//سرپرائز یا پریشانی

سرپرائز یا پریشانی

تحریر: امة الرشید -آزاد کشمیر

ایک وہ دور تھا جب ٹیلی فون بھی عام نہیں تھے۔دور دراز دیہاتوں میں اس کا تصور بھی نہیں تھا۔خط لکھنے کا رواج تھا۔اپنے پیاروں سے رابطے کا سستا ترین ذریعہ تھا۔اپنے جذبات اور احساسات کو کاغذ پر تحریرکر کے ڈاک کے سپرد کر دیا جاتا اور پھر جواب کے انتظار میں دن گنے جاتے تھے۔اس انتظار کا بھی الگ مزہ ہوتا تھا۔اچانک کوئی وفات ہو جاتی تو بذریعہ تار اطلاع دی جاتی یا بندہ بھیج دیا جاتا تھا۔

تب اچانک مہمان آ جائے تو بے انتہا خوشی ہوتی تھی۔مہمان اور میزبان نہایت محبت اور خلوص سے ملتے تھے۔کسی کے اچانک آ جانے سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔شاید لوگ تکلفات سے آزاد تھے۔گھر میں جو پکا ہوتا مہمان کے آگے پیش کر دیتے تھے۔یا گھر میں دستیاب دیسی مرغ سے تواضع کر دی جاتی تھی۔بہر حال مہمان کا آنا باعث رحمت خیال کیا جاتا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔رابطوں میں سہولیات پیدا ہو گئیں۔تیز ترین ذرائع آمد و رفت اور موبائل انٹر نیٹ نے فاصلوں کو کم کر دیا۔ پھر بھی انسان کے اندر یہ دبی خواہش پائی جاتی رہی کہ وہ اچانک ملاقات کر کے کسی اپنے کے لیے خوشی کا ذریعہ بنے۔ دوسرے لفظوں میں اسے سرپرائز کا نام دیا جاتا ھے۔سرپرائز مختلف صورتوں میں دیے جاتے ہیں۔کبھی تحفہ کی صورت میں کبھی ملاقات کی صورت میں۔آج میں ملاقات کے حوالے سے بات کروں گی۔

موجودہ دور میں شاید مصروفیات کے بڑھ جانے کی وجہ سے اور وقت کم ہونے کی وجہ سے اس طرح کے سرپرائز میزبان کے لیے تو پریشانی کا باعث بنتے ہیں لیکن بعض اوقات سرپرائز دینے والے بھی پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ہمارے عزیز دوسرے علاقے میں کام سے گئے۔ان کی بیگم بھی ہمراہ تھیں۔شادی کو بھی چند دن ہی ہوئے تھے۔کام کے بعد انہوں نے اپنی کزن کے گھر جانا تھا۔خیر فارغ ہو کر جب وہاں گئے تو گھر میں تالا لگا ہوا تھا۔کزن جاب پر تھیں۔ان کے گھر کے ساتھ ہی چار دیواری والا خالی پلاٹ تھا۔گھاس وغیرہ اگی تھی۔اور لکڑی کا چھوٹا سا دروازہ تھا۔وہاں جا کر بیٹھ گئے اور کزن کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔اتنے میں مالک مکان آ گیا۔اس نے مشکوک نظروں سے دیکھا اور پھر وہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی۔انہوں نے کزن کے گھر آنے کا بتایا۔

مالک مکان انگلینڈ سے آئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے پہلے بتایا ہوتا تو اس طرح باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ہم لوگ جہاں جاتے ہیں پہلے اطلاع کر کے جاتے ہیں تاکہ میزبان اور مہمان دونوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس لیے ہمیشہ اطلاع کر کے دوسرے کے گھر جائیں۔اس طرح انہوں نے تہیہ کیا کہ آئندہ یہ غلطی کبھی نہیں کریں گے۔

ان دنوں پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ آئے روز وطن واپس آنے والوں کے ساتھ ڈکیتی کے واقعات پیش آنے کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ان واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ گھر والوں کو آنے کی پیشگی اطلاع دی جائے اورگاڑی کا انتظام کروایا جائےتاکہ آپ حفاظت سے گھر پہنچ جائیں۔

اسی طرح چند ماہ پہلے کی بات ہے۔ کینیڈا سے ایک آدمی کافی عرصہ کے بعد چکوال آیا۔اپنے آنے کی گھر والوں کو اطلاع نہیں دی۔دل میں یہی خیال کہ اچانک دیکھ کر سب بہت خوش ہوں گے۔ائیر پورٹ سے ٹیکسی لی۔راستے میں ڈاکوؤں نے اسلحہ کی نوک پر سب کچھ لوٹ لیا۔ خالی ہاتھ ویرانے میں پھینک کر چلے گئے۔اگلی صبح بے ہوشی کی حالت میں کسی نے ہسپتال پہنچایا۔ہوش آنے پر گھر کا پتہ بتایا۔اور گھر والے آکر لے گئے۔

ایک سرپرائز کی خاطر اپنی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔اور ذہنی اذیت الگ برداشت کرنی پڑی۔اور اچانک خوشی دینے کے بجائے غمگین صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ایک کو اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے تکلیف دہ واقعات سے بچنے کے لیے پوری منصوبہ بندی کر کے گھروں سے قدم نکالنے چاہیے۔چاہے اندرون ملک سفر ہو یا باہر سے تشریف لا رہے ہوں۔

اور میرے خیال میں بتانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہےکہ ہم اپنے پیاروں کی دعاؤں کے حصار میں ہوتے ہیں۔