//دیار مشرق سے جانے والو دیار مغرب میں بسنے والے

دیار مشرق سے جانے والو دیار مغرب میں بسنے والے

کنیز بتول نجمہ

دیار مشرق سے جانے والو دیار مغرب میں بسنے والے

ہمارے آقا کے پاس جاکر انھیں ہمارا سلام کہنا

یہ ان کا احسان ہو گیا ہے کہ رب کا عرفان ہو گیا ہے

خوشی میں گزرے یا غم میں گزرے ہے زندگی ان کے نام کہنا

خدا کی توحید کے گلوں سے مہکتی رہتی ہیں ان کی باتیں

چھپے ہیں ان کے گلاب لہجے میں آب کوثر کے جام کہنا

وہ میری صدیوں کی ترسی آنکھوں نے تیرے چہرے میں پیارے آقا

ہاں عکس شاہ امم کو دیکھا ہے کہ رہا تھا غلام کہنا

خدا کرے کہ تمام عالم جمع ہو ان کے علم کے نیچے

خدا دے غلبہ انہیں دعائیں میری ہیں یہ صبح شام کہنا

دعاکریں کہ کچھ ایسے لمحے مجھے میسر ہوں زندگی میں

وہ روبرو ہوں وہ سامنے ہوں خدا کرے اِنتظام کہنا