//زرتشت مجوسی پارسی

زرتشت مجوسی پارسی

يہ تينوں نام ايک ہي مذہب کے ہيں اس مذہب کي تاريخ کافي پراني ہے، اکثرمحقيقين کا خيال ہے کہ يہ مذہب نمرود کے زمانے سے پہلے کا ہے۔

يہ خدا کو واحد مانتے ہيں اپني کتاب ويستا (VESTA) کو آسماني کتاب مانتے ہيں خدا کو آہورا مزدا (Ahura Mazda) کے نام سے ياد کرتے ہيں اور آگ کو پاک مانتے ہيں۔ان کا عقيدہ ہے کہ آگ ہر ناپاکي سے مبرا ہوتي ہے اس لئے خدا آگ ميں رہتا ہے وہ اپنے گھروں اور معيدوں (يعني لوٹانے والوں) ميں ہر وقت آگ روشن رکھتے ہيں اور دن ميں پانچ وقت کي نماز پڑھتے ہيں اسي لئے ان کو آتش پرست بولا جاتا ہے۔يہ اپنے نبي کے قرب قيامت دوبارہ آنے کے قائل ہيں سال ميں ايک بار قرباني کرتے ہيں پہلے تو اس دن جانور ذبح کرتے تھے پر اب کچھ تو جانور ذبح کرتے ہيں اور کچھ صرف پھل وغيرہ تقسيم کرتے ہيں۔ان کے عقيدہ کے مطابق ہر دور ميں نبي آتے رہتے ہيں پر ہر نبي ويستا کي ہي تعليم ديتا ہے۔تيسري صدي عيسوي ميں ان کے عقيدے کے مطابق ان کے ايک نبي جس کا نام اردا تھا، کو معراج ہوئي اور وہ ايک براق پر بيٹھ کر خدا سے ملنے آسمانوں پر گيا تھا وہاں اس کو جنت دوزخ دکھائي گئي اور اس کو پل صراط سے بھي گزارا گيا اور آتے وقت خدا نے اس کو پانچ وقت کي نماز تحفے ميں دي اور کہا کہ جو بندہ پانچ وقت نماز نہيں پڑھے گا وہ سخت گناہ گار ٹھہرے گا يہ سارا واقعہ ان کي ايک اہم مذہبي کتاب “Book of Arda Veraf” ميں درج ہے۔ان کي پانچ وقت کي نماز کا زکر امام ابن کثير نے بھي اپني تفسير ابن کثير ميں کيا ہے۔ان کي مذہبي کتب پر اور ہر عبادت خانے کے باہر ايک پروں والے فرشتے کي شبيہہ ہوتي ہے-

زرتشتيت يا مزديسنا ايک قديم آريائي مذہب ہے، جس کا ظہور3500سال قبل فارس ميں ہواتھا۔ اس کو عام طور پر زرتشتيت کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے ماننے والوں کي تعداد بہت ہي کم ہے يعني پوري دنيا ميں ايک لاکھ تيس ہزار سے بھي کم زرتشتي ہيں۔ مگر يہ دنيا کے قديم مذاہب ميں سے ايک ہے۔ ايک ايراني پيغمبر زرتشت نے پارسي مذہب کي بنياد رکھي تھي اسے عام طور پر پارسي مذہب بھي کہتے ہيں۔ اس کے علاوہ اسے آتش پرستوں کا مذہب اور مجوسيّت بھي کہا جاتا ہے۔

ايران کے قديم مذاہب ميں زرتشتيت کو خاص مقام حاصل ہے۔ اس مذہب کے پيرو اب ايران ميں بہت ہي کم رہ گئے ہيں ليکن ايک خاص تعداد ہندوستان ميں موجود ہے جو پارسي کہلاتي ہے۔ زرتشت کي تعليم نے بابل اور يونان کے لوگوں کو کافي متاثر کيا تھا اور بعد ميں يہوديت اور خود مسيحيت پر اس کے اثرات پڑے ہيں۔ اس مذہب ميں اگرچہ يہودي مذہب يا اسلام کي طرح صاف اور واضح طور پر وحدانيت کا تصور تو نہيں ہے ليکن ايک مطلق خدا کے تحت دوسرے تمام چھوٹے خداؤں کو لانے کي کوشش ضرور کي گئي ہے۔

