//درس القرآن
Quran

درس القرآن

. آيت مع ترجمہ

وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا (32) يَا نِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَآءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا (33) وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (34) وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا  (الأحزاب 32-35)

اور تم مىں سے جو اللہ اور اس کے رسول کى فرمانبردارى کرے گى اور نىک اعمال بجا لائے گى ہم اُسے اس کا اجر دو مرتبہ دىں گے اور اس کے لئے ہم نے بہت عزت والا رزق تىار کىا ہے ۔ اے نبى کى بىوىو! تم ہرگز عام عورتوں جىسى نہىں ہو بشرطىکہ تم تقوى اختىار کرو پس بات لجا کر نہ کىا کرو ورنہ وہ شخص جس کے دل مىں مرض ہے طمع کرنے لگے گا اور اچھى بات کہا کرو ۔ اور اپنے گھروں مىں ہى رہا کرو اور گزرى ہوئى جاہلىت کے سنگھار جىسے سنگھار کى نمائش نہ کىا کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکو ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کى اطاعت کرو اے اہلِ بىت! ىقىناً اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کى آلائش دور کردے اور تمہىں اچھى طرح پاک کر دے ۔ اور ىاد رکھو اللہ کى آىات اور حکمت کو جن کى تمہارے گھروں مىں تلاوت کى جاتى ہے ىقىناً اللہ بہت بارىک بىن (اور) باخبر ہے۔

وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا:اس ميں معرفت کا نکتہ ہے کہ جو بي بي فرماں بردار ہو گي۔ اسے رزقِ کريم ديا جائے گا۔ حضرت عائشہ صديقہؓ کو اس رزق سے بہرۂ وافي مِلا۔ جس سے ثابت ہوا۔کہ وہ بہت فرمانبردار تھيں۔

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ:حضرت عائشہ ؓ کُھل کر بات کہہ ليتي تھيں۔ يہ اس ارشاد کي تعميل ہے۔

  لَاتَخْضَعْنَ: دبي زبان سے مت کہو۔

وَلَا تَبَرَّجْنَ: حضرت عائشہؓ کو ايک جنگ بھي پيش آ گيا مگر اس ميں جاہليت الاوليٰ کي صورت نہيں۔

لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ:نبي کريم صلي اﷲ عليہ و آلہٖ وسلّم کي بي بي ماريہؓ پہلے عيسائي تھيں اور صفيہؓ يہودي۔ اس قسم کے تمام عقيدوں سے نبي کريم صلي اﷲ عليہ وآلہٖ وسلم کي صحبت ميں پاک ہوئيں۔

وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ: جاہلوں کي طرح اکھاڑوں ميں نہ نکلو۔

آتِينَ الزَّكَاةَ: عورتوں کو لازم ہے کہ اپنے مال ميں سے عليحدہ خود زکوٰة ديں۔

أَهْلَ الْبَيْتِ:تين دفعہ قرآن ميں يہ لفظ آيا ہے۔ تينوں جگہ بيبياں ہيں۔ شيعہ پر حجّت ہے جو بيبيوں کو اس ميں گنتے نہيں۔

    (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 408،409)