//خواتین کو وراثتی حقوق کب ملیں گے

خواتین کو وراثتی حقوق کب ملیں گے

. تحریر راضیہ سید

’’ بھئي آپ تو اپنے گھرجائيں، شادي کے بعد شوہر کا گھر نصيب ہو گيا ہے تو بي بي اُسي کو اپنا گھر سمجھو۔ بھاگ بھاگ کر يہاں آنے کي ضرورت نہيں، اب ہمارے بچے بھي بڑے ہو رہے ہيں۔ يہ مکان ہم بيچ نہيں سکتے، تمھارے بھيا کو کاروبار ميں خسارہ ہوا ہے۔ وہ آج ہي مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم خدانخواستہ تمھارا حصہ نہيں کھانا چاہ رہے ليکن حقيقت بھي تمہارے سامنے ہے۔ اس لئے شمع تم اپنے حصے کا باربار تقاضا مت کياکرو۔ ‘‘

ہمارے معاشرے ميں شمع جيسي بہت سي خواتين ايسي ہيں جنہيں اسلام ميں خواتين کے لئے واضح حقوق متعين ہونے اور ايک اسلامي فلاحي رياست کا شہري ہونے کي باوجود کوئي حقوق نہيں ملتے۔ بلکہ الٹا اگر وہ اپنے وراثتي حقوق مانگ ليں تو ان سے باز پرس کي جاتي ہے کہ آخر انہيں يہ جرات ہي کيوں کر ہوئي ؟

اگرچہ کہ پاکستان کے قانون وارثت کي دفعہ 498 اے کے مطابق بيوہ اور کنواري تمام تر خواتين کو جائيداد کے حصول کے لئے حقوق دئيے گئے ہيں۔ ليکن قوانين کے لکھنے سے يہ مراد نہيں ہے کہ قوانين پر عمل بھي ہو رہا ہے، قوانين کا اطلاق بھي چھوڑيں کہ ہوا يا نہيں۔ سب سے پہلے ہميں يہ ديکھنا پڑے گا کہ ايسے کون سے عوامل ہيں کہ جن کي بنا پر خاتون خود ہي جائيداد لينے سے انکار کر ديتي ہے يا باوجود احتجاج کے اس کا جينا محال کر ديا جاتا ہے۔

اس مہذب معاشرے ميں اب بھي مائيں بيٹوں کو سروں کا تاج سمجھتي اور لڑکيوں کو بچپن سے ہي يہ سکھاتي ہيں کہ يہ تمھارا گھر نہيں بلکہ تمھارے شوہر کا گھر ہي تمھارا ہو گا۔ يہاں تم مہمانوں کي طرح رہو جس کي وجہ سے ابتدا ہي سے لڑکيوں ميں احساس کمتري جنم ليتا ہے اور وہ اپنے بھائيوں کو ہي گھر کا اصلي وارث سمجھ بيٹھتي ہيں۔

دور حاضر ميں کئي گھروں ميں گھر داماد کا بھي رواج چل نکلا ہے، ايک بہن کي جب شادي الگ گھر ميں ہوتي ہے اوروہ شوہر کے ہمراہ چلي جاتي ہے اور اگر باقي بہنيں گھر داماد وں کے ساتھ باپ کے گھر ميں رہائش پذير ہوں تو بہنوئيوں کي بھي مرضي ہوتي ہے کہ الگ رہنے والي سالي کم سے کم گھر ميں آئے اور يہ کہ ہم ہي اس گھر پر اپنا قبضہ جمائے رکھيں يا حصہ لينے کے لئے اتنا دبائو ڈاليں کہ سالي خود بخود ہي الگ رہنے پر مجبور ہو جائے اور انھيں کچھ نہ کہا جائے۔

يہي صورتحال شادي شدہ خواتين کي زندگي ميں بھي نظر آتي ہے کہ بيوہ ہونے کي صورت ميں ان کا کوئي پرسان حال نہيں ہوتا۔ ايک تو ميکے والے بوجھ نہيں اٹھاتے کہ انہوں نے بس بياہ کر اپنا فرض پورا کر ديا اور دوسري جانب سسرال والے خاوند کے بعد برداشت نہيں کرتے۔

حالانکہ پاکستان کے حق وارثت کے قانون ميں درج ہے کہ خاتون کي چاہے شادي ہو يا نہ ہو، وہ بھائيوں کي موجودگي ميں جائيداد کے آدھے حصے کي وارث ہے، اسي طرح اگر ايک بيوہ عورت، شوہر کے مرنے کے بعد دوسري شادي کرتي ہے تو وہاں بھي ناقابل واپسي، جائيداد کي مالک ہے۔

