//دعا

دعا

۔ تحریر قرۃالعین فاروق حیدرآباد

اے اللہ میری سن لیں، اے اللہ میری سن لیں ۔حنا ،اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کے دعا مانگ رہی تھی کہ اس کی اسکی پسند کی جگہ شادی ہوجائے جب سے حنا اپنے دورپرے کے رشتے دار ہمایوں سے ملی تھی اس کی گرویدہ ہوگئی گو کہ ہمایوں کی پہلی شادی ناکام ہوچکی تھی اور وہ عمر میں اس سے پندرہ سال بڑا تھا مگر حنا کو ان دونوں باتوں کی کوئی پرواہ نہ تھی نہ جانے کیا کشش تھی ہمایوں میں کہ ہمایوں حنا کے خیالوں سے باہر نہیں آرہا تھا وہ ہر وقت بس اس کے بارے میں سوچتی رہتی وہ بے بس تھی اسے پتہ ہی نہ چلا اور اسے ہمایوں سے محبت ہوگئی بس وہ ہر وقت ایک ہی دعا کرتی کہ کسی نہ کسی طرح اس کی شادی ہمایوں سے ہوجائے، ہمایوں اس کے خیالات سے نہ آشنا تھا مگر آہستہ آہستہ اسے بھی احساس ہوگیا کہ حنا اس سے محبت کرتی ہے اور وہ بھی حنا سے محبت کرنے لگا۔

جہاں حنا خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی وہیں ہمایوں بھی خوبصورتی میں کم نہ تھا پروفیسر ہمایوں پوری یونیورسٹی میں اپنی قابلیت اور مردانہ وجاہت کی وجہ سے مشہور تھا وہ ہر کسی سے لئیے دیئے رکھتا مگر حنا میں نہ جانے اسے کیا نظر آیا کہ وہ اس کی طرف کھنچا چلا گیا اور اس نے حنا سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

حنا کی دعائیں رنگ لے آئیں اور وہ ہمایوں کی دلہن بن کر اس کے گھر آئی اسے اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا وہ تو جیسے ہواؤں میں اڑ رہی تھی نئی نویلی دلہنوں کی طرح نخرے کر رہی تھی اور ہمایوں اس کے نخرے اٹھا رہا تھا ان کی شادی کو دو مہینے ہی ہوئے تھے کہ حنا اپنی امی کی طرف جانے کی تیاری کر رہی تھی اور ہمایوں قریبی بازار گیا ہوا تھا کہ اچانک زوردار دھماکے کی آواز آئی اور حنا کے منہ سے بے ساختہ نکلا یا اللہ خیر، یا اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا، یا اللہ ہمایوں خیریت سے ہوں، اس نے فوراً ہمایوں کو موبائل پر فون کیا دوسری طرف فون مسلسل بجے جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی دھماکے کی آواز پر اس کا دل بیٹھا گیا ہو تھوڑی دیر بعد اس کے گھر اطلاع آئی کہ اس کا سہاگ، اس کا مجازی خدا دھماکے کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بچ تو گیا مگرمعذور ہوگیا اس کی ٹانگیں کٹ گئیں اور اس کا کھلتا رنگ، اس کی خوبصورتی بدصورتی میں بدل گئی۔

