//باپ کی خوشبو

باپ کی خوشبو

تحریر ندرت جہاں کاشف جرمنی

آج وہ بہت ہي افسردہ تھا اس کو اپنے ابا بہت ياد آ رہے تھے قاسم کو جب بھي زندگي ميں کوئي مشکل پيش آئي اس نے اپنے ابا کي آغوش ميں سر رکھ کر سب کہہ ديا اور ابا نے ايک نرم سي مسکراہٹ کے ساتھ چٹکي ميں حل بھي نکال ديا تھا۔ اس کو تو کبھي يہ خيال ہي نہيں آيا تھا کہ اباجي کہيں جا بھي سکتے ہيں۔ ماں کو تو وہ اپني پيدائش کے ساتھ ہي کهو چکا تھا اور والدين کے نام پر اس نے ديکھا ہي صرف اپنے باپ کو تھا۔ اور آج جب اس کے خيال ميں اس کو زندگي کا سب سے بڑا جھٹکا لگا تھا تو ابا اس کے پاس نہيں تھے۔ وہ ايک خالي گراؤنڈ ميں مايوسي کے عالم ميں سر نيچے کئے بيٹها ابا کو ياد کر رہا تھا ۔ آج دفتر ميں اس کے ساتھ بڑي زيادتي ہوئي تھي ، اور باس نے اسي کو نوکري سے نکالنے کي دھمکي کے ساتھ ہي پوليس کي بھي تڑي لگا دي تھي ۔ اس کے لنچ باکس ميں بيوي کے ہاتھ کا بنا کهانا بھي ويسے ہي رکها رہ گيا تھا کيونکہ آج اس کي بهوک ہي اڑ گئي تھي۔ اس کشمکش کي کيفيت ميں شائد اس کي آنکھ لگ گئ اور وہ زمين پہ بےخودي کے عالم ميں بے سود ليٹ گيا تھا ۔ ايک دم اس کو محسوس ہوا کہ آس پاس ہريالي ہي ہريالي ہوگئي ہے۔ شائد يہ کوئي وہم ہے يا حقيقت وہ سمجھ ہي نہيں پا رہا تھا ابھي وہ اسي گومگو کي کيفيت ميں ہي تھا کہ اسے لگا کسي نے چپکے سے اس کو آغوش ميں لے ليا ہے اور ايک ہاتھ زمين سے اس کي جانب بڑھا۔ اس کو محسوس ہواکہ وہ اس کے باپ کا لمس ہے، جس سے اس کے بھوکےاور بے جان وجود کو گرمائش کا احساس پيدا ہونے لگا، اور وہ بے اختيار ہو کر روتا ہوا اپني پريشاني خودکلامي کے سے انداز ميں کہتا گيا۔ اس کو ايسا لگ رہا تھا کہ وہ باپ کي آغوش ميں سب کہہ کے ہلکا پھلکا ہو گيا ہے، اور ابا نے چٹکي بجاتے ہي اس کي پريشاني کا حل نکال کے اس کے سامنے رکھ بھي ديا ہے۔ اب وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا جس کي وجہ سے کچھ کچھ شعور بھي جاگنے لگا تھا آس پاس شور کا احساس ہوا تو اس نے آنکھيں کھوليں۔ وہ کيا ديکھتا ہے کہ وہ تو اسي مٹي کے گراؤنڈ ميں تھا جہاں وہ مايوسي کے عالم ميں آ گيا تھا۔ اور وہ شور پرندوں کا تھا جو اپنے آشيانوں ميں واپس جانے کي خوشي مچا رہے تھے۔۔ ليکن يہ کيا وہ خود کو بڑا پرسکون محسوس کر رہا تھا اور اب اس کي بھوک بھي چمک اٹھي تھي۔ اس نے آج تک مٹي کي ماں سے تسبيح سني تھي ، مگر اس کے ليے تو باپ جيسا سہارا بني تھي ، اور وہ اس سے سب کہہ کر آسودہ ہوگيا تھا۔ اب وہ گرد آلود کپڑوں کے ساتھ نئي اميد بھي لے کر گھر کو روانہ ہوا۔ اس نے جا کر آج کا انوکھا تجربہ بيوي کو بھي بتانا تھا ۔