//رب کی طرف لوٹ آؤ
namaz

رب کی طرف لوٹ آؤ

.

سڑکیں زہر آلود نگر ویران ہوئے

ایسا پھیلا خوف کہ دل سنسان ہوئے

ہر آنکھ اس منظر کی گواہی دیتی ہے۔ ہر دل اس ویرانی پہ غمزدہ ہے۔ ہر دماغ اس ناگہانی آفت اور ان دیکھے چھوٹے سے وائرس کی تباہکاریوں پہ حیران و پریشان ہے۔ قابل رشک دماغ اور خزانوں سے بھری تجوریاں اس کے آگے بے بس ہیں۔ انسان اپنوں سے دور رہنے پہ مجبور ہے۔ اپنے آپ کو چھونے میں بھی محتاط ہے۔ بنا زنجیر کے آذاد انسان گھر کی چاردیواری میں قید ہے۔ دروازے کے اس طرف کس قدم پہ موت منتظر ہے کچھ پتہ نہیں۔

بچے اسکول کالج سے فارغ اب گلی محلوں میں بھی کھیلتے نظر نہیں آتے، پہلے جو پررونق بازار اور ٹریفک سے بھری سڑکیں تھیں اب وہاں خاموشیاں بین کر رہی ہیں۔ مساجد اپنے نمازیوں سے خالی ہیں۔باغ رنگ برنگے پھولوں سے سجے ہیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔ اب سیاح بھی حسین قدرتی نظاروں کے دلدادہ نہیں رہے،

روح بجھ گئی جیسے،آنکھ جل گئی جیسے

ہر طرف موت بازو کھولے کھڑی ہے۔ رگوں میں خون نہیں خوف گردش کر رہا ہے۔ خونی رشتے بھی میت کے قریب نہیں آسکتے۔ دور کھڑے آہ و فغاں کرتے ہیں۔ قبرستان چھوٹے پڑ گئے۔یوں لگتا ہے زمین کا چپہ چپہ کہہ رہا ہو کہ

خدا کو چھوڑنا اے مسلمو!کیا کھیل سمجھتے تھے

ان سب باتوں کا مقصد خوفزدہ کرنا ہر گز ہر گز نہیں۔مگر حقائق سے آنکھیں چرائی نہیں جاتیں۔بخدا ہمارا کہنا تو صرف اتنا ہے۔

دوستو اب بھی کرو توبہ اگر کچھ عقل ہے

جی ہاں یہ توبہ کرنے کے دن ہیں۔ سچی توبہ کے، اس خالق حقیقی کو راضی کرنے کے دن ہیں۔ اپنے گناہوں پہ نادم ہونے کے دن ہیں۔ سجدوں کو بڑھانے کے دن ہیں۔ تلاوت قرآن اور اس کے احکامات پہ عمل کرنے کے دن ہیں۔

مگر خدا سے اچھا گمان رکھنا ہے۔ایک مسلمان کبھی بھی مایوسی کے اندھے کنوں میں نہیں گرتا۔ وہ وحدہ لاشریک یقیناً دلوں سے نکلتی ہوئی دردمندانہ صداؤں کو ضرور سنے گا۔ وہ آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسوؤں کی فریاد سے بےخبر نہیں۔ لبوں پہ مچلتی دعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ سجدوں میں اس کے دربار میں کی گئی آہ و زاریاں یقیناً سنی جائیں گی۔

ہمت نہ ہار اس کے کرم پر نگاہ رکھ

مایوسیوں کو چھوڑ وہ ربّ غفور ہے