//زخمی احساس

زخمی احساس

تحریر: ‎بشری عمر بامی

‎گاڑی کراچی کی شاہراہ پر رواں دواں تھی … اچانک ٹریفک کی بتی لال ہونے کی وجہ سے ڈرائیور نے بریک لگائی… ‎گاڑی میں ائیر کنڈیشن ہونے کے باوجود پسینے چھوٹ رہے تھے… بلا کی گرمی… میں کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام … اور دوپہر کا وقت… ‎لو کے تھپیڑوں سے بچاؤ کے لئے مردوزن منہ سر لپیٹے رواںدواں تھے… دفعتاً سڑک کے کنارے سے ذرا پرے… ایک بچے پر اسکی نظر ٹک سی گئی… جس کے کندھے پر ایک میلا … کچیلا تھیلا تھا… پیوند زدہ کچے ٹانکوں سے ٹکی ہوئی ……وہ رنگ برنگ بوسیدہ کترنیں … ادھڑ کر بار باراسکے پاؤں میں اٹک رہی تھیں..گرمی سے بے نیاز … بچہ… جو سا ت … آٹھ سال کا دکھائی دے رہاتھا… چہرے کی رنگت مسلسل لو کے طمانچوں نے تانبے کی مانند کر دی تھی۔‎مٹی سے اٹے بال … دھونا تو درکنار … کنگھی بھی نصیب نہ تھی… اس کی تیز نگاہیں لمحوں میں کوڑے کے ڈھیر سے مطلوبہ اشیاء چیل کی مانند اچک لیتیں … چننے میں ماہر … پھرتیلی انگلیوں کا مالک بچہ… تیزی سے ادھر ادھر ڈھیروں پر منڈلا رہا تھا… ‎وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی … ان ترقی یافتہ ممالک میں پروان چڑھتے… بچوں کی زندگی کے موازنہ کے تانوں بانوں … میں الجھ رہی تھی… ‎گاڑی گرم ہو گئی ہے… ڈرائیور کی آواز سے وہ چونک سی گئی … سبز اشارہ ہوتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی… اس کی نظر بچے سے ہٹ نہیں پا رہی تھی… ‎اچانک ایک روح فرسا منظر نے…اس کو تڑپاکر رکھ دیا… ‎بچے کے ہاتھ میں روٹی بالکل اچانک سے آگئی۔ رول کی ہوئی … چڑی مڑی سی… اس نے تھیلے کو زمین پر زور سے پٹخا … اور اس پر بیٹھ کر برستی آگ میں پیٹ کی آگ بجھانے لگا… اس کے دل دماغ سن سے ہو گئے … اعصاب شل ہونے لگے… ایک تلخ حقیقت اسکی روح کی کرچیاں کرچیاں کرچکی تھی … اس کو پلاسٹک … کاغذ اور لو ہا چنتے چنتےروٹی مل گئی تھی… ‎اپنے وطن کی مرجھائے ہوئے پھول کے لئے ایک زخمی احساس … دیار غیرمیں اسکے دل میں آج بھی کچوکے لگاتا ہے…