//رضاعت اور ایام طفولیت

رضاعت اور ایام طفولیت

مکہ کے شرفاء ميں يہ دستور تھا کہ مائيں اپنے بچوں کو خود دودھ نہ پلاتي تھيں بلکہ عام طور پر بچے شہر سے باہر بدوي لوگوں ميں دائيوں کے سپرد کر دئيے جاتے تھے اس کا يہ فائدہ ہوتا تھا کہ جنگل کي کھلي ہوا ميں رہ کر بچے تندرست اور طاقتور ہوتے تھے اور زبان بھي عمدہ اور صاف سيکھتے تھے۔

آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کو شروع شروع ميں آپ کي والدہ نے اور پھر ثويبہ نے دودھ پلايا۔ ثويبہ آپﷺ کے چچا ابولہب کي لونڈي تھي جسے ابولہب نے اپنے يتيم بھيجے کي ولادت کي خوشي ميں آزاد کرديا تھا۔ اسي ثويبہ نے حضرت حمزہؓ کو بھي دودھ پلايا تھا گويا اس طرح حمزہ جو آپﷺ کے حقيقي چچا تھے دودھ کے رشتہ سے آپﷺ کے بھائي بن گئے۔ ثويبہ کي يہ چند دن کي خدمت آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کبھي نہيں بھولے جب تک وہ زندہ رہي آپﷺ ہميشہ اس کي مدد فرماتے رہے اور اس کے مرنے کے بعد بھي آپﷺ نے دريافت فرمايا کہ کيا اس کا کوئي رشتہ دار باقي ہے مگر معلوم ہوا کہ کوئي نہ تھا۔

ثويبہ کے بعد آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کي رضاعت مستقل طور پر حليمہ کے سپرد ہوئي جو قوم ہوازن کے قبيلہ بني سعد کي ايک خاتون تھي اور دوسري عورتوں کے ساتھ مل کر مکہ ميں دايہ کے طور پر کسي بچے کي تلاش ميں آئي تھي۔ايک يتيم بچے کو اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے حليمہ ابتداءً خوش نہ تھي، کيونکہ اس کي خواہش تھي کہ کوئي زندہ باپ والا بچہ ملے جہاں زيادہ انعام واکرام کي  اميد ہوسکتي تھي۔ چنانچہ شروع ميں اس نے آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جانے سے تأمل کيا مگر جب کوئي اور بچہ نہ ملا اور اس کے ساتھ کي سب عورتوں کو بچے مل چکے تھے تو وہ خالي ہاتھ جانے سے بہتر سمجھ کر آپﷺ کو اپنے ساتھ لے گئي۔ ليکن جلد ہي حليمہ کو معلوم ہوگيا کہ جو بچہ وہ اپنے ساتھ لائي ہے اس کا ستارہ بہت بلند ہے۔ چنانچہ اس کي اپني روايت ہے کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے آنے سے پہلے ہم پر بہت تنگي کا وقت تھا مگر آپؐ کے آنے کے ساتھ يہ تنگي فراخي ميں بدل گئي۔ اور ہماري ہر چيز ميں برکت نظر آنے لگي۔ حليمہ کا وہ لڑکا جو آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے ساتھ دودھ پيتا تھا اس کا نام عبداللہ تھا اس کي ايک بڑي بہن بھي تھي جس کا نام شيمہ تھا جو آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کو بہت عزيز رکھتي تھي۔

دو سال کے بعد جب رضاعت کي مدت پوري ہوئي تو دستور کے مطابق حليمہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم کو لے کر مکہ ميں آئي مگر اسے آنحضرتﷺ سے اتني محبت ہوچکي تھي کہ اس کا دل چاہتا تھا کہ اگر ممکن ہوتو آپ کي والدہ سے اجازت لے کر آپﷺ کو پھر واپس لے جاوے، چنانچہ اس نے باصرار کہاکہ ابھي اس بچہ کو کچھ عرصہ ميرے پاس رہنے دو ميں اس کا ہر طرح خيال رکھوں گي۔ آمنہ نے پہلے تو انکار کيا، مگر پھر اس کے اصرار کو ديکھ کر کہ مکہ کي آب وہوا سے باہر کي آب وہوا اچھي ہے اور ان ايام ميں مکہ کي آب و ہوا کچھ خراب بھي تھي آمنہ نے مان ليا اور حليمہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم کو لے کر پھر خوش خوش اپنے گھر لوٹ گئي اور اس کے بعدقريباً چار سال کي عمر تک آپ صلي اللہ عليہ وسلم حليمہ کے پاس رہے اور قبيلہ بنو سعد کے لڑکے لڑکيوں ميں کھيل کود کر بڑے ہوئے۔ اس قبيلہ کي زبان خاص طور پر صاف اور فصيح تھي اور آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم نے بھي يہي زبان سيکھي۔

