//رمضان المبارک کی اہمیت و برکات

رمضان المبارک کی اہمیت و برکات

تحریر: منزہ سلیم جرمنی

اللہ تعالی کے فضل سے رمضان اپنی تمام تر برکات کے ساتھ شروع ہونے کو ہے۔قران مجید اور احا دیثِ نبویہ صلی اللہ وعلیہ وسلم میںاس مہینے کے بہت سے فضائل کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ اور ان کے خلفاء کرام کے خطبات میں بھی اس مہینے کے تعلق میں تفصیل سے مضامین بیان کئے گئے ہیںجو ہمارے علم و عرفاں کو بڑھانے کا موجب ہیں۔رمضان کا یہ مقدس مہینہ اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ کے لیے ہر پہلو سے اکسیرکی صورت رکھتا ہے۔یہ وہ مقدس ایام ہیں جن میں انسان اپنی ساری زند گی کے لئے دینی و دنیاوی برکات سمیٹنے کی سعی کرتا ہے یعنی بلند و بالا روحانی عمارت کے لئے رمضان بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ دعا ہے کہ اس رمضان میں جبکہ ساری دنیا کرونا جیسے موذی مرض سے بچاؤ کی خاطر گھروں میں مقید ہو چکی ہے۔اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے غلام علیہ السلام اور ان کے خلفاء کے ارشادات کی روشنی میں بہت تضرع اور ابتہال کے ساتھ اپنے مالک حقیقی کے حضور گریہ و زاری کرنے کی تو فیق عطا فرمائے تا خدا آسمان پہ ہماری نیم شبی متضرعانہ دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے اور انسانیت پہ رحم فرمائے۔اور اس ناگہانی آفت سے دنیا کو نجات عطافرمائے۔اور رمضان کااکسیر ہمارے وجودوں کو تبدیل کرکے ہمیں نیا وجود عطا فرمائے جسکے ذریعے ہم اپنے خالق کے ساتھ ایک نئی شان اور نئے رنگ کا رشتہ استوار کرپائیں تا اس کے محبوب بندوں میں ہمارا شمار ہو۔آمین ثم آمین

اللہ تعا لیٰ قرآن کریم سورہ البقرہ آیت 184,میں فرماتا ہے یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون اے وہ لوگو !جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ روزے اسلام سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔چنانچہ کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جس میں روزوں کا ذکر موجود نہ ہو۔مذاہب عالم میں کسی نہ کسی شکل میںآج تک روزے رکھنے کا نظریہ ضرور ملتا ہے۔جیسا کہ ہندوئوں میں روزے کو ’’ورت‘‘یا ’’برت‘‘کہتے ہیں۔چین کے تائو ازم اور کنفیوژن ازم(confucianism)اور بدھ مت میں بھی روزوں کا ذکر موجود ہے۔بائبل میں بابل کی اسیری سے قبل روزے کے لئے اپنی جان کو دکھ دینے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔یہودیوں کا یہ وہی سالانہ روزہ ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بخشی تھی۔اسیری کے بعد چار مزید سالانہ روزے مقرر کئے گئے۔بائبل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں آتا ہے کہ انہوں نے چالیس دن رات مسلسل روزے رکھے جب کہ آپ کوہ سینا پر دس احکام لینے گئے تھے۔(خروج باب 34آیت 27,28)اسی طرح عیسائیت میں بھی روزوں کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چالیس دن رات کے روزے کا ذکر متی باب4میں ملتا ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل آئت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ روزے رمضان ہی کے مہینہ میں رکھنے ہیں۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ۔’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے‘‘۔

گزشتہ گناہوں کی معافی

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔(بخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان)’’

آنحضرت ﷺنے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔‘‘

(بخاری کتاب الصوم باب ھل یقال رمضان اور شہر رمضان)

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا’’روزہ ایک ڈھال ہے اور آگ سے بچانے والا ایک حصن حصین ہے۔‘‘(مسند احمد)

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔اللہ تعالی فرماتا ہے انسان کے سب کام اس کے اپنے لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہیں اور میں خود اس کی جزاء بنوں گا۔اللہ تعالی فرماتا ہے روزہ ڈھال ہے تم میں سے جب کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ بیہودہ باتیں کرے نہ شورو شر کرے اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو اس کو کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ؐکی جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور خوشگوار ہے کیونکہ اس نے اپنا یہ حال خدا تعالی کی خاطر کیا ہے۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں مقدر ہیں ایک خوشی اسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری اس وقت جب روزے کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوگی۔‘‘(بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر 1904)

ماہ رمضان کی پر حکمت تفسیر

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں:رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں رمضان میں چونکہ انسان اکل وشرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔دوسرے اللہ تعالی کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا،اس لئے رمضان کہلایا میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہو سکتی۔روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق وشوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں۔‘‘(ملفوظات جلد اول صفحہ 136)

