//خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِهٖ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِهٖ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ

تحریرخنساء رفعت انگلینڈ

رسول اکرم ﷺکي سيرت طيبہ کے چند نہايت اہم پہلوؤں ميں سے ايک پہلو خواتين سے حسن سلوک ہے۔

حقيقت يہ ہے کہ انساني تاريخ ميں رسول اکرم ﷺکي وہ ذات گرامي ہي ہے جس نے اللہ تعاليٰ کي رہنمائي ميں عورتوں کي صحيح تربيت کي شناخت کي، اللہ کے رسول نے عورت کو جو عزت و عظمت کا مقام ديا، جس طرح اس کے حقوق کا خيال رکھ اس کي مثال نہيں ملتي، آپؐ نے حصولِ علم کو مرد کي طرح عورت کے لئے بھي واجب قرار ديا، آپؐ نے مختلف احاديث ميں عورت کے ساتھ بہترين سلوک کي تلقين کي، آپؐ نے فرمايا: عورتيں مردوں کا نصف حصہ ہيں، نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي نظر ميں دنيا کي تين سب سے قيمتي متاع ہيں: (۱) نماز۔ (۲) خوشبو۔ (۳) عورت۔

نبي کريم ﷺنے صرف غلاموں کو ہي آقا کے برابر کھڑا نہيں کيا بلکہ صديوں سے ظلم و ستم کا شکار بني عورت کو عزت و شرف کے سب سے اونچے مقام پر بٹھاکر عورتوں کو ان کا جائز مقام دلايا، نبي کريم صلي الله عليه وسلم نے رب کائنات کا يہ ارشاد نقل فرمايا: هم نے انسان کو ايک جان سے پيدا کيا، اس کي جنس سے اس کا جوڑا بنايا۔ اور ان کے درميان محبت پيدا فرمائي۔ حجة الوداع کے موقع پر آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ’’عورتوں کے بارے ميں ميري طرف سے نصيحت قبول کرو، تم ميں سب سے بہتر شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور اچھے اخلاق والا وہ ہے جو اپني بيوي کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہو‘‘۔

آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے متعلق آپؐ کے اہل بيت کا بيان ہے کہ آپؐ گھر ميں بلندآواز سے کلام نہيں کرتے۔ نہ چھوٹي چھوٹي باتوں پر برا مناتے ہيں بلکہ ايک لازوال بشاشت اور غيرمفتوح مسکراہٹ ہے۔ ازواج کہتي ہيں آپؐ سب سے نرم خُو، اخلاق کريمانہ کي بارشيں برسانے والے بہت ہنسنے والے اور بہت مسکرانے والےہيں۔       (طبقات ابن سعد جلد اول)

 حضرت عائشہؓ فرمايا کرتي تھيں کہ رسول اللہﷺ کبھي کوئي درشت کلمہ اپني زبان پر نہ لاتے۔ نيز فرماتي ہيں کہ آپؐ تمام لوگوں سے زيادہ نرم خو تھے اور سب سے زيادہ کريم۔ عام آدميوں کي طرح بلا تکلف گھر ميں رہنے والے، آپؐ نے منہ پر کبھي تيوري نہيں چڑھائي ہميشہ مسکراتے ہي رہتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کا يہ بھي بيان ہے کہ اپني ساري زندگي ميں آنحضرتؐ نے اپنے کسي خادم يا بيوي پر ہاتھ نہيں اٹھايا۔ (شمائل الترمذي باب في خلق رسول اللہﷺ)حضرت عائشہؓ سے روايت ہے وہ کہتي ہيں کہ جب ميں بياہ کر آئي تو ميں حضورؐ کے گھر ميں بھي گڑيوں سے کھيلا کرتي تھي اور ميري سہيلياں بھي تھيں جو ميرے ساتھ مل کر گڑيوں سے کھيلا کرتي تھيں۔ جب حضورؐ گھر تشريف لاتے(اور ہم کھيل رہي ہوتيں) تو ميري سہيلياں حضورؐ کو ديکھ کر ادھر اُدھر کھسک جاتيں ليکن حضورؐ ان سب کو اکٹھا کرکے ميرے پاس لے آتے اور پھر وہ ميرے ساتھ مل کر کھيلتي رہتيں۔ (صحيح بخاري کتاب الادب )حضرت عائشہؓ سے روايت ہے وہ کہتي ہيں کہ جب حضورؐ جنگ تبوک سے واپس آئے يا شايد يہ اس وقت کي بات ہے جب حضورؐ خيبر سے واپس آئے توميرے پاس تشريف لائے۔ ان کے صحن ميں ايک جگہ پردہ لٹک رہا تھا ہوا کا ايک جھونکا آيا تو اس پردہ کا ايک سراہٹ گيا۔ اس پردہ کے پيچھے حضرت عائشہؓ کي گڑياں رکھي تھيں پردہ ہٹا تو وہ نظر آنے لگيں۔