تاريخ

زرتشتيت سے پہلے ايران ميں جو مذاہب تھے ان کے بارے ميں تفصيلات بہت کم ملتي ہيں ليکن اس زمانہ کے مذاہب اور ہندوستان کے مذاہب ميں بڑي قربت نظر آتي ہے۔ اوستا اور ويد ميں بہت ساري چيزيں مشترک ہيں۔ دونوں ميں ايک ہي قسم کي کثرت پرستي پائي جاتي ہے۔ دونوں جگہ آگ کي پرستش ہے اور قرباني کے وقت ہندوستان ميں سوما (ايک قسم کي شراب) اور ايران ميں ہاوما استعمال ہوتي تھي۔ اوستا اور ويد ميں بيان کيے ہوئے ديوتا تقريباْ مشترک ہيں۔زرتشت ايک خدا اہورا کے پجاري تھے جو مزدا (دانا) کہلاتے تھے۔ زرتشت کي حمد يا گاتھا (Gathas) ميں جن مقامات يا شخصيتوں کا ذکر ہے، تاريخ ميں ان کا پتہ نہيں چلتا اور اس ليے صحيح زمان و مکان کا تعين کرنا مشکل ہے ليکن يہ بات کہي جا سکتي ہے کہ وہ مشرقي ايرن کے کسي حصہ ميں تھے اور مغربي ايشيا کے ترقي يافتہ حصوں سے دور رہتے تھے۔ يہ زمانہ سائرس دوم سے پہلے کا ہے جب ايران ابھي متحد نہيں ہوا تھا۔ ہخامنشيوں کے دور کي کسي تحرير اور آثار ميں بھي ان کا ذکر نہيں ملتا۔ اس کے بعد دارا اور اس کے جانشينوں کے آثار ميں بہت ہي معمولي اشارے ملتے ہيں۔ ہخامنشي دور حکومت ميں کچھ عرصہ کے ليے يہ سرکاري مذہب رہا۔ سکندر اعظم کے حملہ کے بعد ہخامنشي دور حکومت ختم ہو گيا۔ اس کے بعد زرتشتي مذہب کا زور بھي ٹوٹ گيا۔ ساساني دور حکومت ميں اسے پھر عروج حاصل ہوا اور چار سو سال تک يہ سرکاري مذہب رہا اور مسيحيت سے ٹکر ليتا رہا۔

635ء ميں عربوں نے يزدگرد سوم کو شکست دے کر ايران پر قبضہ کر ليا اور پورے ملک پر اسلام چھا گيا۔زرتشتيت کے لوگ چھوٹے چھوٹے گروہوں ميں اقليتوں کي طرح رہتے تھے۔ دسويں صدي عيسوي سے اس مذہب کے لوگ ترک وطن کر کے ہندوستان کے گجرت کے علاقے ميں بسنے لگے اور اپنے وطن کے ہم مذہب لوگوں سے ان کا تعلق ٹوٹ گيا۔ 1477ء ميں يہ تعلق پھر سے قائم ہوا۔ شروع ميں يہ کھيتوں ميں کسانوں کي طرح کام کرنے لگے ليکن انگريزوں کے اقتدار کے زمانے ميں انھوں نے تعليم، تجارت اور صنعت ميں زبردست ترقي کي اور صوبہ گجرات اور بمبئي کي معاشي زندگي ميں خاص مقام حاصل کر ليا۔زرتشتي مذہب اپنے شروع کے دور ميں شمالي ايران کے امن پسند و متوکل لوگوں کي عکاسي کرتا ہے۔ يہ لوگ اپنے دشمن خانہ بدوشوں سے بالکل مختلف تھے جو نيچر پرست تھے۔ کئي کئي ديوتاؤں کو مانتے تھے اور جن کي زندگي زيادہ تر گھوڑوں کي پيٹھ پر گزرتي تھي۔ زرتشت ان لوگوں کا مقابلہ ہميشہ اپنے لوگوں سے کرتے تھے۔ اپنے لوگوں کو وہ انصاف پسند و پاک باز (آشا) بتلاتے تھے اور خانہ بدوشوں کو جھوٹے اور دھوکا باز (درج)۔ زرتشت ہميشہ زمين کي پيداوار بڑھانے اور مويشيوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کي تلقين کرتے تھے اس ليے کہ مويشيوں کي محنت ہي سے غذا پيدا ہوتي ہے۔ چنانچہ انھوں نے ديوتا متھرا کے سامنے بيلوں کي قرباني منع کردي اور عبادت کے وقت ہاوما (ايک قسم کي نشہ آور چيز) کے استعمال پر بھي پابندي لگا دي۔