حليمہ آپﷺ کو بہت عزيز رکھتي تھي۔ اور قبيلہ کے تمام لوگ آپﷺ کو محبت کي نظر سے ديکھتے تھے۔ ليکن جب آپ کي عمر چار سال کي ہوئي تو ايک ايسا واقعہ پيش آيا جس کي وجہ سے حليمہ خوفزدہ ہوگئي اور آپﷺ کو واپس مکہ ميں لاکر آپﷺ کي والدہ کے سپرد کرديا۔ يہ واقعہ تاريخ ميں اس طرح پر مذکور ہے کہ ايک دفعہ آپﷺ اپنے رضاعي بھائي کے ساتھ مل کر کھيل رہے تھے اور کوئي بڑا آدمي پاس نہ تھا کہ اچانک دو سفيد پوش آدمي نظر آئے اور انہوں نے آپﷺ کو پکڑ کر زمين ميں لٹا ديا اور آپﷺ کا سينہ چاک کرديا۔ يہ نظارہ ديکھ کر آپﷺ کا رضاعي بھائي عبداللہ بن حارث بھاگا ہوا گيا اور اپنے ماں باپ کو اطلاع دي کہ ميرے قريشي بھائي کو دو آدميوں نے پکڑ ليا ہے اور اس کا سينہ چاک کررہے ہيں۔ حارث اور حليمہ يہ سنتے ہي بھاگے آئے تو ديکھا کہ کوئي آدمي تو وہاں نہيں ہے، مگر آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم ايک خوفزدہ حالت ميں کھڑے ہيں اور چہرہ کا رنگ متغير ہورہا ہے۔ حليمہ نے آگے بڑھ کر آپﷺ کو گلے سے لگا ليا اور پوچھا ’’بيٹا کيا بات ہوئي ہے‘‘؟ آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم نے سارا ماجرا بتايا اور کہا کہ وہ کوئي چيز ميرے سينہ ميں تلاش کرتے تھے۔ جسے انہوں نے نکال کر پھينک ديا۔ پھر حليمہ اور حارث آپﷺ کو اپنے خيمہ ميں لے گئے۔ اور حارث نے حليمہ سے کہا۔ ’’مجھے ڈر ہے کہ اس لڑکے کو کچھ ہوگيا ہے۔ پس مناسب ہے کہ تو اسے فوراً لے جا اور اس کي والدہ کے سپرد کرآ۔‘‘ چنانچہ حليمہ آپ کو مکہ ميں لائي اور آمنہ کے سپرد کرديا۔ آمنہ نے اس جلدي کا سبب پوچھا اور اصرار کيا تو حليمہ نے انہيں يہ سارا قصہ سناديا اور يہ ڈر ظاہر کيا کہ شايد يہ لڑکا کسي جنّ وغيرہ کے اثر کے نيچے آگيا ہے۔ آمنہ نے کہا۔ ’’ايسا ہر گز نہيں ہوسکتا۔ ميرا بيٹا بڑي شان والا ہے۔ جب يہ حمل ميں تھا تو ميں نے ديکھا تھا کہ ميرے اندر سے ايک نور نکلا ہے جو دور دراز ملکوں تک پھيل گيا ہے۔

اس واقعہ کي في الجملہ تائيد صحيح مسلم کي ايک روايت سے بھي ہوتي ہے جس ميں انسؓ بن مالک بيان کرتے ہيں کہ ايک دفعہ جب کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم بعض بچوں کے ساتھ مل کر کھيل رہے تھے آپﷺ کے پاس جبرائيل عليہ السلام آئے اور آپﷺ کو زمين پر لٹا کر آپﷺ کا سينہ چاک کرديا اور پھر آپﷺ کے سينہ کے اندر سے آپﷺ کا دل نکالا اور اس ميں سے کوئي چيز نکال کر باہر پھينک دي اورساتھ ہي کہا کہ يہ کمزوريوں کي آلائش تھي جو اب تم سے جدا کردي گئي ہے۔ اس کے بعد جبرائيلؑ نے آپﷺ کے دل کو مصفيٰ پاني سے دھويا اور سينہ ميں واپس رکھ کر اسے پھر جوڑ ديا۔ جب بچوں نے جبرائيلؑ کو آپﷺ کو زمين پر گراتے اور سينہ چاک کرتے ہوئے ديکھا تو وہ گھبرا کر دوڑے ہوئے آپﷺ کي دائي کے پاس گئے اور کہا کہ محمدﷺ کو کسي نے قتل کرديا ہے۔ جب يہ لوگ آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے پاس پہنچے تو فرشتہ غائب تھا اور آپﷺ ايک خوفزدہ حالت ميں کھڑے تھے۔صحيح مسلم کي تصديق کے بعد ابنِ ہشام کي روايت کو ايک ايسي تقويت حاصل ہوجاتي ہے کہ بلاکسي قوي دليل کے ہم اسے کمزور کہہ کر رد نہيں کرسکتے۔ مگر ظاہر ہے کہ يہ واقعہ ايک کشفي نظارہ تھا۔ چنانچہ شقِ صدر کي ظاہري علامت کا مفقود ہونا يعني اس وقت آپﷺ کي دائي وغيرہ کو اس کي کسي ظاہري علامت کا نظر نہ آنا بھي يہي ظاہر کرتا ہے کہ يہ ايک کشف تھا جس کا دائرہ دوسرے بچوں تک بھي وسيع ہوگيا اور جيسا کہ خود اس کشف کے اندر يہ تصريح ہے اس سے مراد يہ تھي کہ خدائي فرشتہ نے متمثل ہوکر عالمِ کشف ميں آپﷺ کا سينہ چاک کيا اور تمام کمزوريوں کي آلائش آپ کے اندر سے نکال دي۔ احاديثِ صحيحہ سے ثابت ہے کہ معراج کي رات بھي آنحضرتﷺ کے ساتھ اسي قسم کے شقِ صدر کا واقعہ ہوا اور فرشتوں نے آپ کا دل نکال کر زم زم کے مصفا پاني سے دھويا اور پھر اپني جگہ پر رکھ ديا۔(سيرت خاتم النبيين صفحہ 94 تا 96)