ماہ رمضان کی عظمت

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام ماہ رمضان کی عظمت اور اس کے روحانی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:رمضان گزشتہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کل گیا تھا۔ ’’شھر رمضان الذی‘‘(البقرہ 186)سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے صوفیا ء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جائے اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔ انزل فیہ القرآن(البقرہ 186)میں یہی اشارہ ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور اغراض انسان کو اس نعمت سے محروم رکھتے ہیں۔

(ملفوظات جلد دوم ایڈیشن 1998 صفحہ 561-562)

اللہ محروم نہیںرکھتا

آپ ؑفرماتے ہیں :’’اگر خدا تعالی چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالی میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینہ میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا تعالیٰ اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت دردِدل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جُونہ ہو تو خدا تعالیٰ اسے ہر گز ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔‘‘(ملفوظات جلد دوم صفحہ563)

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ تقویٰ کی بہترین راہوں کے متعلق فرماتے ہیں :’’سب کے بعد تقویٰ کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے ایک وقت معین تک چھوڑتا ہے۔اب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کو استعمال کیوں کرے گا۔ روزہ کی غرض وغایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اللہ تعالی کو ناراض نہ کرے۔‘‘

(حقائق القرآن جلد اول صفحہ 302)

روزہ کیوں رکھا جاتا ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ اس اعتراض کے متعلق فرماتے ہیں کہ روزہ کیوں رکھا جاتا ہے اور پھر رمضان ہی میں کیوں رکھا جاتا ہے۔’’میں نے اس مضبوط اور محکم اصل کو لے کر کہا کہ دیکھو ہماری کتاب قرآن شریف روزہ کا حکم دیتی ہے تو اس کی وجہ بھی بتاتی ہے کہ کیوں روزہ رکھنا چاہئے۔لعلکم تتقون۔روزہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دُکھو ںسے بچ جائو گے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ رمضان کی برکت کے متعلق فرماتے ہیں :رمضان کی ایک برکت تو یہ ہے کہ اللہ تعالی اور ملائک سے مشابہت پیدا ہوتی ہے دوسرے خدا تعالیٰ کی قربت حاصل ہوجاتی ہے اور تیسرے یہ کہ دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہ تو روحانی فوائد ہیںاور جسمانی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان تکالیف اور شدائد کا عادی ہو جاتا ہے۔ جسمانی ترقیات بھی روحانی ترقیات کی طرح مجاہدات پر مبنی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہذب حکومتیں جو فوجیں رکھتی ہیں ان کے سپاہیوں سے باقاعدہ پریڈ کراتی رہتیں ہیں جس سے ان کے اندر شدت پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘

(خطبات محمود جلد 12 صفحہ274)

بہت سی برکتیں

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ ماہ رمضان کی برکات کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ماہ رمضان بہت سی برکتیں لے کرآتا ہے اور بہت سی برکتیں لے کر آگیا ہے۔ اس ماہ میں صرف روزے ہی رکھنے کا حکم نہیں، گو اس کی بڑی عبادت توا س طریق پر روزہ رکھنا ہے جس طرح اسلام نے بتایا ہے لیکن قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ روزے رکھنے کے علاوہ یہ ماہ دعائیں کرنے کا ہے،نوافل ادا کرنے کا ہے،ذکر الٰہی سے اپنے اوقات کو معمور کرنے کا ہے نیز یہ مستحقین کا خاص طور پر خیال رکھنے کا مہینہ ہے اور اگر انسان غور کرے تو یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو بڑے اور چھوٹے کو ایک ہی مقام پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور برابر کر دیتا ہے۔دن کے وقت بھوکا رہنے اور رات کے اوقات میں خدا تعالی کے حضور عاجزانہ جھکنے کے لحاظ سے چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں رہتی ان میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔‘‘

(خطبات ناصرجلد ہفتم صفحہ 154)

طبیعت میں انقلاب

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رمضان کے ایام میں روحانی انقلاب لانے کے بارے میں فرماتے ہیں ؛’’پس یقینا رمضان انقلاب لانے کا باعث بنتا ہے۔شیطان بھی اس میں جکڑا جاتا ہے۔جنت بھی قریب کر دی جاتی ہے لیکن اس کے لئے جو اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اپنے ہر قول و فعل کو خدا کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔خدا تعالی کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔خدا تعالیٰ کی حکومت کو اپنے پر قائم کرنے کی کوشش کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت اور بخشش جو عام حالات کی نسبت کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور اپنے نفس کے بتوں اور جھوٹے خدائوں کو جو لا محسوس طریق پر یا جانتے بوجھتے ہوئے بھی بعض دفعہ خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اڑادے، جب یہ کوشش ہو تو پھر ایک انقلاب طبیعتوںمیں پیدا ہوتا ہے۔‘‘

(الفضل انٹر نیشنل 17اگست2012ء)

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن پھر رمضان المبارک کا مہینہ ہماری زندگیوں میں آیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس مبارک مہینہ کو ’’شھر مبارک‘‘قرار دیا ہے اور اس وجہ سے اس مہینہ کو ’’سید الشہور‘‘ یعنی تمام مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے۔اسی مبارک مہینہ میں انسان کا ہر عمل دس گناہ سے سو گناہ تک اجر پاتا ہے۔یہ مبارک اور رحمت و مغفرت کا مہینہ ہے۔

