//سرمئی شام

سرمئی شام

. تحریر سلمیٰ قریشی سرگودھا پاکستان

ڈھلتے سورج نے جاتے جاتے شفق کا غازہ اپنے رخساروں پر مل کر بادلوں کی سنہری گوٹا لگی نقاب اوڑھ لی تھی اور اب دھیرے دھیرے سُرمئی شام کو الوداع کر رہا تھا … اونچی نیچی دو رنگی پہاڑیوں سے گھری وادی بڑے سے پیالے کی مانند اپنے باسیوں کو خود میں یوں سما کر رکھے ہوئے تھی جیسے ماں شام ڈھلے اپنے بچوں کو سمیٹ لے… ایسے میں وادی کی رومانویت بھری، پر اسرار فضا کو گھروں کو لوٹتے پرندے کچھ اور گمبھیر بنا رہے تھے ۔

اس خطۂ زمین کے دن اور رات پر ایک مخصوص خاموشی کا راج تھا ۔پہاڑوں اور اسکے مکینوں نے ایکدوسرے کے مزاج کو اپنا کر اپنی ایک الگ پہچان بنا لی تھی ۔

یہ وادئ سون تھی جس کی مٹی نے ایسے جفاکش بیٹوں کو جنم دیا تھا جو پتھریلے رستوں پر قدم مارتے، چشموں کے بیچوں بیچ راستہ بناتے، اپنے ہاتھوں سے کانٹوں بھری جھاڑیوں کو لخت لخت کرتے جنگلی جانوروں کو للکارتے بچپن بتاتے ہوئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے…انکے قدم مضبوط اور لہجے میں اس شہد کی مٹھاس گھلی تھی جسے وہ خود کیکر میں چُھپے چھتوں سے اتار اتار کر مٹکیاں بھرتے تھے ۔آزاد فضاؤں میں پلنے والے یہ بظاہر لاابالی سے نوجوان آزادی کی قدر پہچانتے تھے…وہ آزادی حاصل کرنا بھی جانتے تھے اور اسے قائم رکھنا بھی… یہ اعتماد انہیں اسی دھرتی نے دیا تھا…ہاں یہ دھرتی اتنی ہی مہان تھی  اپنے سپوتوں، اپنے جوانمردوں کو اپنی گود میں کھلاتے جوان کرتی اور یہ کڑیل جوان جب دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے نظریں جھکانے پر مجبور کرنے کے قابل ہوتے تو بڑے مان سے انہیں وطن کے حوالے کر دیتی کہ جاؤ…میں نے اپنے سینے پر ہل چلا چلا کر تمہارے لئے جو اناج اُگایا اب اُس کا خراج ادا کرنے کا وقت آ گیا ۔ الوداع ، میرے بیٹو ، تمہاری جان تمہارے وطن کی امانت ہے… غازی بن کر لوٹنا یا شہادت کا تمغہ میرے سینے پرسجانا…پیٹھ دکھانا تمہارے لہو کی صفت ہی نہیں…قبیلے کے دراز قد، چھریرے بدن نوجوانوں کا گرم خون وطن کی حفاظت میں بہہ جانے کیلئے جوش مارنے لگتا … اکثر نوجوان ابتدائی تعلیم حاصل کرکے فوج میں بھرتی ہونے کے لئے میدانوں میں اترتے اور بدن پر خاکی وردی سجائے پھر دور دراز سرحدوں پر بچھ جانے کو نکل کھڑے ہوتے ۔

گلریز خان اعوان بھی اسی گلرنگ  وادی کی کھلی فضاؤں میں پلا بڑھا ، بچپن بِتاتا تھا ۔ جب مسیں بھیگنے لگیں اور سبزۂ خط نمودار ہوا تو اجداد کے فخر کو قائم رکھنےاور اپنی سخت کوشی کو آزمانے، ارضِ پاک کی حفاظت کا عہد نبھانے کو نکل کھڑا ہوا ۔

