//تیز آندھی میں چراغوں کو جلا دیتا ہے

تیز آندھی میں چراغوں کو جلا دیتا ہے

بشریٰ سعید عاطف

اچھے اچھوں کی یہ اوقات دکھا دیتا ہے

جھوٹ انسان کو نظروں سے گرا دیتا ہے

بن خطا کے مجھے ہر بار سزا دیتا ہے

کتنا کم ظرف ہے احسان جتا دیتا ہے

میری پلکوں پہ ستارے وہ سجا دیتا ہے

قربتوں میں بھی جو دیوار اٹھا دیتا ہے

میرے آنگن میں اندھیرا نہیں ہونے دیتا

رات سے پہلے دیا اک وہ جلا دیتا ہے

وقت ظالم ہے نئے کھیل دکھاتا ہے ہمیں

 منظر آنکھوں سے مسرت کے ہٹا دیتا ہے

عشق کی طاقتِ تخلیق کا کہنا کیا ہے

عشق صحراؤں میں گلزار کھلا دیتا ہے

عشق کر لیتا ہے طوفان کو بس میں بشریٰ

تیز آندھی میں چراغوں کو جلا دیتا ہے