//جان کو اپنی یہی روگ لگا کر رکھنا

جان کو اپنی یہی روگ لگا کر رکھنا

فرحت ضیاء راٹھور ہمبرگ

بارشیں فضل کی ہونے کا پھر آیا موسم

اپنے مولا کو بہرحال منا کر رکھنا

دن مرادوں کے نہ اس بار گذر جائیں عبث

جان کو اپنی یہی روگ لگا کر رکھنا

شمعیں ایمان کی ہر لحظہ فیروزاں کر کے

بت پرستی کے سبھی نقش مٹا کر رکھنا

جانے کس سمت سے کس وقت چلا آئے وہ

اس سے ملنے کے لئے خود کو سجا کر رکھنا

بات گنتی کے دنوں تک ہی نہ محدود رہے

روح کے تار ہمہ وقت ہلا کر رکھنا

اپنی آنکھوں میں ندامت کے سمندر لے کر

درد پہلو میں ضیاء کوئی جگا کر رکھنا