نظريات

زرتشتي مذہب کے مطابق اس ساري کائنات کي تاريخ (يعني اس کا ماضي، حال اور مستقبل) چار ادوار ميں تقسيم کي جاسکتي ہے جس ميں سے ہر ايک دور 3 ہزار سال کا ہے۔ پہلے دور ميں کسي مادہ کا وجود نہيں تھا۔ دوسرا دور زرتشت کي آمد کے عين پہلے کا ہے اور تيسرے ميں ان کي تعليم کي اشاعت ہوئي۔ پہلے 9 ہزار سالوں ميں نيکي اور بدي کي جنگ جاري رہي۔ نيک لوگ آہور مزدا کے ساتھ رہے اور بد لوگ اہرمن کے۔ ہر شخص کو موت کے بعد دوزخ پر کے پل (چنواتو پريتو) سے گزرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ بد ہے تو پل تنگ ہو جاتا ہے اور وہ دوزخ ميں گر جاتا ہے اور اگر نيک ہے تو اس کے ليے جنت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ چوتھے دور ميں دنيا کو بچانے والا “ساوشيانت” نمودار ہوگا۔ تمام مردے زندہ ہوں گے اور ان کے اعمال کا حساب کتاب ہوگا۔ بد ہميشہ کے ليے سزا کے مستوجب ہوں گے اور نيک ہميشہ کے ليے اپني نيکي کا پھل پائيں گے۔

زرتشتي مذہب ميں، جيسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، ثنويت نہيں بلکہ ايک طرح کي نيم ثنويت ہے۔ کيونکہ آخر کار فتح آہور مزدا ہي کي ہوتي ہے۔ زرتشتي مذہب ميں آگ کي جو اتني اہميت ہے اور مذہبي تقاريب ميں اس کي جو اس قدر حرمت دکھلائي جاتي ہے اس سے يہ ايک غلط خيال رائج ہے کہ ان ميں پہلے آگ کي پرشتش کا رواج تھا۔ اصل يہ ہے کہ نہ صرف آگ بلکہ پاني اور زمين بھي يعني خالص قدرتي اشيا آہور مزدا کي نمائندہ ہيں اور ان چيزوں کو پاک و صاف رکھنے کي ہر ممکنہ کوشش کي جاتي ہے۔

زرتشت مذہب کے مطابق انسان آزاد ہے کہ وہ نيکي يا بدي دونوں ميں سے ايک کا انتخاب کرے اور پھر اس کے پھل کے ليے تيار رہے۔ اس انتخاب ميں جسم اور روح دونوں کو حصہ لينا چاہيے۔ نيکي و بدي کي ٹکر جسم و روح کي ٹکر نہيں ہے اور اس ليے دوسرے قديم مذاہب کے برعکس تجرد اور کفارہ کے ليے روزے ممنوع ہيں۔ اس کي اجازت صرف روح کي پاکيزگي کے ليے ہے۔ بدي کے خلاف انسان کي جدوجہد منفي نوعيت کي ہے يعني اسے اپنے آپ کو ہميشہ پاک و صاف رکھنا چاہيے اور موت کي طاقتوں کو اس کا موقع نہيں دينا چاہيے کہ وہ اسے ناپاک بنا سکيں۔ اسي ليے مردہ چيزوں کو چھونے سے بھي پرہيز کيا جاتا ہے۔

