//زندگی اے زندگی

زندگی اے زندگی

تحریر سعدیہ تسنیم سحر

کلديپ کور نےاٹھارہ سال کا وچھوڑا کاٹنے کے بعد مہار موڑي تو ٹھٹک کے رہ گئي … ٹھنڈي ٹھار … جيسے ايلس کسي ونڈر لينڈ ميں آ گئي ہو … اٹھارہ ورے اتنے انجان اور اتنے لمبے ہوتے ہيں وہ سوچتي جاتي۔ اور باہر ديکھتي جاتي … وہ جو رات کو چوروں کي طرح ہر بچن سنگھ کے ساتھ بھاگي تھي کہ باپو کا طے کردہ رشتہ اسے اپني موت لگتا … “زندگي ايک بار ہي ملتي ہے اسے اپني مرضي سے جينا چاہيئے “ ہر بچن اسے سکھاتا …  تين ہفتے کي دوستي نے اٹھارہ سال کے پيار کو ہرا ديا … “بس کل پرسوں واپس آ کر ماں اور باپو کو منا لے گي ايک بار پھيرے ہو گئے تو پھر عزت کي خاطر باپو بھي مان جائے گا۔ اتنا تو پيار کرتا ہے” وہ سوچتي  اسپ کي اڑھائي گھر کي چال سےباد شاہ کو شہ دے کر وہ مطمئن تھي … جواني کا جوش بچھي ہوئي بساط پر غور کب کرنے ديتا ہے …  تين چار دن کا وچھوڑا کب وروں ميں بدلا پتہ ہي نہ چلا ہر بچن جو اسے اپني جندڑي سے زيادہ عزيز تھا اس نے لندن پہنچنے کے کچھ ماہ بعد ہي رنگ دکھانا شروع کر ديا … پہلے پہل تو کچھ خيال کرتا رہا پھر تو اس نے لحاظ ہي اتار ديا … تيرے ميرےکے آگے رلتے ہوئے کب زندگي کي ريل گاڑي نے کانٹا بدلا کچھ پتہ ہي نہ چلا … جب خون تھوکنے پر آگئي تو شکاري نے اسے آزاد کر ديا … اونچا اڑنے کے شوق ميں ہانپتي چڑيا کي سانس ميں سانس نہ ملتي تھي … پاني کا قطرہ حلق ميں اٹک گيا تھا … اتنا لمبا پينڈا کيسے طے کرتي … گھر واپس کيسے جاتي … رات کے اندھيرے ميں کمائي ہوئي رقم کي ايک پيني بھي ہاتھ ميں نہ تھي … کس کے آگے ہاتھ جوڑے اور کس کے پاؤں پڑي کچھ ياد نہ تھا صرف يہ ياد تھا کہ ماں اور باپو سے جا کر معافي مانگني ہے … ”يہ گلي ہے۔ميرے گھر کي “ وہ رکشے والے کو بتاتي “نہيں يہ نہيں ہے” قريب پہنچ کروہ بيان بدل ليتي … جس گھر کے بارے ميں اسے يقين تھا کہ وہ آنکھ بند بھي کر لے تو پہنچ جائے گي وہ گھر مل کر ہي نہ دے رہا تھا … رکشے والا بڑبڑاتا گالياں ديتا اسے اتار کر چلا گيا۔ پيدل چلتي وہ ڈھونڈتي رہي … جگوحلوائي کي دوکان کہاں گئئ … وہ امرتياں … وہ بالو شاہياں … بابے جہانے کے دوکان کہاں گئي… اماں رسولاں کا تنور… جب وہ گئي تھي تو باپو نے بھي اسے ڈھونڈا ہو گا۔ اسي طرح تڑپا ہو گا …  اٹھارہ سال پہلے کي اس کرلاہٹ نے آج بے تاب کر ديا …  تھک کر ايک لکڑي کے دروازے کے ساتھ ٹيک لگا کر بيٹھ گئي۔ ’’ارے يہ تو چاچا لچھمن داس ہے‘‘ اس نے ساتھ والے گيٹ ميں سے ايک بوڑھے کو نکلتے ديکھ کر سوچا… اس کا مطلب ميں اپنے دروازے کے آگے ہي بيٹھي تھي۔ وہ بے چين ہو کر اندر لپکي… ’’ايتھے تے اسيں رہندے آں “…سوال کرنے پر گھر کي مالکن نے جواب ديا …’’جيہرے پہلے رہندے سن او تے ورے ہوئے پار ہو گئے انہاں دياں قبراں اسي ويہڑے وچ اي نئيں … کہندے سي کسي نے پرت کے آناں اے … پہلاں بڑھي مري بعدوں بڑھا وي گيا …‘‘اولاد کي آنکھ سے لحاظ اتر جائے تو ماں باپ کو اپني عزت و غيرت کو جندرا مار کے چابي کھوہ ميں پھيکني پڑتي ہے … اسے لگا قبروں ميں سے آواز آرہي ہے۔… زندگي شطرنج کي بساط جيسي ہے وہ نئي منزلوں کو کھوجنے پر اکساتي ضرور ہے، مگر ہر بار نئي چال چلنے کا موقع ملے يہ ضروري نہيں بعض اوقات وہ “شہ “ اور ’’شہ مات‘‘ بھي کہہ ديتي ہے …