//ذرائع ابلاغ – سکون یا بے سکونی

ذرائع ابلاغ – سکون یا بے سکونی

۔ تحریر بشریٰ عمر بامی

حضرت ِ انسان ہر زمانہ میں ایجادات وقت اور حالت کے تحت کرتا چلا گیا۔ بلکہ خدا تعالی اسکی رہنمائی کرتا گیا سائینس ارتقائی منازل طے کرتی چلی گئی۔ اور قدرت راستے ہموار کرتی چلی گئی۔ فقط اور فقط اپنی ودیعت سے۔ مگر !جہاں قدرتی نظام کے برعکس عمل ہوا وہیں نقصان کا احتما ل بڑھ گیا۔قانونِ قدرت کا مالک علی کل شئ قدیر جو ٹھہرا۔

آجکل کے ترقی یافتہ زمانہ میں زرائع ابلاغ کاگزشتہ زمانے سے اگر تقابل کیا جائے تو اس کی بدولت آگاہی پہلے سے بہت آسان اور جلد میسر ہوتی ہے۔ موجودہ زرائع ابلاغ جہاں اپنے اندر افادیت لئے ہوئےہیں وہاں ان کے پوشیدہ نقصانات کے حامل ہونےسے انکار نہیں کیاجا سکتا۔ انصاف کی آنکھ سے اگر دیکھاجائے تو فوائد زیادہ نظر آئینگے۔ اورنقصان کم۔

دونوں صورتوں میں فیصلہ آج کی نسل کے اپنے ہاتھ میں ہے اور فیصلہ کا حق بھی۔

کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال ھمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔

اعتدال اور میانہ روی ہمیشہ سے فائدہ مند رحجان سمجھا جاتا رہا ہے اور جاتا رہے گا۔

لیکن حضرت انسان کے اندر ایک حِس ہمیشہ سے کارفرما رہی ہے جو اعتدال سے بڑھ کر محض وقتی مزہ اورحض اٹھا کر ہمیشہ ہی نقصان کا باعث بنتی ہے نہ کہ سکون کا۔

اگر مشاہدہ کیا جائے تو فطرت کے قریب جو بھی شے لے کر جائیگی اس سے سکون حاصل ھوگا اورجو دور ہوگی اس کا منفعت بخش ہونا ہمیشہ مشکوک رہے گا

کسی بھی شےیاوسیلہ کا بے جا استعمال کبھی بھی خوشکن نتائج نہیں لایا کرتا۔

آج کے زرائع ابلا غ میںپہلے نمبر پر فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، ٹی وی، سب موجودہ ٹیکنالوجی کے وسائل ہیں۔

آگاہی، دریافت علم اورمعلومات کاخزانہ کہہ لیں۔ اس تیز رفتاری کے زمانہ کے عین موافق جب وقت آپکا غلام نہیں۔ آپ وقت کے غلام ہوچکے ہیں۔آپ ہر کام کم سے کم وقت میں کرنا چاہتے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئےبھی جلد بازی آپکی عادت بن چکی ہے۔ زمانے کی تیز رفتاری کے ساتھ بھا گنا انسان کی مجبوری بن چکی۔ ضرورت بنتے بنتے۔ زرا پچاس کی دہائی کے زمانہ میں تھوڑی دیر کے لئے چلے جائیں ایک عام انسان کی زندگی وسائل کی کمی سے کئی قسم کی مشکلات میں سے دو ار (کھومنے والا) نظر تو آئے گی …

کئی قسم کی مشکلات پر مبنی زندگی مگر و ہ سادہ تھی۔ قدرت کے اصول و ضوابط کی قربت نے اسے پرسکون کیا ھوا تھا۔ اس کے برعکس آجکل مشینی دور کی پرآسائش زندگی نے جہاں سہولیات دے دی ہیں وہاں سکون اور آسانیاں بھی پیدا کی ہیں۔ زرا سوچئے

کیا اسے اس طرح کی مفید معلومات ایک بٹن دباکرمیسر تھیں۔ ؟

دنیا میں کیا ہور رہا ہے۔ ؟موسم کیا رہے گا۔ ؟دور کیا جائیں آجکل کی وبائی صورتحال میں گھر بیٹھ کر نوکری ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا کی تازہ ترین صورتحا ل سے آگاہی کے ساتھ بچاؤ کی تراکیب و ہدایات انہی وسائل سے فراہم ہونا ممکن ہوئیں ہیں۔

علاج معالجہ، تعلیم، پیسہ کی ترسیل، زرائع مواصلات کی فراہمی اوراوقات آمد وروانگی اب ایک فون کے مرہون منت ہیں۔ اب اکیلے سفر کرنا اور لمبے لمبے سفرایک سمارٹ سے فون کی ہمراہی آپکی خود اعتمادی میں نہ صرف اضافہ کر دیتی ہے بلکہ ایک ساتھی کا کام کرتا ہے۔ گویا حکم کا غلام۔ کسی بھی قسم کی معلومات وائے فائے کی مدد سے مفت میں فراہم کر دیتا ہے۔ جو سفرو حضر سکون و طمانیت کا باعث بنتا ہے۔

نا مواقف حالات میں کسی بھی قسم کی مدد کا حصول انتہائی آسان اور کم خرچ بلکہ بلا قیمت۔ اور بروقت۔ مثال کے طور پر ہر عمر کے افراد کا مقبول ترین واٹس ایپ ایک طرف تو دل کو انتہائ سکون دیتا ہی ہے۔ مگر دوسری طرف اس کے بے جا استعمال سے نقصان کا احتمال ہر عمر کے مردو زن کو ہوسکتا ہےاخلاقی، معاشی روحانی اور جسمانی بھی۔

آج فاصلے سمٹ سے گئے ہیں جہاں اپنے پیاروں کی خیر خبر سے آگاہی سکون کا باعث بنتی ہے وہاں۔ بے جا دخل انداز ی تعلقات میں کشیدگی بھی پیدا کرسکتی ہے۔ گویاقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا۔غرض بات وہیں پر آکر ختم ہوگی کہ ہر معاملہ میں میانہ روی اختیار کی جائے۔ یہ خیال رہے کہ اس زمانہ کے ساتھ اگر دوڑ نہ لگائی جائے تو وقت آپکو پیچھے چھوڑکر ہاتھ چھڑا کر بھاگ جائیگا۔ نقصان کا احتمال دونوں اطراف میں ہے مگر۔ فیصلہ آپکے اور میرے ہاتھ میں ہے۔

بات وہیں آکر ختم ہوتی ہے کہ عقل اور ہوش کے ساتھ دوڑ میں شامل رہیں۔ پیچھے رہنے والوں میں سے نہ بنیں۔ سکون فقط اسی میں ہے کہ میانہ روی اختیار کریں عقل وہوش اچھے اور برے کی تمیز کے ساتھ تابع قدرت خدا کے وفا شعار بن کر۔