//بيٹي کي رخصتي پر ماں کے خدشات

بيٹي کي رخصتي پر ماں کے خدشات

امۃ الباری باصر

ميري طرح اب ميري بيٹي کٹھ پتلي بن جائے گي

دل ميں درد کي لہريں ہوں گي ہونٹوں سے مسکائے گي

اپني خوشي کے فرضي قصے خط ميں لکھ لکھ بھيجے گي

جو کچھ خط ميں نہ لکھا ہو گا وہ مجھ کو پڑھوائے گي

صبر و رضا کرنے کا سليقہ اُس کو بھي آ جائے گا

ميري طرح وہ حرفِ شکايت لب پہ نہ لے کر آئے گي

بھيا ملنے جائے گا تو خوش ہو گي اِترائے گي

اور اچانک ساس جو آئے سہمے گي گھبرائے گي

ميں بھي غسل خانے ميں گر جانے کي بات بناتي تھي

وہ بھي جھوٹي سچي گھڑ کے اپنے نيل چھپائے گي

چاہے دل يا نا چاہے وہ سب کے کام سنوارے گي

ميري نازوں کي پالي بھي اب نوکر بن جائے گي

ہر اک  بات پہ طعنے سُن کر اندر اندر روئے گي

شوخ ہنسي کو رخصت کر کے سنجيدہ ہو جائے گي

ميرے لئے بھي مشکل ہو گا آنسو پينا ملنے پر

وہ بھي منہ پر چھينٹا مار کے اپنے اشک چھپائے گي

کاش کہ شوہر يہ سمجھے اُس کي بيوي بھي انساں ہے

حق تلفي پر اللہ کے ہاں اس کي شامت آئے گي

کاش کي يہ سب سوچيں اپني بہو کو پيار سے رکھيں گے

دوسري بيٹي کو سُکھ ديں گے اپني بھي سُکھ پائے گي