آنحضرتﷺ نے پوچھاعائشہؓ يہ کيا ہے۔انہوں نے جواب دياکہ ميري گڑياں ہيں۔ حضورؐ کي نظر پڑي تو ديکھا کہ ان گڑيوں کے درميان ميں ايک گھوڑا کھڑا ہے جس کے چمڑے کے پر ہيں۔ آپؐ نے فرمايا مجھے ان گڑيوں کے درميان کيا نظر آرہا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے جواب ديا کہ گھوڑا ہے۔آپؐ نے پوچھا(پروں کي طرف اشارہ کرکے) کہ گھوڑے کے اوپر يہ کيا چيز ہے۔ حضرت عائشہؓ نے جواب ديا کہ پر ہيں۔ آپؐ نے فرمايا بھئي تعجب ہے پروں والا گھوڑا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمايا کہ آپؐ نے سنا نہيں کہ حضرت سليمان کا بھي ايک گھوڑا تھا جس کے بہت سے پر تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتي ہيں کہ جب ميں نے يہ کہا تو حضورؐ بے اختيار ہنس پڑے اور ايسي شگفتہ کھلي ہوئي ہنسي تھي کہ حضورؐ ہنسے تو دہن مبارک اتنا کھل گيا کہ مجھے حضورؐ کے سامنے کے آخري دانت بھي نظر آنے لگے۔(بخاري کتاب الادب)

حضرت خديجہؓ کي زندگي ميں بلکہ ان کي وفات کے بعد بھي آپؐ نے کئي سال تک دوسري بيوي نہيں کي اور ہميشہ محبت اور وفا کے جذبات کے ساتھ حضرت خديجہؓ کا محبت بھرا سلوک ياد کيا۔ آپؐ کي ساري اولاد جو حضرت خديجہؓ کے بطن سے تھي اس کي تربيت وپرورش کا خوب لحاظ رکھا۔ نہ صرف ان کے حقوق ادا کئے بلکہ خديجہؓ کي امانت سمجھ کر ان سے کمال درجہ محبت فرمائي۔ حضرت خديجہؓ کي بہن ہالہ کي آواز کان ميں پڑتے ہي کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے خديجہؓ کي بہن ہالہ آئي ہے۔ گھر ميں کوئي جانور ذبح ہوتا تو اُس کا گوشت حضرت خديجہؓ کي سہيليوں ميں بھجوانے کي تاکيد فرماتے۔ الغرض آپؐ خديجہؓ کي وفاؤں کے تذکرے کرتے تھکتے نہ تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتي ہيں ‘‘مجھے کبھي کسي زندہ بيوي کے ساتھ اتني غيرت نہيں ہوئي جتني حضرت خديجہؓ کے ساتھ ہوئي حالانکہ وہ ميري شادي سے تين سال قبل وفات پاچکي تھيں۔’’ کبھي تو ميں اُکتا کر کہہ ديتي يا رسول اللہؐ !اللہ تعاليٰ نے آپ کو اتني اچھي بيوياں عطا فرمائي ہيں اب اس بڑھيا کاذکر جانے بھي ديں۔ آپؐ فرماتے ‘‘نہيں نہيں خديجہؓ اس وقت ميري سِپر بنيں جب ميں بے يار و مدد گارتھا۔وہ اپنے مال کے ساتھ مجھ پر فدا ہوگئيں۔ اور اللہ تعاليٰ نے مجھے ان سے اولاد عطا کي۔ انہوں نے اس وقت ميري تصديق کي جب لوگوں نے جھٹلايا۔’’ (مسلم کتاب الفضائل)

