//رزق حلال
PEEDAN LELO.

رزق حلال

تحریرفائزہ حبیب کراچی پاکستان

مسلمان ہونے کے ناطے ہماري تا حد کوشش ہوتي ہے کہ ہمارے گھروں ميں رزق حلال ہي داخل ہو اور اس امر کو ممکن بنانے کے لئے مرد حضرات دن رات ايک کر ديتے ہيں۔ کبھي سخت گرمي ميں اپني کھال جلاتے ہيں تو کبھي سخت سردي ميں خون جماتے ہيں۔ کبھي آگ کے سامنے لوہا پگھلاتے ہيں تو کبھي کھيتوں کے اندر فصل اگاتے ہيں۔ غرض رزق حلال کمانے کے لئے ہر روز سر دھڑ کي بازي لگانے کے لئے تيار ہوتے ہيں۔

جس کي وجہ رب باري تعاليٰ کي خوشنودي حاصل کرنا ہے۔

پھر نيک اولاد کا حصول ہے۔گھر ميں خدا کي رحمتوں اور برکتوں کي آمد کا موجب ہے۔

 اس کے علاوہ رزق حلال کے معاشرے پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہيں اس کي فہرست خاصي طويل ہے۔

ليکن سوال يہ ہے کہ اتني مشقت کے باوجود ہمارے ہسپتال مريضوں سے لبالب کيوں بھرے ہيں۔ کيا اسکي واحد وجہ ناقص غذا ہے تو بابرکت رزق کے شر سے خدا خود محفوظ رکھتا ہے۔

تاريخ گواہ ہے نبيوں پر زہر بھي اثر نہيں کرتا۔ تو کيا يہ غذا زہر سے زيادہ خطرناک ہے ؟ حضرت انس رضي اللہ عنہ سے مروي ہے کہ حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو يہ حکم ديا کہ وہ ايک دن روزہ رکھيں اور جب تک ميں اجازت نہ دوں اس وقت تک کوئي روزہ افطار نہ کرے۔ لوگوں نے روزہ رکھا۔ جب شام ہوئي تو ايک شخص حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کي : ميں سارے دن روزے سے رہا ہوں، آپ مجھے افطار کي اجازت ديں، آپ نے اس کو افطار کي اجازت مرحمت فرمائي۔ پھر ايک شخص حاضر ہو۔ اور اس نے عرض کيا آپ کے گھر کي دو کنيزيں صبح سے روزے سے ہيں، آپ انہيں بھي افطار کي اجازت ديں۔ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے اعراض کي۔ حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا : ان کا روزہ نہيں ہے، ان لوگوں کا روزہ کيسے ہوسکتا ہے؟ جو سارا  دن لوگوں کا گوشت کھاتے رہے ہوں، جاؤ انہيں جاکر کہو اگر وہ روزہ دار ہيں تو قے کريں، انہوں نے قے کي تو ہر ايک سے جما ہوا خون نکلا۔ اس شخص نے جاکر حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو خبر دي، آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا : اگر وہ مرجاتيں اور وہ جما ہوا خون ان ميں باقي رہ جاتا تو دونوں کو دوزخ کي آگ کھاتي۔

(طيالسي، المسند، 1 : 282، رقم : 2107)

اسلام نے ايک انسان کا گوشت دوسرے انسان پر حرام قرار ديا ہے۔ اس اعتبار سے اگر ديکھا جائے تو ہم نجانے کتنا حرام گوشت ايک دن ميں اپنے پيٹوں ميں بھرتے ہيں۔ اور صرف خواتين ہي نہيں مرد بھي اس گناہ سے دور نہيں ہيں۔  معاشرتي بے چيني کي ايک بڑي وجہ يہ غيبت جيسي پليد بيماري بھي ہے۔

اگر ايک مرد اپني جان جوکھوں ميں ڈال کر رزق حلال صرف اسي لئے کماتا ہے کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے پيٹوں ميں شد حلال رزق ڈالے اور دوران گفتگو ہر جملہ غيبت سے لبريز ہو تو اپني چمڑي سورج کي آگ ميں جلانے کا کوئي فائدہ نہيں۔

حضرت مولانا نور الدين ؓنےايک آيت کي تفسيرميں يوں فرمايا:

’’غرض خوب ياد رکھو سوء ظن سے تجسس اور تجسس سے غيبت کي عادت شروع ہوتي ہے۔اگر ايک شخص روزے بھي رکھتا ہے اور غيبت بھي کرتا ہے تجسس اور نکتہ چينيوں ميں مشغول رہتاہے تو وہ اپنے مردہ بھائي کا گوشت کھاتاہے۔اب جو غيبت کرتا ہے وہ روزے کيا رکھتا ہے وہ تو گوشت کے کباب کھاتا ہے اور کباب بھي اپنے مردہ بھائي کے گوشت کے۔ اور يہ بالکل سچي بات ہے کہ غيبت کرنے والا حقيقت ميں ہي ايسا بد آدمي ہے جو اپنے مردہ بھائي کے کباب کھاتاہے۔ مگر يہ کباب ہر ايک آدمي نہيں کھا سکتا۔ ايک صوفي نے کشف ميں ديکھاکہ ايک شخص نے کسي کي غيبت کي ہے۔ تب اس کو قے کرائي گئي تو اس کے اندر سے بوٹياں نکليں جن ميں سے بدبُو آتي تھي۔ ياد رکھو يہ کہانياں نہيں يہ واقعات ہيں۔ جو لوگ بدظنياں کرتے ہيں جب تک اپني نسبت بدظنياں نہيں سن ليتے نہيں مرتے!اس لئے ميں تمھيں نصيحت کرتا ہوں اور دردِدل سے کہتا ہوں کہ غيبتوں کو چھوڑ دوں‘‘۔

(حقائق الفرقان جلد نمبر 4 صفحہ 6،7)

قرآن پاک ميں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے۔

وہ لوگ جو عيب لگاتے ہيں رغبت کرنے والوں پر مومنوں ميں سے صدقات ميں اور جو نہيں پاتے سواے اپني محنت کے۔ تو وہ (منافق) ٹھٹھا کرتے ہيں ان سے۔ ٹھٹھا کا بدلہ لے گا اللہ ان سے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (توبہ آيت 79)

ايک اور جگہ فرمايا:

ہلاکت ہو ہر غيبت کرنے والے سخت عيب جُوکے لئے۔ (سورۃالھمزہ آيت 1)

اگر ہر گھر کے افراد خانہ صرف اپنے گھرانے کي اصلاح کر ليں تولازمي شد رزق حلال نسلوں ميں منتقل ہو گا۔ اللہ تعاليٰ نے مرد کو گھر کا نگران اور عورت کو اپنے شوہر کے بچوں اور مال و اسباب کا نگران ٹھرايا ہے۔

لہٰذا لازم ہے کہ اپنے گھروں کو اس موزي مرض سے پاک رکھيں۔ تا  آنے والي نسليں روحاني اور جسماني بيماريوں سے پاک ہوں۔