//بيٹے کي شادي پر باپ کے خدشات

بيٹے کي شادي پر باپ کے خدشات

امۃ الباری ناصر

ميري طرح اب ميرا بيٹا بياہ کے دُلہن لائے گا

سجي سجائي دُلہن ديکھ کے کچھ دن تو اِترائے گا

جنت جيسے پيارے گھر کے خواب اس نے بھي ديکھے ہيں

تيز مزاج ہوئي جو بيگم سب بھک سے اُڑ جائے گا

بہو کي ماں کے تيور ديکھ کے ميں تو بے حد ڈرتا ہوں

بيٹي بھي گر ماں پہ ہوئي تو سب چوپٹ ہو جائے گا

ميں بھي کسي سے کم کہتا تھا جو کچھ ميرا حال ہؤا

يہ بھي پِٹ کے چپکے چپکے زخموں کو سہلائے گا

اپنے رُعب کے فرضي قصے خط ميں لکھ کر بھيجے گا

چھوڑ کے کوئي چلا گيا تو جھينپے گا شرمائے گا

دلہن ذرا سي بات پہ جھوٹا روئے گي چلاّئے گي

سچا ہو کر بھي بے چارا کئي دفعہ ہکلائے گا

ميري طرح سسرال کے وہ بھي اکثر کام سنبھالے گا

گھر داماد کي صورت اُن کو اک ’چھوٹا‘ مل جائے گا

چوتھے دن وہ ميکے جا کر جو مرضي ہو جڑ دے گي

جب يہ منانے جائے گا تو ہر کوئي آنکھ دکھائے گا

روز نئي فرمائش پوري کر کے بُھرکس نکلے گا

ساري جمع پونجي لٹوا کے يہ کنگلا کہلائے گا

روز نيا جھگڑا اک ہو گا ميکے ويکے جانے پر

شادي کرا کے بھولا بھالا چکر ميں پڑ جائے گا

اندازہ ہوجائے گا گھر ميں کيسے دونوں رہتے ہيں

جب وہ کچھ کرنے سے پہلے پوچھنے اندر جائے گا

کاش مياں کي عزت کرنا ہر بيوي کو آ جائے

ميرے جيسے بے چاروں کا بہت بھلا ہو جائے گا

سب کي عزت کرنے والي کي ہي عزت ہوتي ہے

ايک اچھي عورت کے دَم سے گھر جنت بن جائے گا