حنا کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ اس کے ساتھ کیا ہوگیا کیا یہ وہی شخص ہے جس کی خوبصورتی پر وہ مرتی تھی جب وہ ہمایوں کے ساتھ کہیں جاتی تھی تو لوگ مڑ مڑ کر دیکھا کرتے تھے کہ کتنا حسین جوڑا ہے اور اب… اب وہ جب اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتی تو سوچتی کہ میری تو ساری عمر پڑی ہے میں کیوں اپنی جوانی ایک بیمار اور بدصورت شخص کے ساتھ گذار کر برباد کروں لوگ مجھ پر ہنسیں گے، باتیں بنائیں گے، اس کی معذوری حنا کو بیزار کرنے لگی،یہ ہے وہ شخص جس سے شادی کرنے کے لئے میں رو رو کر دعائیں کرتی تھی مجھے تو لگتا ہے کہ مجھے نظر لگ گئی ہے مگر…۔ مگر مجھے ہی کیوں نظر لگی اور بھی تو دنیا میں ہزاروں کیا لاکھوں کروڑوں خوبصورت لوگ ہیں جو محبت کی شادی کرتے ہیں انہیں نظر کیوں نہیں لگتی اتنی سی عمر میں میں ایک بیمار شخص کے ساتھ رہوں اس کی خدمت میں ساری عمر گزار دوں، نہیں نہیں میں یہ نہیں کرسکتی میں ساری عمر خادماؤں کی طرح نہیں گذار سکتی مجھے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا وہ اپنے آپ سے خود ہی سوال کرتی اور خود ہی ان کے جواب ڈھونڈتی۔ ہمایوں بھی حنا کی اس حالت کو دیکھ رہا تھا اور اس کے احساسات کو سمجھ رہا تھا وہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتا مگر وہ خوش ہونے کی بجائے اس سے دور ہونے لگی ہمایوں سوچ رہا تھا کہ آیا اس نے دوسری شادی کر کے غلطی تو نہ کی کہیں پہلی بیوی کو چھوڑنے کی سزا تو نہیں ملی مگر…۔ مگر اس کی پہلی بیوی نے تو اس سے خلع لیا تھا اور وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی ہمایوں سے تو اس نے اپنے بڑوں کے کہنے پر مجبور ہو کر شادی کی تھی مگر اب…۔ اب کیا ہوگیا اچانک سے، کیا حنا کو اب مجھ سے محبت نہیں رہی کیا میں اس کوچھوڑ دوں اسے آزاد کردوں تاکہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے مجھ بیمار شخص کے ساتھ وہ کیسے ساری زندگی گزارے گی اسے مجھ سے زیادہ اچھا، صحت مند اور تندرست شخص مل سکتا ہے، دونوں کے دن عجیب کشمکش میں گزر رہے تھے خیالات کی جنگ دونوں جگہ جاری تھی۔

ایک بیمار شخص کو چھوڑ کر کیا میں صحیح کر رہی ہوں اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں نے محبت ہی نہیں کی تھی میں نے تو بس ہمایوں کی شکل و صورت سے پیار کیا تھا اس کے ظاہری حسن سے محبت کی تھی تو کیا میں نے صحیح کیا وہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں مجھے خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور آج میں انہیں چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہوں تو کیا میں جس شخص سے دوسری شادی کروں گی اور اس شخص کے ساتھ بھی کوئی حادثہ پیش آجائے تو…… تو کیا میں اسے بھی چھوڑ دوں گی، کیا میں شادیوں پر شادیاں کرتی رہوں گی تو کیا میں ایسے ہر شخص کو چھوڑ دوں گی جو بیمار ہوگا، بیماری تو آنی جانی ہے آج بیمار کل تندرست اور اس دن ہمایوں کی بجائے میں اس دھماکے کی زد میں آئ ہوتی تو… تو کیا ہمایوں مجھے چھوڑ دیتے اور اگر وہ مجھے اس حالت میں چھوڑتے تو مجھے کیسا لگتا یہ سوچ کر حنا کو جھرجھری سی آئی۔

نہیں نہیں میں اپنے شوہر کو نہیں چھوڑوں گی اس کی خدمت کروں گی ایک اچھی بیوی کی طرح جیسے میں نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے ہمایوں سے شادی کرنے کی دعا کی تھی اور اب میں اللہ سے اپنے شوہر کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کروں گی مجھے اپنی دعاؤں پر یقین ہے کہ جیسے اللہ نے میری پہلے سنی تھی اب بھی ضرور سنیں گے اور اللہ تعالیٰ انسان پر اتنا ہی بوجھ ڈالتے ہیں کہ جتنا وہ اٹھا سکے یہ اللہ کی مجھ پر آزمائش ہے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد مجھے اس آزمائش سے نکالیں گے۔