//دماغی صحت بہتر رکھنے والی غذائیں

دماغی صحت بہتر رکھنے والی غذائیں

’’ارے بھئي دماغ کو تيز کرنا ہے تو بادام اور اخروٹ کھائو‘‘۔ يہ مشورہ زندگي ميں آپ کو کسي نہ کسي نے ضرور ديا ہوگا اور شايد آپ نے اس پر عمل بھي کيا ہو اور دوسروں کو بھي يہي مشورہ ديا ہو۔ دراصل دماغ جسم کا وہ عضو ہے، جو انسا ن کے پيد اہوتے ہي کام کرنا شروع کرديتاہے اور مرنے کے بعد بھي کچھ وقت تک کام کرتارہتاہے۔ جس طرح غذائيں ہمارے پھيپھڑوں، گردوں، معدے اورديگر جسماني اعضا کو صحت مند اور کام کي حالت ميں رکھتي ہيں، اسي طرح ہمارے دماغ کو بھي کچھ مخصوص غذائوں کي ضرورت ہوتي ہے جو اسے توانائي پہنچاتي ہيں۔ دماغ کو بہتر حالت ميں رکھنے کے ليے وہ غذائيں کون سي ہيں، آئيے ان کے بارے ميں جانتے ہيں۔

اخروٹ

آپ اخروٹ کي ساخت پر غور کريں تو يہ بالکل دماغ کي طرح دکھائي دے گي۔ ماہرين کے مطابق يہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قدرت نے اسے دماغ کو تقويت پہنچانے کيلئے بنايا ہے۔ اس ميں پولي اَن سيچوريٹڈ ايسڈ (اوميگا 6 فيٹي ايسڈ) اور پولي فينولک مرکبات ہوتے ہيں، جو دماغ کے خليوں سے آکسيڈنٹ اور انفليميٹري بوجھ کو کم کرتے ہيں۔ اس سے آپ کے بين الاعصابي سگنلز بہتر کام کرنا شروع کرديتے ہيں اور دماغي افعال ميں بہتري آتي ہے۔ اسے کھانے سے ڈپريشن کا مقابلہ کرنے کي صلاحيتوں ميں اضافہ ہوتاہے۔

بادام

بادام ميں بھرپور مقدار ميں وٹامن اي، فوليٹ (Folate)اور اوميگا 6 فيٹي ايسڈ ہونے کي وجہ سے يہ دماغ کيلئے سپر فوڈ کا درجہ رکھتاہے۔ يہ يادداشت رکھنے والے عضلات ميں بہتر ي لاتا ہے اور الزائمر اور نسيان (بھولنے کي بيماري) کے علاج ميں مد د کرتاہے۔ بادام دماغ پر پڑنے والے عمر کے اثرات کو بھي کم کرنے ميں معاون ثابت ہوتاہے۔

مونگ پھلي

مونگ پھلي ميں بڑي مقدار ميں نيا سن(Niacin)اور فوليٹ موجود ہوتے ہيں، جو وٹامن اي کے حصول کا بہترين ذريعہ ہيں۔ يہ اجزاء الزائمر جيسي بيماري اور عمر بڑھنے کي وجہ سے حواس کي کمزوري کے خلاف کام کرتے ہيں۔65برس سے زائد عمر کے 4ہزار لوگوں پر جب تجربہ کيا گيا تو غذا ميں niacinکي موجودگي کي وجہ سے ان کے حواس خمسہ ميں کمي ہونے کے عمل ميں تاخير ديکھي گئي۔ مونگ پھلي ميں پولي فينولک مرکبات دماغي خليوں کيلئے بہترين ہوتے ہيں۔