چھ ماہ بعد چھٹی پر آیا تو بڑا بڑا اور ذمہ دار لگنے لگا تھا … اب  ماں کو اس کے سر پر سہرا سجانے کی فکر ہوئی اور چٹ منگنی ، پٹ بیاہ …اماں اپنی بھتیجی کو لال جوڑا پہنا کر گھر لے آئی…بچپن کی منگ تھی ، دیر کاہے کو ہوتی …شرمائی لجائی زلیخا آنگن میں اتری تو سب چہرے کھل کھل اُٹھے … گلریز خاں بھی بوسکی کی قمیض، کڑکڑاتی لٹھے کی شلوار ، ریشمی واسکٹ اور پشاوری چپل پہنے اندر باہر کھی دوستوں کے ساتھ ، کبھی گھر کے چکر لگاتا رہا…

پھر چھٹیاں ختم ہو گئیں، ماں نے بلائیں لیں، باپ نے کاندھے تھپتھپائے، بیوی الٹے قدموں واپس اندر چلی گئی … کیسے رخصت کرتی ، وہ سمجھ نہ پائی تھی…

وطنِ عزیز کو سرحدوں کے اندر سے دشمن نما  دوستوں  اور باہر سے دوست نما  دشمنوں نے گھیر رکھا تھا … جانباز سپاہی ایسے میں چومکھی لڑ رہے تھے… چھٹیاں منسوخ ہو گئیں…گلریز خان عید پر بھی گھر نہ جا سکا … بیٹے کی پیدائش کی خبر اور تصویر اسے موبائل پر مل گئ اور جوابی چٹھی چلی گئی ۔

آج شام گلریز خاں آ رہا تھا… بڑی آن بان سے ، بڑی شان سے ، اسی وقار سے جو اس وادی کی انفرادیت تھی…جس سے وادی کا قبرستان قدروقیمت میں زمین سے کہیں بلند ہو گیا تھا … وادی کی پر اسرار خاموشی نے ٹھہری ٹھہری سرمئی چادر سے ساری فضا کو ڈھانپ لیا تھا ۔

گاؤں سے باہر جانے والے راستے کو صاف کر کے چونے کی دورویہ لکیر کھینچ دی گئ  …کھلے میدان میں شامیانہ لگا کر صفیں بچھا دی گئیں… کچھ دور عارضی ہیلی پیڈ بھی بن گیا تھا…سب کام ایک میکانکی انداز میں یوں انجام دئے جا رہے تھے جیسے پورا گاؤں تربیت یافتہ ہو …گاؤں کے بوڑھے،بچے،جوان صاف ستھرے دھلے دھلائے خاموشی سے ایک ایسے معمول کے ساتھ جمع ہو رہے تھے جو غیر معمولی تھا ۔

فضا میں سیاہ نقطہ نمودار ہوا… نگاہیں اوپر اُٹھ گئیں…گلریز آ رہا ہے   ہیلی کاپٹر کا شور ہیلی پیڈ پر اُتر کر رُک گیا …چند باوردی فوجی جوان باہر آئے اور مستعدی سےسبز قومی پرچم میں لپٹے تابوت کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ پنڈال کے باہر رکھ دیا گیا …باپ نے جوانمرگ سپاہی بیٹے کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی تھی … سپاہی گلریز خان کو سلامی دی گئی… جب لحد میں اتارا گیا تو شام کچھ اور گہری ہو چکی تھی …

گلاب کی پتیوں نے اسکی قبر  کو ڈھانپ لیا تھا ۔ سرمئی شام اور خوشبو آپس میں گھل مل گئے تھے ۔ گلریزخان نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو بہت آگے جاکر تباہ کر دیا تھا مگر واپسی پر دشمن کی بچھائی بارودی سرنگ کا نشانہ بن گیا۔اپنی جان وار دی تھی اس نے مادرِ وطن کو بچانے کیلئے …

اسکی فوجی کیپ اور سبز پرچم کے ساتھ رکھا ستارۂ جرأت کا اعزاز جب اسکے والد کے سپرد کیا گیا تو انہوں نے کمال ضبط سے اسے سینے سے لگایا اور اندر لے آئے… غم سے نڈھال ماں نے تمغے کو بے تحاشہ چومتے ہوئے میز پر رکھی گلریز کی تصویر پر سجا دیا …تب زلیخا خاموشی سے اُٹھی اور گلریز کی کیپ جھولے میں لیٹے گلباز خان کے سر پر رکھ دی …اُس لمحے سرمئی شام کا سارا کاجل اسکی آنکھوں میں پھیل گیا تھا…

اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں