//درس القرآن
quran

درس القرآن

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا۰۰فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِوَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ۰۰(سورة الطلاق آیت 2-3)

ترجمہ: اے نبی! جب تم (لوگ) اپنی بیویوں کو طلاق دیا کرو تو ان کو ان کی (طلاق کی) عدت کے مطابق طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ، اپنے رب سے ڈرو۔ اُنہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بےحیائی کی مرتکب ہوئی ہوں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو بھی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو یقیناً اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تُو نہیں جانتا کہ شاید اس کے بعد اللہ کوئی (نیا) فیصلہ ظاہر کردے۔

پس جب وہ اپنی مقررہ میعاد کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں معروف طریقے پر روک لو یا انہیں معروف طریق پر جدا کردو اور اپنے میں سے دو صاحبِ انصاف (شخصوں) کو گواہ ٹھہرا لو اور اللہ کے لئے شہادت کو قائم کرو۔ یہ وہ امر ہے جس کی نصیحت کی جاتی ہے ہر اس شخص کو، جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لاتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے اُس کے لیے وہ نجات کی کوئی راہ بنا دیتا ہے۔

تفسیر:اس کا نام سورۃ الطلاق ہے اور اس میں آغاز سے لے کر آخر تک طلاق کے متعلق مختلف مسائل کا بیان ہے۔

پچھلی سورت سے اس سورت کا مرکزی نقطۂ اتصال یہ ہے کہ اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسے نُور کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے جو اندھیروں سے نُور کی طرف نکالتا ہے اور یہی وہ نور ہے جو آخرین کے زمانہ میں ایک دفعہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ان لوگوں کو اندھیروں سے نکالے گا جو دنیا کے اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہوں گے۔ اور اندھیروں سے نکلنے کے مضمون میں فسق و فجور کی زندگی سے نکل کر پاک بازی کی زندگی میں داخل ہونے کا مفہوم بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی اعتقادی اندھیروں سے بھی وہ نکالے گا اور عمل کے اندھیروں سے بھی نکالے گا۔ چنانچہ سورۃ الطلاق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ یہ رسول تو سراپا ذکر ہے اور ذکر ہی کے نتیجہ میں نور عطا ہوتا ہے اور ذکرِ الہٰی کے نتیجہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عظیم فضیلت عطا فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سراپا نُور ہوگئے اور اپنے سچے غلاموں کو بھی ہر اندھیرے سے نور کی طرف نکالا۔ اس سورت میں ایک اور ایسی آیت ہے جو زمین و آسمان کے اسرار سے حیرت انگیز طور پر پردہ اُٹھاتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بذاتِ خود اندھیروں سے نکالنے والے تھے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کلام نازل فرمایا گیا جو کائنات کے اندھیروں سے اور اَسرار سے پردے اُٹھا رہا ہے۔ جہاں قرآن کریم میں بارہا سات آسمانوں کا ذکر ہے وہاں یہ بھی فرما دیا گیا کہ سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات پیدا فرمائی گئی ہیں۔ لیکن اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کس طرح ان زمینوں پر بسنے والوں پر وحی کا نزول ہوا اور کن کن اندھیروں سے ان کو نجات بخشی گئی۔ سرِدست کائنات میں جستجو کرنے والے سائنسدانوں کی اس مضمون کے آغاز تک بھی رسائی نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ بارہا ثابت ہوچکا ہے قرآنی علوم ایک کوثر کی طرح لامتناہی ہیں اور آئندہ زمانہ کے سائنسدان یقیناً ان علوم کی کسی حد تک اطلاع پائیں گے۔

(قرآن کریم اُردو ترجمہ صفحہ 1041)

اِنِّیْ اٰخِرُ الأَنْبِيَاءِ ومَسْجِدِي ھٰذَا اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ (صحیح مسلم)

یعنی میں آخری نبی ہوں (میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میرے دورِ نبوت کو منسوخ کردے) اور میری یہ مسجد آخری مسجد ہے (جس کے بعد کوئی ایسی عبادت گاہ نہیں ہوسکتی جو میری مسجد کو منسوخ کرکے نیا طریقِ عبادت جاری کردے) یاد رکھنا چاہیے کہ الفاظ ’’میری یہ مسجد آخری مسجد ہے‘‘ کا یہ مطلب نہیں کہ میری اس مسجد کے بعد کوئی مسجد نہیں بنے گی کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاء نے بہت سی مسجدیں بنائیں اور آج تک اسلامی ممالک میں لاکھوں کروڑوں مسجدیں بنتی چلی آئی ہیں۔ بس مراد یہ ہے کہ آئندہ میری مسجد کے مقابل پر کوئی مسجد نہیں بنے گی بلکہ جو سچی مسجد بھی ہوگی وہ لازماً میری مسجد کی نقل اور ظل ہوگی۔

(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 796)