ہمارے پیارے آقا و مولیٰ سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمدﷺنے رمضان المبارک کو ماہ ’’مواسات‘‘ یعنی ہمدردی اور بھائی چارے اور ’’اخوت‘‘ کا مہینہ قرار دیا ہے۔(مشکوٰۃ کتاب الصوم)امر واقعہ یہ ہے کہ کائنات میں ہمدردی و غمخواری میں کوئی شخص رسول ﷺسے بڑھ کر نہیں ہوا۔ آپ ؐبنی نوع انسان کے لئے بے حد ہمدرد تھے اور ہمدردی انسان کے لئے آ پ کا بحرِ سخاوت ہمیشہ جوش زن رہتا۔ بخاری شریف کتاب الصوم میں ہے کہ نبی ﷺسب لوگوں سے ذیادہ سخی تھے۔اور رمضان المبارک میں جب جبریل آپ ﷺسے ملتے تو سخاوت کا یہ بحر اور زیادہ جوش زن ہو جاتا تھا۔اور جبریل ہر رات آپ ﷺسے ملاقات فرماتے۔جس کے نتیجہ میں یہ سخاوت تیز ہوائوں سے بھی سبقت لے جاتی۔ہمارے پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خود ہی دوسروں کی ضروریات کا خیال نہ رکھتے بلکہ اپنے عُشاّق کو بھی اس کی طرف متوجہ فرماتے۔ حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔’’جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے اللہ اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔اور جو شخص کسی کی تکلیف اور بے چینی اس دنیا میں دور کرتا ہے اللہ قیامت کی تکلیف اور بے چینی اس سے دور کردے گا۔‘‘

(بخاری کتاب المظالم باب لا یظلم المسلم المسلم)

ہمدردی کا دائرہ بہت وسیع ہے

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ’’یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آجکل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخلص کرو۔نہیں میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالی کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔‘‘

(ملفوظات جلد نمبر 1،صفحہ217)

فیصلہ کُن رمضان بنا دیں

دنیا بلا شبہ ایک سرائے فا نی ہے اور حکم خدا ہوتے ہی یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔پس نہیں معلوم کہ دوبارہ ہماری زندگی میں رمضان کا بابرکت مہینہ آتاہے یا نہیں۔اس احساس کے ساتھ یہ مہینہ گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور دوسرے اپنی عبادات، ذکر الہیٰ اور دعائوں سے اسے ایسا مزین کریں کہ یہ ہر لحاظ سے ایک فیصلہ کن رمضان بن جائے۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا’’پس اے احمدی!اس رمضان کو فیصلہ کن رمضان بنا دو۔اس الٰہی جہاد کے لئے تیار ہو جائو،مگر تمہارے لئے کوئی دنیا کا ہتھیار نہیں ہے۔دنیا کے تیروں کا مقابلہ تم نے دعائوں کے تیروں سے کرنا ہے۔ یہ لڑائی فیصلہ کن ہوگی لیکن گلیوں اور بازاروں میں نہیں، صحنوں اور میدانوں میں نہیں بلکہ مسجدوں میں اس لڑائی کا فیصلہ ہونے والا ہے۔راتوں کو اٹھ کر اپنی عبادات کے میدانوں کو گرم کرو اور اس زور سے اپنے خدا کے حضور آہ وبکا کرو کہ آسمان پر عرش کے کنگرے بھی ہلنے لگیں۔ متی نصر اللہ کا شور بلند کر دو۔خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے سینوں کے زخم پیش کردو،اپنے چاک گریبان اپنے رب کو دکھائو اور کہو اے خدا

قوم کے ظلم سے تنگ آ کر میرے پیارے آج

شور محشر تیرے کوچہ میں مچایا ہم نے

پس اس زور کا شور مچائو اور اس قوت کے ساتھ متی نصر اللہ کی آواز بلند کرو کہ آسمان سے فضل اور رحمت کے دروازے کھلنے لگ جائیں اور ہر دروازے سے یہ آواز آئے الاان نصراللہ قریب۔۔۔۔۔سنو سنو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ اے سننے والو!سنو کہ خدا کی مدد قریب ہے اور پکارنے والو سنو! کہ خدا کی مدد قریب ہے اور وہ پہنچنے والی ہے۔(خطبات طاہر ؓ جلد 2صفحہ 349)خدا تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے اس رمضان سے کما حقہ ٗفائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اورساری دنیا کو اپنے پیارے خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بابرکت وجوداور رمضان المبارک کی برکت سے کرونا وائرس جیسی عالمی وباء سے محفوظ رکھے۔بار گاہ ایزدی میںیہ بھی عاجزانہ دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق بخشے کہ ہم اس رمضان المبارک اور مامور من اللہ کے ذریعہ عطا ہونے والی برکات و افضال اور رحمتوں سے وافر حصہ پانے والے ہوں۔آمین ثم آمین