//جن اللہ کی ایک مخلوق

جن اللہ کی ایک مخلوق

قُلْ اُوْحِيَ اِلََّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا)سورة الجن: 2(

اِسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ : جنّ اللہ تعاليٰ کي ايک مخلوق ہے۔ جيسے ملائک وغيرہ اور اس کي مخلوق ہيں۔ ميں ہرگز اس بات کا قائل نہيں کہ جنّ اور ملائکہ کوئي چيز نہيں ہيں۔ ميں دونوں کا قائل ہوں۔ ليکن ہر جگہ جنّ کے لفظ کے وہي ايک معني نہيں۔ اور جو خيال کيا جاتا ہے کہ بعض عورتوں بچوں کو جنّ چمٹ جاتے ہيں مَيں اس کا قائل نہيں ہوں۔ لُغت کي رُو سے جنّ ان باريک اور چھوٹے چھوٹےموذي حيوانات کو بھي کہتے ہيں جو غير مرئي ہيں اور صرف خوورد بينوں سے دکھائي دے سکتے ہيں۔ طاعون کے باريک باريک کيڑے بھي جنّ کے نام سے موسوم ہيں۔ اسي لئے حديث شريف ميں طاعون کو وَخْزُ اَعْدَائِکُمْ مِنَ الْجَنِّ فرمايا ہے۔ اَحْمَدُ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ۔ طَبْرَانِی فِی الْاَوْسَطِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ۔ وَخْزُ کے معني نيش زني اور طعن کے ہيں۔ جنّ لُغت ميں بڑے آدميوں کو بھي کہتے ہيں۔ جِنُّ النَّاسِ مُعَظِّمُھُمْ شايد بڑے پيسے والے ساہوکاروں کو بھي مہاجن اسي واسطے کہا گيا ہے۔ کبوتر کے پيچھے دوڑنے والے انسان کو بھي جنّ کہا جاتا ہے۔

سورة احقاف رکوع 4 ميں ايک قوم کا ذکرہے۔ وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ (احقاف: 30) اس قوم نے نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے قرآن شريف سن کر اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰى (احقاف: 31) کہا۔ جنّ کے مدّمقابل انسان ہيں۔ انس غريب لوگ۔ جنّ بڑے لوگ۔

سورة الحجر ميں انسان اور جانّ‘‘ دونوں کي پيدائش کا ذکر ايک ساتھ ايک ہي آيت ميں يکے بعد ديگرے آيا ہے۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۔ وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ (الحجر: 27-28) آدم سے پہلے جانّ اور اس کي ذريّت تھي۔ اس سے کسي طرح انکار نہيں ہوسکتا۔ اور اب بھي جنّات غيرمرئي طور پر موجود ہيں۔

کارخانۂ قدرت کا انتظام اور انحصار محسوسات اور مرئيات تک ہي محدود نہيں ہے۔ اس لئے غيرمحسوس اور غيرمشہود وغيرمرئي عالم کا انکار محض حماقت اور ناداني ہے۔ اس لئے جُوں جُوں سائنس ترقي کرتي جاتي ہے۔ بہت سي باتيں ايسي معلوم ہوتي ہيں جو اس سے پہلے مانني مشکل تھيں۔ دُوربين اور خُودربين کي ايجاد نے بتاديا ہے کہ اس کرّہ ہوا ميں کس قدر جانور پھر رہے ہيں۔ ايسے ہي پاني کے ايک قطرے ميں لاانتہاء جانور پائے جاتے ہيں۔ حيواناتِ منوّيہ۔ ايک قطرہ مني ميں ديکھے جاتے ہيں۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خداتعاليٰ مخلوق اور انواعِ مخلوق کي حد بندي محض ناممکن ہے۔ اور صرف اپنے محدود علم کي بناء پر انکار محض ناداني ہے۔ اس لئے اوّلاً جنّات کے متعلق ياد رکھنا چاہئے کہ ہم کسي ايسي مخلوق کا جو انساني نوع سے نرالي ہو۔ انکار کرنے کا کوئي حق نہيں رکھتے۔ اور ہم يہ کہنے کي وجوہات رکھتے ہيں کہ جنّ خداتعاليٰ کي ايسي قسم کي مخلوق ہے جن کو انسان کي ظاہري آنکھيں نہيں ديکھ سکتيں۔ اس لئے کہ ان کي مادي ترکيب نہايت ہي لطيف اور ان کي بناوٹ غايت درجہ کي شفاف ہوتي ہے۔ جس کي وجہ سے انسان ان ظاہري آنکھوں سے انہيں نہيں ديکھ سکتے۔ اس کے ديکھنے کے لئے ايک دوسري حِس يعني روحاني آنکھ کي ضرورت ہے۔ يہي وجہ ہے کہ انبياء عليھم السلام اور اولياءاللہ اور مومنين صادقين ملائکہ وغيرہ غيرمرئي مخلوق کو بھي ديکھ ليتے ہيں۔ نہ صرف ديکھ ليتے ہيں بلکہ ان سے باتيں بھي کرليتے ہيں۔ خلاصہ يہ کہ اللہ تعاليٰ کي کسي ايسي مخلوق کو جس کو ہم ديکھ نہيں سکتے انکار کرنا دانشمندي نہيں۔ ہم اس بات پر ايمان رکھتے ہيں کہ خدا کي ايسي مخلوق دنيا ميں موجود ہے جو انساني نظروں سے پوشيدہ ہے۔ اور اسي وجہ سے اسے جنّ کہتے ہيں۔ کيونکہ عربي ميں جنّ اسے کہتے ہيں جس ميں اخفاء اور نہاں ہونا پايا جاتا ہے۔ جنّت۔ انساني نظر سے پوشيدہ ہے۔ جُنَّةٌ (ڈھال) جو انسان کو چھپاکر تلوار کے حملہ سے محفوظ رکھتي ہے۔ جنين۔ وہ بچہ جو ماں کے پيٹ ميں ہے۔ پوشيدہ ہے۔ جنون۔ عقل کو چھپانے والا مرض۔ جنّ۔ انساني نظر سے چُھپي ہوئي مخلوق۔ پس جنّ وہي مخلوق ہے جو عام انساني نظر سے پوشيدہ ہو۔ خواہ وہ کسي قسم کي مخلوق ہو۔ غرض جنّ ايک مخلوق ہے۔

