//دوسروں کے عیوب چھپا نا اور نا حق قتل کرنا

دوسروں کے عیوب چھپا نا اور نا حق قتل کرنا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اگر کسی کا عیب آجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھپاتے اور اگر کوئی اپنا عیب ظاہر کرتا تھا تو اس کو بھی عیب ظاہر کرنے سے منع فرماتے تھے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جو بندہ کسی دوسرے بندے کا گناہ دنیا میں چھپاتا ہے۔ اللہ تعالی اس کے گناہ قیامت کے دن چھپائے گا۔ (مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے کہ میری امت میں سے ہر شخص کا گناہ مٹ سکتا ہے (یعنی توبہ سے) مگر جو اپنے گناہوں کا اظہار کرتے پھریں ان کا کوئی علاج نہیں۔ پھر فرماتے کہ آپ اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالی اس پر پردہ ڈال دیتا ہے مگر صبح کے وقت وہ اپنے دوستوں سے ملتا ہے تو کہتا ہے اے فلانے میں نے رات کو یہ کام کیا تھا، اے فلانے میں نے رات کو یہ کام کیا تھا۔ رات کو خدا اس کے گناہ پر پردہ ڈال رہا تھا صبح یہ اپنے گناہ کو آپ ننگا کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)

بعض لوگ نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ کا اظہار توبہ پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا اظہار توبہ پیدا نہیں کرتا، گناہ کا اظہار بے حیائی پیدا کرتا ہے۔ گناہ بہرحال بُرا ہے مگر جو لوگ گناہ کرتے ہیں اور ان کے دل میں شرم اور ندامت محسوس ہوتی ہے ان کے لیے توبہ کا راستہ کھلا رہتا ہے اور تقوی ان کے پیچھے پیچھے چلا آرہا ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی نیک موقع ایسا آجاتا ہے کہ تقوی غالب آجاتا ہے اور گناہ بھاگ جاتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے گناہوں کو پھیلاتے ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں ان کے دل سے احساسِ گناہ بھی مٹ جاتا ہے اور جب احساسِ گناہ بھی مٹ جائے تو پھر توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ یارسول اللہ میں نے زنا کیا ہے۔ زنا اسلام میں تعزیری جرائم میں سے ہے یعنی اسلامی شریعت جہاں جاری ہو وہاں ایسے شخص کو جس کا زنا اسلامی اصول کے مطابق ثابت ہوجائے جسمانی سزا دی جاتی ہے۔ جب اس نے کہا۔ یارسول اللہ میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف باتوں میں مشغول ہوگئے۔ درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو یہ بتا رہے تھے کہ جس گناہ پر خدا نے پردہ ڈال دیا ہے اس کا علاج توبہ ہے اس کا علاج اعلان نہیں۔ مگر اس نے اس بات کو نہ سمجھا اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات کو سنا نہیں اور جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ تھا ادھر کھڑا ہوگیا اور پھر اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے زنا کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طرف منہ کرلیا۔ پھر بھی وہ نہیں سمجھا۔ اور دوسری طرف آ کر اس نے پھر اپنی بات کو دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس کی طرف توجہ نہ کی اور دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ پھر وہ شخص اس طرف آکھڑا ہوا جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ تھا اور پھر اس نے چوتھی دفعہ اس بات کو دہرایا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو چاہتا تھا کہ یہ اپنے گناہ کی تشہیر نہ کرے جب تک خدا اس کی گرفت کا فیصلہ نہیں کرتا مگر اس نے چار دفعہ اپنے نفس پر خود ہی گواہی دی ہے اس لیے اب میں مجبور ہوں (ترمذی ابواب الحدود) پھر فرمایا اس شخص نے اپنے آپ پر الزام لگایا ہے۔ اس عورت نے الزام نہیں لگایا۔ جس عورت کے متعلق یہ زنا کا دعوی کرتا ہے اس عورت سے پوچھو۔ اگر وہ انکار کرے تو اسے کچھ مت کہو۔

اور صرف اس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو۔ لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اسے بھی سزا دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جن امور کے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہوچکی ہوتی تھی ان میں آپ تورات کی تعلیم پر عمل کرلیتے تھے۔ تورات کے حکم کے مطابق زانی کے لیے سنگساری کا حکم ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس شخص کے سنگسار کیے جانے کا حکم دیا۔ جب لوگ اس پر پتھر پھینکنے لگے تو اس نے بھاگنا چاہا، لیکن لوگوں نے دوڑ کر اس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اسے قتل کردیا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو سزا اس کے اقرار کے مطابق دی گئی۔ جب وہ بھاگا تھا تو اس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لیے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اس کے بعد اس کو سنگسار کرتے اس کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر ہونا چاہیے۔ ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہؓ گئے ہوئے تھے۔ راستہ میں ایک مشرک انہیں ایسا ملا جو اِدھر اُدھر جنگل میں چھپا پھرتا تھا۔ اور جب کبھی اسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اس پر حملہ کرکے وہ اسے مار ڈالتا۔ اسامہ بن زیدؓ نے اس کا تعاقب کیا۔ اور ایک موقعہ پر جاکر اسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لیے تلوار اٹھائی جب اس نے دیکھا کہ اب میں قابو آگیا ہوں، تو اس نے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر اسامہؓ نے اس کے اس قول کی پرواہ نہ کی اور اسے مار ڈالا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لڑائی کی خبر دینے کے لیے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ واقعہ بھی بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہؓ کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اس آدمی کو ماردیا تھا انہوں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔ یعنی خدا تعالی کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اس شخص نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا؟ گو وہ قاتل تھا، مگر توبہ کرچکا تھا۔

حضرت اسامہؓ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ یا رسول اللہ وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کررہا تھا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی کہتے چلے گئے کہ تم قیا مت کے دن کیا جواب دوگے جب اس کا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اسامہؓ کہتے ہیں اس وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں آج ہی اسلام لایا ہوتا اور یہ حرکت مجھ سے سرزد نہ ہوئی ہوتی۔ (مسلم)

گناہوں کی معافی کا رسول اللہ ﷺکو اتنا احساس تھا کہ جب کچھ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہؓ پر اتہام لگایا اور اتہام لگانے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس کو حضرت ابوبکرؓ پال رہے تھے۔ جب یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ نے غصہ میں اس شخص کی پرورش بند کردی جس نے آپ کی بیٹی پر الزام لگایا تھا۔ دنیا کا کون سا شخص اس کے سوا کوئی اور فیصلہ کرسکتا تھا بہت سے لوگ تو ایسے آدمی کو قتل کردیتے ہیں مگر حضرت ابوبکرؓ نے صرف اتنا کیا کہ اس شخص کی آئندہ پرورش بند کردی۔ جب رسول کریم ﷺکو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو سمجھایا اور فرمایا کہ اس شخص سے غلطی ہوئی اور اس نے گناہ کیا مگر آپ کی شان اس سے بالا ہے کہ ایک بندے کے گناہ کی وجہ سے اس کو اس کے رزق سے محروم کردیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺکے ارشاد کے ماتحت پھر اس کی پرورش کرنے لگ گئے۔ (بخاری کتاب التفسیر)(دیباچہ تفسیرالقران صفحہ 262تا 264)