//درس القرآن

درس القرآن

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوْا اَنَّكُمْ مُّلَاقُوهُ وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِينَ (البقرة( 224)

ترجمہ

تمہاري عورتيں تمہاري کھيتياں ہيں پس اپني کھيتيوں کے پاس آؤ۔ اور اپنے نفوس کے لئے (کچھ) آگے بھيجو۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم ضرور اس سے ملنے والے ہو۔ اورمومنوں کو (امر کي) بشارت ديدے۔

تفسير

اس آيت کريمہ کو بعض ظالموں نے بگاڑ کر، نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذٰلک، بيويوں سے غير فطري تعلقات کا جواز نکالا ہے۔ يہ بڑا بھاري ظلم ہے۔ کھيتي سے مراد يہ ہے کہ عورت بقاءِ نسل کا ذريعہ ہے اور غير فطري تعلقات کے نتيجہ ميں ہرگز نسل پيدا نہيں ہوسکتي۔

عورتوں کو کھيت کہنے کي غرض کيا ہے اوّل يہ کہ اس سے خلافِ وضعِ فطرت عمل نہ کيا جاوے۔ دوم اس سے بکثرت جماع نہ کيا جاوے۔ سوم اس کي اور اس کے حمل کي ہميشہ حفاظت ہو۔ چہارم جن کے بچے گِر جاتے يا مر جاتے ہيں وہ اس تشبيہ سے يہ فائدہ اٹھائيں کہ ايک سال صحبت ترک کرديں جس طرح زمين اس ترک سے مضبوط ہوجاتي ہے اسي طرح وہ عورت قابل حمل رکھنے کے ہوجائے گي۔ پنجم اپنے کھيت ميں دوسرے کا بيج پڑنے نہ ديں اس لئے کہ اس سے فساد ہوگا۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ نمبر 361)

تمہاري بيوياں تمہارے لئے بطور کھيتي کے ہيں تم جس طرح چاہو ان ميں آؤ۔ اس پر کوئي کہہ سکتا ہے کہ جب يہ کہا گيا ہے کہ ہم جس طرح چاہيں کريں تو اچھا ہم تو چاہتے ہيں کہ عورتوں سے تعلق نہ رکھيں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے کہ وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ اس طرح آؤ کے آگے نسل چلے اور يادگار قائم رہے۔ پس تم اس تعلق کو بُرا نہ سمجھنا۔

(فضائل القرآن نمبر 3 صفحہ 174)

حديث

رسول کريمﷺ نے فرمايا:

دنيا ميں سے تين چيزيں مجھے بہت پسند ہيں۔ النِّسَاءُ (عورتيں)، اَلطِّیْبُ (خوشبو)، وَجُعِلَت قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰةِ اور ميري آنکھوں کي ٹھنڈک تو نماز ميں رکھي گئي ہے۔يہ حديث بتاتي ہے کہ مرد و عورت کے جنسي تعلقات بھي تسکين اور ٹھنڈک کا موجب ہوتے ہيں اور خوشبو سے بھي قلب کو سکون محسوس ہوتا ہے اور نماز ميں اللہ تعاليٰ کے حضور گريہ و زاري اور عاجزانہ دعائيں جو لذّت پيدا کرتي ہيں وہ بھي انسان کے لئے سکون کا موجب ہوتي ہيں۔

(فضائل القرآ ن نمبر 3 صفحہ 166)