//خواتین کی ترقی لیکن استحصال کے ساتھ

خواتین کی ترقی لیکن استحصال کے ساتھ

تحریر راضیہ سید

‘خواتين آج کل ہر شعبہ زندگي ميں کام کر رہي ہيں اور اپني قابليت کا لوہا بھي منوا رہي ہيں۔ يہ جملہ زبان زدعام ہے اور کسي حد تک درست بھي ہے ليکن کيا حقيقي معنوں ميں اس پر عمل ہوتا بھي ہے؟‌ اس سے کم ازکم ميں تو متفق نہيں کيونکہ تمام ہي شعبہ جات ميں جنسي ہراسگي تو ايک طرف رہي، امتيازي سلوک اور کردار کشي، جنسي ہراساني سے بھي زيادہ سنگين صورتحال اختيار کر چکي ہے۔

يہ بات ماننے والي ہے کہ کارپوريٹ سکيٹر بہت ہي سنگ دل ہے، اب چاہے وہ سرکاري نوکري ہے يا پرائيوئٹ سيکٹر، جہاں معمولي سي لغزشوں پر بھي نوکري سے بے دخل کر ديا جاتا ہے اور کسي مجبور انسان کا کوئي خيال نہيں کيا جاتا۔

انسان اب تک اپني بقا کي جنگ لڑ رہا ہے ليکن خواتين کو مردوں کے مقابلے ميں دگني جدوجہد کرنا پڑ رہي ہے يہي تلخ حقيقت ہے۔ ملازمت پيشہ خواتين کے ساتھ امتيازي سلوک درحقيقت جنسي ہراساني سے بھي زيادہ خطرناک ہے ليکن قابل افسوس يہ ہے کہ ہم صرف جنسي ہراسگي پر ہي بات کر کے اصل مسئلے سے نظريں چرا ليتے ہيں۔ ابھي تک ہم اس امتيازي سلوک جيسے مسئلے کا کوئي حل نہيں ڈھونڈ سکے تو خواتين کو مساوي وسائل کيا فراہم کريں گے اور کيسے انھيں قومي دھارے ميں شامل کريں گے ؟

ہمارے ہاں دفتروں ميں خواتين کو اعليٰ عہدے تو دے دئيے جاتے ہيں ليکن ان کي قابليت پر ہميشہ سوال اٹھايا جاتا ہے، مزيد يہ کہ ان کي خوبيوں کا کبھي اعتراف نہيں کيا جاتا۔ ہميشہ يہي سوچا جاتا ہے کہ يہ خاتون يقينا ً بدعنوان اور بدکردار ہے جس نے يہاں تک پہنچنے کے لئے اپني مرضي سے اپني عزت دائو پر لگائي ہے۔

کوئي يہ نہيں سوچتا کہ يہ خاتون اپني محنت کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچي ہے بلکہ يہاں تک باتيں کي جاتي ہيں کہ آج کل تو لڑکياں اپني حرکات و سکنات سے من پسند پروفيسروں سے اپني مرضي کے نمبر بھي لگوا ليتي ہيں اور اب ميرٹ کا زمانہ ہي نہيں رہا۔

اس سارے عمل ميں زيادہ تر ان خواتين کے مقابلے ميں نچلے عہدوں پر کام کرنے والے افراد شامل ہوتے ہيں جن کا کام يعني جسے ايک طرح سے کھوج لگانا کہا جا سکتا ہے وہي ہوتا ہے۔ ايسے افراد ان خواتين کي سامنے تو بہت تعريف کرتے ہيں ليکن درپردہ کسي نہ کسي موقع کي تلاش ميں رہتے اور سازشيں کرتے رہتے ہيں۔

