//سرِ محفل چھپانا درد اک مدت میں سیکھا ہے
سرِ محفل

سرِ محفل چھپانا درد اک مدت میں سیکھا ہے

حمیرا ناصر


بنا کے سچ بیاں جھوٹی کہانی اب بھی ہوتی ہے

سر منبر یہی شعلہ بیانی اب بھی ہوتی ہے

بُلاکے درد من آنگن میں وحشت رقص کرتی ہے

پرانے زخم سے یوں چھیڑخانی اب بھی ہوتی ہے

سرِ محفل چھپانا درد اک مدت میں سیکھا ہے

اکیلے میں ان اشکوں میں روانی اب بھی ہوتی ہے

نہیں ہے وہ تو ہر منظر اداسی کا نظارہ ہے

مگر کہنے کو ظالم رت سہانی اب بھی ہوتی ہے

ہوئی مدت کہ ہر اک آرزو کو دفن کر ڈالا

سرِ مرقد مسلسل نوحہ خوانی اب بھی ہوتی ہے