حضرت انس بن مالکؓ بيان کرتے ہيں کہ غزوہ عسفان سے واپسي کے وقت ہم آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ حضورؐ کے پيچھے اونٹني پر حضرت صفيہؓ بيٹھي ہوئي تھيں۔ اونٹني کے ٹھوکر کھانے کي وجہ سے دونوں گر پڑے۔ ابو طلحہ حضورؐ کو سہارا دينے کے لئے لپکے۔ حضورؐ نے فرمايا علیک المراۃ پہلے عورت کا خيال کرو۔ ابو طلحہ ؓيہ سن کر منہ پر کپڑا ڈال کر حضرت صفيہ کے پاس آئے اور ان پر کپڑا ڈال ديا۔ پھر ان دونوں کے لئے سواري کو درست کيا۔ حضورؐ اور حضرت صفيہؓ اس پر سوار ہو گئے۔     (بخاري کتاب الجھاد حديث نمبر2856)

حضورؐ کا فرمان کيسا عجيب ہے ميرا خيال چھوڑ و عورت کي خبر لو، گويا Ladies First کا محاورہ سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي زبان سے جاري ہوا۔

ايک سفر ميں آپؐ کي بيوياں اونٹوں پر سوار تھيں کہ حدي خواں انجشہ نامي نے اونٹوں کو تيز ہانکنا شروع کر ديا۔ آنحضرتؐ فرمانے لگے ’’ اے انجشہ! تيرا بھلا ہو۔ ان نازک شيشوں کا خيال رکھنا۔ ان آبگينوں کو ٹھوکر نہ لگے۔ يہ شيشے ٹوٹنے نہ پائيں۔ اونٹوں کو آہستہ ہانکو‘‘۔ اس واقعہ کے ايک راوي ابو قلابہؓ بيان کيا کرتے تھے کہ ديکھو رسول اللہؐ نے عورتوں کي نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے ان کو شيشے کہا۔ يہ محاورہ اگر کوئي اور استعمال کرتا تو تم لوگ عورتوں کے ايسے خير خواہ کوکب جينے ديتے ضرور اسے ملامت کرتے۔ (مسلم کتاب الفضائل باب رحمة النبيؐ حديث نمبر 4287)

جس طرح گلاس کے پيکٹ پر لکھا ہوتا ہے Handle With Care اسي طرح رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے يہ محاورہ عورت کے لئے ايجاد فرمايا تھا۔

ميں نے آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے اپنےاہل کے ساتھ اس بے پناہ محبت اور پذيرائي کے سلوک کے صرف چند لمحوں کو آپ کے ساتھ بانٹا ہے۔ ورنہ حضور اکرم ؐکي زندگي کا کوئي لمحہ بھي ايسا نہيں تھا جو آپؐ کے متبعين کے ليے تربيت کا ذريعہ نہ ہو۔۔ اگر جذبات کے خيال کي بات ہو تو آپؐ سے بڑھ کر بيويوں کے لئے کوئي ہمدرد نہيں، انصاف کي بات ہو تو آپؐ انصاف کے سنگھاسن پہ شہنشاہ کي طرح براجمان نظر آتے ہيں۔۔ آپؐ اپني ازواج کي تعليم اور تربيت کے لئے ہر لمحہ کوشاں رہتے، ان سے محبت کرتے اور عزت نفس کا خيال رکھتے، يہ خوبي جس معاشرہ اور گھر ميں پيدا ہوجائيگي وہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائيگا۔

اللہ تعالٰي ہميں توفيق عطا فرمائے کہ ہم آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کي سنت مبارکہ پہ عمل کرتے ہوئے اتباع رسولؐ کا صحيح حق ادا کرسکيں آمين ثم آمين …