ايک اور بات بھي يہاں بيان کردينے کے قابل ہے کہ احاديث ميں جنّ کا لفظ سانپ۔ کالے کتّے۔ مکھي۔ بھوري چيونٹي۔ وبائي جرمز۔ بجلي۔ کبوتر۔ باز۔ زقوم۔ بائيں ہاتھ سے کھانے والا۔ گدھا۔ بال پراگندہ رکھنے والا۔ غراب۔ ناک يا کان کٹا۔ شرير۔ سردار وغيرہ پر بھي بولا گيا ہے۔ ان توجيہات پر غور کرنے سے ان مفاسد اور مضّار کي حقيقت بھي معلوم ہوجاتي ہے۔ جو جنّوں سے منسوب کي جاتي ہے۔

اب اس بيان کے بعد يہ جاننا ضروري ہے کہ قرآن ميں يہاں جو ذکر کيا گيا ہے۔ اس سے کيا مراد؟ يہ ايک تاريخي واقعہ ہے۔ نصيبين ايک بڑا آباد شہر تھا۔ اور وہاں کے يہود جنّ کہلاتے تھے اور سوق عکّاظ (ايک تجارتي منڈي کا نام ہے) ميں آيا کرتےتھے۔ آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مکّہ سے نااميد ہوکر طائف تشريف لے گئے اور وہاں کے شريروں نے آپ کو دکھ ديا۔ آپﷺ عکّاظ کو آرہے تھے۔ راستہ ميں بمقام نخلہ يہ لوگ آپﷺ سے ملے۔ آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم صبح کي نماز پڑھ رہے تھے۔ قرآن مجيد کو سُن کر وہ رقيق القلب ہوگئے۔ سب کے سب ايمان لے آئے اور جاکر اپني قوم کو بھي ہدايت دي۔

يَّهْدِيْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ۔ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا اَحَدًا۔ وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَااتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًا(سورة الجن:3-4)

ان جنّات نے اس قرآن کو قبول کرنے اور ايمان لانے کے دلائل بيان کئے۔ جن ميں سے پہلي دليل يہي ہے کہ وہ توحيد کا مذہب ہے۔

مَااتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًا: يہ دوسري دليل ہے۔ اور عيسائيوں کے اس صاحبہ اور ولد والے ناپاک عقيدہ کي نفي کرتے ہوئے قرآن شريف سے ماقبل تورات ہي کا ذکر کيا۔ انجيل کا ذکر نہيں کيا۔ فرمايا۔ ولد تو صاحبہ کا نتيجہ ہے۔ جب صاحبہ نہيں تو ولد کہاں سے آيا۔ چوتھي صدي تک يہود عُزيرؑ کو ابن اللہ کہتے تھے۔ (حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ نمبر 220)