اگر کوئي بيوہ شوہر کے مرنے کے بعد سسرال ميں نہيں بھي رہتي پھر بھي وہ خاوند کي جائيداد کي وارث ہے، اگر مرنے والے کي کوئي اولاد نہيں ہے تو بيوہ کو کل جائيداد کا چوتھا اور اگر اولاد ہے تو ايک بٹا آٹھ حصہ ملتا ہے۔ بيوہ اور کنواري دونوں خواتين وارثت ميں ملنے والي جائيداد فروخت بھي کر سکتي ہيں۔

ليکن ان سب تحريري قوانين کے باوجود خواتين کورٹ کچہريوں کے چکر ہي کاٹتي رہتي ہيں۔ خواتين کي جائيداد سے متعلق قانون سازي کے بارے ميں حاليہ اقدام ايک ايکٹ کي صورت ميں سامنے آئے ہيں جو گذشتہ سال ۲۰۱۹ ميں مئي کے مہينے ميں پيش کيا گيا تھا، اس ايکٹ کو ’’ انسفورسٹ ويمنز پراپرٹي ايکٹ ۲۰۱۹ ‘‘ کا نام ديا گيا ہے۔

مذکورہ ايکٹ کے تحت کوئي بھي خاتون جسے اسکي وراثتي جائيداد سے محروم کر ديا گيا ہو وہ خود يا اسکي جانب سے کوئي دوسرا شخص محتسب کے پاس تحريري درخواست جمع کروا سکتا ہے۔ محتسب کے پاس اس مسئلے کے حل کے لئے وہ تمام تر اختيارات ہوں گے جو وہ ملازمت کي جگہ پر خواتين کو ہراساں کرنے سے متعلق قوانين کے اطلاق کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ جائيداد سے متعلق جان نشيني سرٹيفيکٹ پہلے سيشن کورٹ ديتي تھي ليکن اب نادرہ کا ادارہ ۱۵ دن کے اندر جاري کرے گا جس سے جائيداد کي منتقلي کے عمل ميں آساني پيدا ہو گي کيونکہ خواتين سول کورٹ کے چکر لگا لگا کر تھک جاتي تھيں اور ان کي دادرسي کوئي نہ کرتا تھا۔

اب وارثتي انتقال کے لئے ورثا کے شناختي کارڈ اور ب فارم لازمي قرار دئيے گئے ہيں تاکہ جعلي کاغذات نہ بن سکيں۔ جائيداد پر قبضے يا نہ دينے کي صورت ميں محتسب پہلے تمام تر شکايت کا جائزہ خود لے گا اور ابتدائي شکايت کے بعد مزيد تفتيش کي ضرورت ہوئي تو متعلقہ ڈپٹي کمشنر کي خدمات حاصل کي جائيں گي جو ۱۵ دن کے اندر اند ر اور ضروري معلومات اکٹھي کر کے محتسب کے پاس جمع کروائے گا۔ جب جائيداد کي منتقلي کي بات آئے گي تو محتسب ڈپٹي کمشنر کو ہدايات جاري کر سکتا ہے کہ وہ پوليس کے انچارج کو بھي طلب کرلے۔ تاہم يہ بات بھي ذہن نشين رہے کہ محتسب زيادہ تر ايسے جائيداد کے معاملات کو ہي ديکھے گا جبکہ کسي بھي عدالت ميں مذکورہ جائيداد سے متعلق زير التوا نہ ہوں۔

ديکھا جائے تو اس ايکٹ کے تحت محتسب کے اختيارات ميں بہت اضافہ کيا گيا ہے ليکن رياستي قوانين کي درستگي اس لئے کارآمد ثابت نہيں ہو سکتي کہ عموما ہماري اسمبليوں ميں زيادہ تر جاگير دار طبقہ موجود ہے جوکبھي نہيں چاہتا کہ خود ان کے اپنے گھر کي خواتين بھي خود مختار ہو جائيں۔

دوسري طرف ہمارا معاشرہ اور اسکے کئي فرسودہ اصول اکيسويں صدي ميں لڑکيوں کو ان کے ظالم بھائيوں اور بہنوئيوں کے شر سے نہيں بچا سکتے اور وہ رعب جما کر ان سے ان کي جائيداد ہتھيا ليتے ہيں۔ ہم شايد صرف نام کے اسلامي معاشرے ميں رہتے ہيں جہاں خواتين سے جھگڑا کر کے ان پر رعب جما کے ان کو اور بھي کمزور بنا ديا جاتا ہے۔ يہ ظلم کرنے والے افراد يہ بھول جاتے ہيں کہ اللہ تعالي کي لاٹھي بے آواز ہوا کرتي ہے اور وہ صرف ظالموں کي رسي دراز کرتا ہے۔