لوگ خداتعالیٰ کو نہیں مانتے اور دہریہ ہیں ان سب کی پرورش کرتا ہے، گو ایسے لوگوں کے واسطے ایک وقت عذاب کا بھی بالآخر آجاتا ہے۔ مگر سرِدست وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ربوبیت سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، اس لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ ربّ النّاس ہے۔ جو لوگ نیکی کرتے ہیں، ان کی پرورش ہوتی ہے۔ جو بدی کرتے ہیں ان کی پرورش ہوتی ہے، بارش آتی ہے تو نیک و بد سب کے کھیت کو سیراب کرجاتی ہے۔ اور سورج نکلتا ہے تو کافر اور مومن سب کو روشنی دے دیتا ہے۔ ہوا چلتی ہے۔ تو مسلم اور غیرمسلم سب کو اپنا فائدہ پہنچا دیتی ہے، اس لحاظ سے خداتعالیٰ کی ربوبیت عام ہے۔ وہ تمام جہان کے لوگوں کا ربّ ہے، کوئی بڑا ہو یا چھوٹا ہو، امیر ہو یا غریب ہو۔ دانا ہو یا بیوقوف ہو، عالم ہو یا جاھل ہو، بادشاہ ہو یا رعایا ہو، ہر ایک کو اس کی ربوبیتِ عامہ سے حصہ دیا جاتا ہے، اس لحاظ سے وہ ربّ النّاس ہے۔

درمیانہ درجہ کے لوگ جو ادنیٰ سے اوپر کے درجہ کے لوگ ہیں، وہ ہیں جن کو معرفتِ الہٰی کا شوق پیدا ہوگیا ہے، انہوں نے جان لیا ہے کہ نیکی عمدہ شے ہے اور خواہش رکھتے ہیں کہ اپنی موجودہ حالت سے نکلیں اور ترقی کریں اور آگے قدم رکھیں۔ بدیوں کو چھوڑیں، اور نیکیوں کو اختیار کریں۔ لیکن ان کا نفس ہنوز ان پر غالب ہے۔ مگر بسبب کمزوری پھر بھی کسی نہ کسی وقت بدی میں گر جاتے ہیں۔ اُٹھتے ہیں، اور پھر گِر جاتے ہیں، پھر اُٹھتے ہیں اور پھر گِر جاتے ہیں، یہی حالت انکی ہوتی رہتی ہے۔ وہ دل سے سچی توبہ کرتا ہے کہ اب آئندہ یہ کام نہ کروں گا، لیکن نفس کے جذبہ کے وقت پھر کربیٹھتا ہے، اور خداتعالیٰ کی غفّاری اور ستّاری کی طرف پھر جھکتا ہے اور اس کی رحمت کے حضور میں فریادی ہوتا ہے، اور اپنی کمزوری کے سبب نالاں رہتا ہے اور شب و روز اس فکر میں سرگرداں پھرتا ہے کہ کب وہ وقت آئے گا کہ پھر بدی اس کے قریب کبھی نہ آئے گی۔ وہ اقرار کرتا ہے کہ میں ایک بادشاہِ حقیقی (مَلِكِ النَّاسِ) کی حکومت کے ماتحت ہوں اور اس کے قوانین کی فرماں برداری مجھ پر واجب ہے، اس واسطے وہ قواعدِ شریعہ کی پابندی کے واسطے ہر وقت سعی کرتا رہتا ہے لیکن اپنی کمزوری اور اپنے ضعف کے سبب غلطی کر بیٹھتا ہے، اور اپنے بادشاہ سے معافی کا طلبگار ہوتا ہے، ایسے شخص کا نفسِ لوّامہ ہے، وہ غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن اس غلطی پر راضی نہیں رہتا بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے اور غمگین ہوتا ہے، اور افسوس کرتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کام کیا اور پھر توبہ کرتا ہے، اور ہر دفعہ اس کی توبہ سچے دل کے ساتھ ہوتی ہے اور توبہ کے وقت وہ کبھی وہم نہیں رکھتا کہ دوبارہ یہ کام کرے گا، اسی واسطے خداتعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے۔ اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے، اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔

اس سے بڑھ کر درجہ والے وہ لوگ ہیں، جو ہر طرح سے تمام گناہوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ اور ان کے نفسانی جذبات ٹھنڈے ہوچکے ہیں۔ اور اب کوئی بدی ان کو دکھ نہیں دیتی۔ بلکہ وہ آرام اور اطمینان کے ساتھ اپنے خدا کی بندگی میں مصروف ہیں۔ وہ خداتعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرا چکے ہیں اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک ان کے دل میں باقی نہیں رہا اور انہوں نے اس واحد خدا کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضاء و قدر کے امور کو بدل و جان قبول کرلیا ہے۔ اور نہایت نیک نیتی اور تزلزل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانون اور تقدیروں کو باارادت تمام سر پر اٹھا لیا۔ اور نیز وہ تمام صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علوّ مرتبہ کو معلوم کرنے کے لیے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء پہچاننے کے ایک قوی رہبر ہیں، بخوبی معلوم کرلیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو نفس مطمئنہ رکھتے ہیں اور بہ سبب اس کے ان کے افعال، اقوال، حرکات، خیالات، عبادات وغیرہ میں ان کا مقصود، محبوب اور معبود صرف اللہ ہی ہے، جو کہ إِلٰهِ النَّاسِ ہے۔

باقی انشاء اللہ آئندہ قسط میں…