زرتشتي اخلاقيات کي بنياد اس کے اعليٰ مذہبي فلسفہ پر ہے۔ انسان اس کائنات ميں ايک بے بس ہستي نہيں ہے۔ اسے انتخاب کي پوري آزادي ہے اور وہ پوري شان و شوکت کے ساتھ، اہرمن کے خلاف، نيکي کي فوج کا سپاہي بن سکتا ہے۔ اس مذہب کا نہايت سادہ ليکن بليغ فلسفہ يہ ہے” :نيچر ہي صرف پاک و صاف اور نيک ہے وہ دوسروں کے ساتھ ايسي کوئي چيز نہيں کرے گي جو وہ اپنے ليے پسند نہيں کرتي ہے”۔ اوستا نے انسان کے ليے تين فرائض مقرر کيے ہيں” :جو دشمن ہيں انھيں دوست بناؤ۔ جو بد ہيں انھيں نيک بناؤ۔ جو جاہل ہيں انھيں قابل بناؤ۔” سب سے بڑي نيکي زہد ہے اور اس ليے خدا کي عبادت پہلا فرض ہے اور اس کے ليے صفائي، قرباني اور دعا کا طريقہ اختيار کرنا چاہيے اور اس کے بعد عمل اور گفتار ميں ايمانداري اور عزت و احترام ملحوظ رہنا چاہيے۔ ايرانيوں سے سود لينا منع قرار ديا گيا تھا اور يہ ہدايت کي گئي تھي کہ قرض دار کو چاہيے کہ وہ قرض کو ايک مقدس امانت سمجھے۔ سب سے بڑا گناہ بے اعتقادي ہے۔ مرتد کے ليے موت کي سزا ہے۔

بعد کے دور ميں دوسرے مذاہب کي طرح زرتشت مذہب ميں بھي رسوم داخل ہو گئے۔ شروع ميں معبد بنانا اور بت رکھنا منع تھے۔ قربان گاہيں پہاڑيوں پر، محلوں ميں يا شہر کے مرکز ميں بنائي جاتي تھيں اور ان ميں آہور مزدا کے احترام ميں آگ جلائي جاتي تھي۔ بعد ميں ہر گھر ميں آگ جلائي جانے لگي۔ اسے کبھي بجھنے نہيں ديا جاتا تھا۔ جيسے جيسے زمانہ گزرتا گيا مذہبي پيشواؤں، پروہتوں وغيرہ نے بے شمار رسوم اس مذہب کا حصہ بناليں اور اس طرح مذہب کي شکل ہي بدل دي۔

مقدس کتب

پارسيوں کي مقدس کتابوں ميں دساتير اور آوستا شامل ہيں۔

دساتير کومزيد دو حصّوں ميں تقسيم کيا گيا ہے۔ خُرد (چھوٹا) دساتير اور کلاں (برا) دساتير۔

آوستا کو بھي مزيد دو حصوں ميں تقسيم کيا گيا ہے۔ خُرد (چھوٹا) آوستا اور کلاں (بڑا) آوستا جسے زند يا ماہا زند بھي کہا جاتا ہے۔

پارسيوں کے مذہبي صحيفے دو زبانوں ميں پائے جاتے ہيں۔ پہلوي (پہلوي دستاويز موجودہ فارسي دستاويز سے مشابہت رکھتي ہے) اور ژندي۔ ان دو زبانوں کے علاوہ، کچھ مذہبي مواد ايسي تحريري شکل ميں پايا جاتا ہے، جسے پڑها نہيں جا سکتا۔ کچھ زرتشتي دساتير کو زيادہ مستند سمجھتے ہيں جبکہ دوسرے آوستا کو زيادہ مستند سمجھتے ہيں۔

ژند آوستا   :      ژند اوستا کو تين حصّوں ميں تقسيم کيا گيا ہيں:

