//درس القرآن
quran

درس القرآن

يٰاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۔وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا(سورة الاحزاب: 29-30)

ترجمہ

اے نبي! اپني بيويوں سے کہہ دے کہ اگر تم دنيا کي زندگي اور اس کي زينت چاہتي ہو تو آؤ ميں تمہيں مالي فائدہ پہنچاؤں اور عمدگي کے ساتھ تمہيں رخصت کروں۔ اور اگر تم اللہ کو چاہتي ہو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو تو يقيناً اللہ نے تم ميں سے حسنِ عمل کرنے واليوں کے لئے بہت بڑا اجر تيار کيا ہے۔

تفسير

اے نبي اپني بيويوں کو کہہ دے۔ کہ اگر تم دنيوي زيب و زينت اور مال اسباب کي خواہش مند ہو۔ تو آؤ۔ ميں تمہيں رخصت کردوں۔ ان دونوں آيات کا باہم ربط يہ ہے کہ جب فتوحات سے متعلق پيشگوئيوں کي آيات نازل ہوئيں۔ تو طبعاً آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے اہلِ بيت کے دل ميں يہ خيال آسکتا تھا کہ جب اس قدر فتوحات ہوں گے اور بے شمار مالِ غنيمت آئے گا۔ اور قيصر وکسرٰي کے خزانے يہاں مدينہ ميں آجاويں گے تو ہم کو بڑا مال و دولت ہاتھ آئے گا۔ اور بڑے عيش و آرام سے زندگي بسر ہوگي۔ برخلاف اس کے نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کبھي اپنے واسطے جمع کرنا اور مال و دولت سے دل لگانا گناہ سمجھتے تھے۔ اور صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کي خاطر وہاں رہنا انہوں نے منظور کيا۔

قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ: اس سے پہلے مال و منال دينے کا ذکر کيا ہے۔ تو ساتھ نبي کي بيويوں کو سنا ديا کہ يہ دنيا کے ساز و سامان تمہارے لئے نہيں۔ اس بات کا خيال بھي نہ کرنا۔

يہ آيتيں قرآنِ شريف کے 21 پارہ کے اخير اور 22 کے ابتداء کي ہيں۔ ان ميں خدا نے ايک گھرواليوں کو وعظ فرمايا ہے۔ اس گھر اور اس واعظ کا وعظ اور جن بيبيوں سے اس وعظ کا تعلق ہے اس کا ذکر فرمايا ہے۔ اس سے ميري غرض يہ ہے کہ واعظ تو محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم تھے اور وہ ذاتِ گرامي ہے جس کے لئے دنيا کو يہ حکم ہوا۔ کہ

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(آل عمران:32) کہ اگر تم کو يہ منظور ہے کہ خدا کے محبوب بنو تو اس کي اتباع کرو۔

جب انسان کسي کا پيارا بنتا ہے تو پيار کرنے والا اپنے پيارے کي تکليف کو پسند نہيں کرتا۔ اگر کسي غلطي کي وجہ سے وہ کسي تکليف ميں ہو تو اس کي تکاليف کو وہ دُور کرتا ہے مگر کچھ ايسے بھي ہوتے ہيں کہ محبوب کي تکليف ديکھتے ہيں اور اس کو دُور نہيں کرسکتے۔ اس لئے کہ ان ميں طاقت دُور کرنے کي نہيں ہوتي۔ مگر خدا تو کامل قدرت والا اور کامل علم والا ہے۔ پس خدا نے فرمايا کہ اگر تم کو مجھ سے تعلق ہے تو محمد صلي اللہ عليہ وسلم کي اتباع کرو۔ پھر تم ميرے محبوب بن جاؤگے۔ جب تم اس کے محبوب بن جاؤ گے تو ہر ايک قسم کے سامان تمہارے لئے اللہ تعاليٰ مہيا کرے گا۔ پس اللہ تعاليٰ نے اس پاک بندے سے گھر ميں وعظ کرواديا۔ اس لئے کہ ہم اس پر عمل کرکے فضل اور ابدي آرام حاصل کريں۔ محمد صلي اللہ عليہ وسلم نے وعظ کيا اور اپني بيبيوں کو سنايا۔ وہ بيبياں کيسي تھيں۔ الطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ (النور:27)

پس ان بيبيوں کو وعظ سنايا۔

ہم کو اتباع کا حکم ہے اس لئے کہ يہ وعظ محمد صلي اللہ عليہ وسلم کو دو طرح پر سنانے کے لئے مامور کيا جاتا ہے۔ پہلے رسول اللہ کي اتباع کا حکم۔ دوسرے اس کے سچے اور حقيقي نائب اور خدا کے پاک بندے نے حکم ديا ہے کہ ميں تم کو وعظ سناؤں۔

تمہارے لئے اس دنيا اور اس کي زينت کا ارادہ کرنا۔ خدا کا منشاء نہيں۔ جب وہ خدا اور رسول اور يومِ آخرت کا ارادہ کريں گي۔تو خداتعاليٰ ضائع نہيں کرے گا۔ اور اگر تم سے کوئي غلطي ہوگي تو دوہرا عذاب ہوگا کيونکہ ان کے چال چلن کا اثر دوسري عورتوں پر پڑے گا۔ اگر وہ اپنے خاوند کے حالات پر غور نہ کريں اپنا نيک نمونہ دوسري عورتوں کو نہ دکھاويں گي تو بہت بُرا جواب دہ ہونا پڑے گا۔ خدا کا منشاء ان کے لئے بھي وہي ہے جو رسولؐ اللہ کي بيبيوں کے لئے تھا۔(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 403 تا 406)