ميرے مشاہدے ميں يہ بات بھي آئي ہے کہ ايسي خواتين کے لئے سازشوں کے ذريعے دفتري ماحول کو اس طرح سے بنا ديا گيا کہ وہ کوئي بھي کام نہ کرسکيں يا باس کے ساتھ ان کا سکينڈل بنا ديا گيا تاکہ وہ اپني بدنامي کے ڈر سے نوکري چھوڑ ديں اور نااہل خواتين کے لئے راہيں ہموار ہو سکيں۔ کئي مرد حضرات تو ايسے ڈھيٹ ہوتے ہيں جو نہ تو قابل خواتين کي ذہانت کو تسليم کرتے ہيں اور نہ ہي خاموش رہتے ہيں بلکہ ہر جگہ وہ ببانگ دہل يہ کہتے ہوئے دکھائي ديتے ہيں کہ جناب آپ کو تو کچھ آتا ہي نہيں آپ کو تو خاتون ہونے کي بنا پر فوقيت دي گئي ہے۔ يا يہ کہ يہاں پہلے تو اس سيٹ کا وجود ہي نہيں تھا بس آپ کے آنے کي دير تھي کہ باس نے اس سيٹ کي بھي گنجائش بنا لي۔

اسي طرح اگر باس موجود نہ ہوں تو ايسے نچلے درجے کے افسران خاتون کا جينا محال کر ديتے ہيں۔ انھيں کراس ٹاک کے ذريعے کسي بھي گھٹيا مذاق کا نشانہ بنا يا جاتا ہے۔ مختلف انجان نمبروں سے ميلز اور نامناسب ميسجز بھيجے جانے کا سلسلہ جاري رہتا ہے۔

دوسرا خواتين کو تنخواہ بھي کم دي جاتي ہے، وہ دفتري کام بھي زيادہ کرتي ہيں اور ان کے اضافي کام کا کريڈٹ بھي بہت آساني سے مردحضرات لينے لگتے ہيں۔ يہ صورتحال بھي ايسي محنتي خواتين کے لئے سر دردي کا باعث بننے لگتي ہے اور وہ دلبرداشتہ ہو کر باوجود باصلاحيت ہونے کے نوکري ہي چھوڑ ديتي ہيں۔

پنجابي زبان کا ايک مشہور محاورہ ہے کہ کہنٹراں تي نوں تے سناڑاں نوہ نوں ‘‘ يعني بات بھي کر دو کہ پتہ بھي چل جائے اور آپ کسي کي نظروں ميں قصور وار بھي نہ ٹھہريں۔ کسي کو بات سنا بھي ديں اور کسي دوسرے کو بھي علم نہ ہو کہ يہ کارنامہ آپ کا ہے۔ سو خواتين پر اس طرح سے جملے کسے جاتے ہيں کہ لوگ تو پيسٹري کي طرح اچھے لگ رہے ہيں ميرا تو ميٹھا کھانے کا موڈ ہو رہا ہے۔ آج باس آئے نہيں اور آپ آگئيں بھئي آپ تو خود باس ہيں يہ پورا دفتر ہي آپ کا ہے۔ آپ نہ آئيں ميٹرنٹي ليو لے ليں لوگو پورا دفتر ماموں بننے والا ہے۔

خواتين کا مذاق اڑانا، ان پر جملے کسنا، ان کي توہين کرنا، معذرت کے ساتھ يہ ذہينت کبھي تبديل نہيں ہو گي۔ ميں نے بہت سے سوٹڈ بوٹڈ افراد کو بھي خواتين کے ساتھ بدسلوکي کرتے ديکھا ہے۔ اپنے سے سنئير اور اعلي عہدے پر فائز خواتين کا مذاق اڑاتے ديکھا ہے لہذا اس ترقي يافتہ دور ميں بھي ميں يہ کہنے پر مجبور ہوں کہ خواتين کي ترقي کے دعوے صرف دعوے ہي ہيں، ان ميں حقيقت صرف اتني ہے کہ خواتين کي ترقي استحصال کے ساتھ ہو رہي ہے۔

کيا ہميں ہراسگي کي طرح اس مسئلے کو بھي حل کرنے کي ضرورت نہيں، کيا اس سنجيدہ ايشو کيلئے قانون سازي نہيں ہوني چاہئے، يہ سوال عوام کے ووٹوں سے اقتدار کے ايوانوں ميں پہنچنے والوں پر چھوڑتے ہيں خصوصا ان خواتين اراکين پارليمان پر جو خواتين کي ترقي اور ان کے حقوق کي بالادستي کے بيانات تو خوب ٹھوک بجا کر ديتي ہيں ليکن عملي طور پر کيا کرتي ہيں،وقت خودبتا دے گا۔