پہلا حصّہ، ونديد پر مشتمل ہے۔دوسرا حصّہ، سہ روزہ، ياشتس اور نياس پر مشتمل ہيں۔تيسرا حصّہ، گاتہاس، ياشا، وسپارد، افرينا گاہس اور متفرقات پر مشتمل ہيں۔

دساتير:      دساتير کا مطلب ہے دس حصوں پر مشتمل ايک کتاب “دس” کے معني ہے دس اور تير کا مطب ہے ايک حصہ۔ دساتير، دستور کي جمع بھي ہے، جس کا مطلب ہے، قانون يا مذہبي قاعدہ۔

زرتشتيت ميں خدا کا تصور

زرتشتي لوگ تو بنيادي طور پر آگ کي پوجا کرتے ہيں، تا ہم ان کي کتابوں ميں ايک خدا کا تصّور بھي موجود ہے۔زرتشتيت ميں خدا کے ليے “اہورمزدا” کا نام استعمال ہوتا ہے۔”اہور” کا مطلب ہے “آقا” اور “مزدا” کے معني “عقل مند” کے ہيں۔ يعني اہور مزدا کا مطلب ہے عقل مندآقا يا عقل مند مالک۔

زرتشت نے عبادت ميں کثرت پرستي يعني کئي ديوتاؤں کي پرستش کو منع کر ديا اور انھيں دو اقسام ميں بانٹ ديا۔ يعني ايک وہ جو فائدہ پہنچانے والے اور سچے تھے اور دوسرے وہ جو بدطينت اور جھوٹے تھے اور جن سے بچنا ضروري تھا۔ نيک طاقتوں ميں سب سے اونچا درجہ “اہورا مزدا” کا تھا۔ ان کي خدمت ميں چھ چھوٹے ديوتا ہوتے تھے (ويسے ابتدائي دور ميں صرف ايک ہي خدا مانا جاتا تھا)۔ يہ چھ ديوتا “اہورا مزدا” کے چھ پہلوؤں کي نمائندگي کرتے ہيں يعني نيک خيالات (وہومنا)، اعليٰ پايہ کي نيکي (آشا وہستا)، روحاني بادشاہت (کشتھرا ويريا)، مقدس زہر (اسپنتا ارمائتي)، کفارہ (ہارو وتات) اور لافانيت (امريتات)۔ شروع ميں يہ سب “اہورا مزدا” کے خواص تھے جو بعد ميں فرشتے بن گئے۔

نيک اہورا کے مقابلہ ميں بدروحيں تھيں جو ديو کہلاتے تھے جن کا سربراہ اہرمن تھا۔ زرتشتي مذہب کے نظريہ تخليق اور معاديات کي بنياد خير و شر کي ان دو بڑي طاقتوں کي کشمکش پر ہے۔

دساتير کے مطابق خدا کي صفات

دساتير ميں خدا کے ليے درج ذيل صفات بيان کي گئي ہيں:

وہ ايک ہے۔اس کا کوئي ہمسرنہيں۔نہ اس کي ابتدا ہے اور نہ ہي انتہا۔نہ اس کا کوئي باپ ہے نہ ہي کوئي بيٹا، نہ کوئي بيوي ہے اور نہ ہي اولاد ہے۔وہ بے جسم اور بے شکل ہے۔نہ آنکھ اس کا احاطہ کرسکتي ہے۔ نہ ہي فکري قوت سے اسے تصور ميں لايا جاسکتا ہے۔وہ ان سب سے بڑھ کر ہے جن کے متعلق ہم سوچ سکتے ہيں۔وہ ہم سے زيادہ ہمارے نزديک ہے۔

خدا کي صفات، آوستا کے مطابق

آوستا، گتھا اور ينس کے مطابق اہورمزدا کي کئي ايک صفات ہيں جن ميں سے چند درج ذيل ہيں:

خالق،بہت قوت،بہت عظمت والا، داتا ”ہدائي‘‘، سخي ”سپينٹا‘‘