//درس القرآن
quran

درس القرآن

درس القرآن

وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ قُلْ هُوَ اَذًی ١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰی يَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ۰۰نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ(سورةالبقرة آیت 223-224)

ترجمہ

اور وہ تجھ سے حیض کی حالت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ یہ ایک تکلیف (کی حالت) ہے۔ پس حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو اور ان سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرو یہاں تک کہ وہ صاف ہوجائیں۔ کہ جب وہ پاک صاف ہوجائیں تو ان کے پاس اسی طریق سے جاؤ جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ یقیناً اللہ کثرت سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے (بھی) محبت کرتا ہے۔

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ بس اپنی کھیتیوں کے پاس جیسے چاہو آؤ۔ اور اپنے نفوس کے لئے (کچھ) آگے بھیجو۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم ضرور اس سے ملنے والے ہو۔ اور مومنوں کو (اس امر کی) بشارت دیدے۔

اس آیت کریمہ کو بعض ظالموں نے بگاڑ کر، نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذٰلِک، بیویوں سے غیر فطری تعلقات کا جواز نکالا ہے۔ یہ بڑا بھاری ظلم ہے۔ کھیتی سے مراد یہ ہے کہ عورت بقاءِ نسل کا ذریعہ ہے اور غیر فطری تعلقات کے نتیجہ میں ہرگز نسل پیدا نہیں ہوسکتی۔

تفسیر

وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ: عرب کا دستور تھا کہ وہ جنگ میں اپنی عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس رسم کا فائدہ یہ تھا کہ وہ بڑے جوش سے جنگ کرتے تھے اور جان توڑ کر لڑتے تھے کیونکہ ان کو خیال ہوتا کہ اگر ہم نے پیٹھ پھیری اور بزدلی دکھائی تو ہماری عورتوں کی عصمت محفوظ نہیں رہے گی اور سب بال بچہ دشمنوں کے قبضہ میں آجائے گا اس واسطے جنگ کا نام بھی انہوں نے حفیظ رکھا تھا کیونکہ جنگ ان کے ننگ و ناموس کی حفاظت کا موجب تھی۔

اب جنگوں میں جب عورتیں ان کے ساتھ تھیں تو بعض وقت ان کو حیض بھی آجاتا۔ اس حالت میں انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا حکم ہے؟ اسلام میں حیض کے متعلق عورتوں کو کئی حکم ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ روزہ نہ رکھے (کیونکہ پہلے ہی سے بہت ضعیف ہوتی ہے اس طرح بیماری بڑھتی ہے۔) نماز نہ پڑھے۔ وضو نہ کرے کیونکہ ٹھنڈے پانی سے استنجا سخت نقصان پہنچاتا ہے۔

كلمة الحكمة ضَالَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ وَجَدَهَا اَخَذَهَا کہ ماتحت مَیں ہندو مذہب کے اس طریق کو بہت اچھا سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی عورتوں کو آٹا تک نہیں گوندھنے دیتے تاکہ پانی نقصان نہ پہنچائے۔ گو وہ اس احتیاط میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ ہماری پاک شریعت کیونکہ انسان کے جان و مال کی محافظ ہے اس واسطے اللہ نے خاص عبادتیں معاف کردی ہیں اور ادھر مردوں کو روک دیا ہے۔

هُوَ اَذًی: بدبودار چیز ہے۔ اس حالت میں انسان جماع کرے تو دُکھ کا موجب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلاف وضعِ فطرت بھی حرام ہے۔ ایک پاک فطرت کا انسان حضرت علیؓ نے فرمایا ہے کہ اگر قرآن میں اس کا ذکر نہ ہوتا تو میرا واہمہ تجویز ہی نہیں کرسکتا کہ یہ بدکاری بھی ہے۔

وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ: بالکل نزدیک نہ جاؤ۔ اس سے لواطت کی حرمت بھی ظاہر ہے۔

يَطْهُرْنَ: پاک ہوجاویں۔ ہمارے ملک کی عورتیں بہت ناواقف ہیں خوشبو وغیرہ کا استعمال نہیں جانتیں۔

يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ: اس کے معنے اللہ نے سورۃ النمل آیت 57 میں بتائے ہیں اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَگویا جو شخص لواطت سے اجتناب کرے اسے مطہّر کہتے ہیں۔

عورتوں کو کھیت کہنے کی غرض کیا ہے اوّل یہ کہ اسے خلافِ وضعِ فطرت عمل نہ کیا جاوے۔دوم اس سے بکثرت جماع نہ کیا جاوے۔ سوم اس کی اور اس کے حمل کی ہمیشہ حفاظت ہو۔ چہارم جن کے بچے گر جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں وہ اس تشبیہ سے یہ فائدہ اُٹھائیں کہ ایک سال صُحبت ترک کردیں جس طرح زمین اس ترک سے مضبوط ہوجاتی ہے اسی طرح وہ عورت قابلِ حمل رکھنے کے ہو جائے گی۔ پنجم اپنے کھیت میں دوسرے کا بیج پڑنے نہ دیں اس لیے کہ اس سے فساد ہوگا۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 360-361)

حدیث

اُمت پر ایک ایسا دور آئے گا کہ دین میں بگاڑ آ جائے گا جسے مہدی کے سوا کوئی اور دور نہ کر سکے گا۔           (ینابیع المودۃ جز ثانی صفحہ 83)

امام مہدی آخری زمانہ میں دین کو اس طرح قائم کرے گا جس طرح میں ابتدائی زمانہ میں اسے قائم کر رہا ہوں۔(ینابیع المودۃ جز ثالث صفحہ165)