داليں اور اجناس

داليں آپ کے دماغ کي بہترين دوست ہيں۔ گندم، داليں، چاول اور دليہ ايسي غذائيں ہيں جو دماغ کو تقويت پہنچاتي ہيں۔ ان ميں ہر قسم کے فائدہ مند اجزاء جيسے کہ فائبر، وٹامن بي، اي اور ديگر مفيد معدنيا ت ہوتے ہيں۔ ان ميں موجود فائبراور پيچيدہ کاربوہائڈريٹس آپ کے جسم اور دماغ کي بند شريانو ں کو کھول ديتے ہيں۔ شريانيں صاف ہونے سے دماغ تک پہنچنے والا خون آکسيجن سے بھرپور ہوتاہے اور آپ کو برين اسٹروک اور ڈيمينشيا سے محفوظ رہنے ميں مدد کرتاہے۔ اسي ليے مشورہ ديا جاتا ہے کہ آپ اپني روزمرہ کي خوراک ميں دالوںکو ضرور شامل کريں۔ کم سے کم ايک چوتھائي پليٹ داليں يا اجناس آپ کو روزانہ کھانا چاہئے۔ اسي طرح سفيد يا کالے چنے بھي ميگنيشيم سے بھرپور ہوتے ہيں، جس سے دماغ کے خليوں کے ريسيپٹرز کو فائدہ ہوتا ہے۔ يہ ريسيپٹرز پيغامات کي ترسيل کي رفتار تيز کرتے ہيںاورخون کي شريانوں کو کھول کر دماغ تک خو ن کي آسان فراہمي کو ممکن بناتے ہيں۔

پتو ں والي سبزياں

اگر آپ دن ميں ايک بار بھي پتوں والي سبزي کا استعمال کرتے ہيں تو آپ کي عمر ڈھلنے کے حساب سے حواس خمسہ کے کمزور ہونے ميں کمي واقع ہونے لگتي ہے۔ پالک اور ديگر پتوں والي سبزياں فوليٹ، نائٹريٹ اور ديگر ايسے اجزاء پر مشتمل ہوتي ہيں جو آپ کے اعصاب کو کمزور کرنے والے عمل کو سست کرتي ہيں۔ سبزيوں کا سب سے بڑا فائدہ ان ميں موجود پوٹاشيم ہے، جو آپ کے اند رموجود سوڈيم يعني نمک کي زيادتي کو معتدل کرتاہے۔

پھلياں

پھليوں سے براہ راست پوٹاشيم، ميگنيشيم، فوليٹ، کولين، تھايامن اور بہت سے فائدہ مند اجزا ء حاصل ہوتے ہيں جو ہمارے دماغي اور اعصابي افعال کو بہتر حالت ميں رکھتے ہيں۔ اس کے علاوہ پھليوں کي کئي اقسام ميں امينو ايسڈ اور پروٹينز بھي ہوتے ہيں، وہ اعصاب کو فعال رکھنے ميں مدد کرتے ہيں۔

پھل

ايواکاڈو مونو سيچوريٹڈفيٹس، فائبر، لوٹين اور ديگر مفيد اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ يہ تمام اجزا ءحواس خمسہ، اعصابي افعال اور آنکھ کي صحت کو بہت کرتے ہيں۔ اسٹربيري، بليک بيري يا رس بيري، ان سب ميں انتھوسيانن اور ديگر فليونوائڈز ہوتے ہيں، جو صحت مند دماغ کي تشکيل ميں مدد کرتے ہيں۔ سيب ميں موجود سيروٹونن نامي جزو دماغي اعصاب کو آکسيڈينٹ سے محفوظ رکھ سکتے ہيں۔ يہ جزو دماغ کو ورم اور ديگر مسائل سے محفوظ رکھنے ميں مدد کرسکتاہے جبکہ اس سے الزائمر ہونے کا خدشہ بھي کم ہوتاہے۔

مچھلي

مچھليوں ميں موجود اوميگا3 فيٹي ايسڈ سے بڑھ کر شايد ہي کوئي چيز دماغي طاقت کے لئےکارآمد ہے۔ اگر جسم ميں اوميگا3 کي مقدار کم ہو تو يہ دماغ کي خراب کارکردگي کي صورت ميں ظاہر ہوتي ہے۔ ٹھنڈے پاني کي مچھليوں کي مخصوص اقسام ميں اوميگا3 پايا جاتا ہے مثلاً سامن اور ٹراؤٹ۔

يہ دماغي استعداد کار اور دماغ کے باہم متصل افعال کو بہترين بناتا ہے۔ ماہرين کےمطابق ٹھنڈے پاني کي مچھلياں، خاص طور سے ٹونا، سامن، ٹراؤٹ اور ديگر چکناہٹ والي مچھليوں ميں اوميگا تھري فيٹي ايسڈ وافر مقدار ميں پايا جاتا ہے جو دماغي اور قلب کے امراض کے علاوہ انساني جسم کے مختلف اعضا کے لئے بہت مفيد ہے۔