//باپ بیٹی اور بھائی جن

باپ بیٹی اور بھائی جن

تحریر صباالصباح

ہم جب بھي اپنے آپ سے جڑا ہوا کوئي خوب صورت يادگار واقعہ ياد کرتے ہيں تو ہمارے جسم کے اندر ايک لہر گردش کرنے لگتي ہے اور وہ انجاني سي خوشي دينے لگ جاتي ہے۔اب انسان کے بچے وقت گزرنے کے ساتھ جتنے بھي عمر اور قد کے لحاظ سے بڑے ہوجائيں، وہ اپنے والدين کے ليے ويسے ہي ننھے بچے رہتے ہيں اور چھوٹے بچوں کے بچپن کي دل لبھانے والي حرکتوں کو والدين کبھي بھي فراموش نہيں کر سکتے۔

ايک باپ ہي وہ واحد ہستي ہے جو اس دنيا کي دھوپ چھاؤں کا مقابلہ کرنے کے ليے اپني اولاد کے ليے سب سے بڑا اور مضبوط سہارا بنتا ہے۔ حسن سلوک کے استحقاق ميں لڑکے اور لڑکيوں کو برابر قرار ديا گيا ہے، محض لڑکي ہونے کي وجہ سے لڑکے اور لڑکي کے ساتھ طرزعمل ميں کوئي فرق نہ کرنا افضل ہے۔

ہمارے دين اسلام کي خوب صورتي ميں مسلم شريف کي وہ روايت بھي ہے کہ جو شخص لڑکيوں کي پيدائش ميں مبتلا کيا گيا اور اس نے ان کي پوري پرورش و پرداخت کي تو وہ لڑکياں اس کے ليے دوزخ سے آڑ بن جائيں گي۔

بيٹياں بابل کے گھر کي وہ چڑياں ہوتي جن کے چہکنے سے آنگن ميں رونق کے ساتھ گھر کے چاروں طرف روشني اور رنگ پھيلے رہتے ہيں، ان کي کفالت سے رحمت کے دروازے کھل کر بخشش کے راستے کا سبب بن جايا کرتے ہيں۔

’’ابا کا بے بي ابا سے غصہ ہے کہ دوستي؟‘‘ آفس سے آتے ہي تين سالہ بيٹي کو گود ميں اٹھاتے ہوئے اس کے والد نے پوچھا جو کہ اپنے کھلونوں کے ساتھ کھيل رہي تھي۔ گود ميں چڑھتے ہي بيٹي نے ابا جي کو ان کا کيا ہوا وعدہ ياد دلاتے ہوئے اپنے چپس کا پيکٹ مانگا کيوں کہ پچھلے روز شام کے وقت اپنے بڑے بھائي کے ساتھ سخت جنگ ہوئي تھي۔اس کے پسنديدہ چپس کے پيکٹ سے آخري کے چند بچے کھچے چپس کے ٹکڑے اس کے بھائي نے بہن کو تنگ کرنے کے ليے وہ پيکٹ چھين کر کھا ليے تھے اور پھر تو ايسا کہرام برپا ہوا کہ والد نے دونوں بہن بھائي کے درميان صلح کا معاملہ ايک اور نيا چپس کا پيکٹ اگلے دن لا کر دينے کے وعدے پر نمٹايا تھا۔

بيٹي نے فوراً ابا جي کي گود ميں چڑھتے ہي اپنے ننھے ننھے ہاتھ آگے بڑھائے کہ ابا چپس کا پيکٹ ديں، والد نے کہا کہ ”ارے وہ تو ميں بھول گيا“ صاحبزادي فوراً اپنے ابا سے ناراضگي کا اظہار کرتے ہوئے گود سے نيچے اتر کر ہم سے لپٹ گئيں، تب ابا جي نے مزيد کھيلتے ہوئے ناراض ننھي شہزادي کے قريب آ کر دوبارہ سے نہايت دھيمے لہجے ميں پوچھا کہ ”ابا اچھا ہے يا گندا؟ ناراض بيٹي نے اپنے ابا کو ديکھے بغير اور ہم سے لپٹتے ہوئے غصہ ميں جواب ديا کہ“ گندا ہے ”۔

ابا جي کو اور مزہ آنے لگا، پھر مزيد قريب آ کر ناراض بيٹي سے اس کے کان ميں پوچھتے کہ ”ابا سے دوستي ہو يا کٹي ہو؟ بيٹي نے ايک آنکھ سے ابا جي کو ديکھ کر، اپنے ننھے ننھے ہاتھ کي چھوٹي والي انگلي ابا جي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے دھيمے سے کہا کہ ”کٹي ہو“ يہ ديکھ کر ہم دونوں مياں بيوي کي بے ساختہ ہنسي نکل گئي جس پر ہماري شہزادي ہم سے بھي خفا ہو گئي کہ آپ کيوں ہنس رہي ہيں، آپ کو ميرا ساتھ دينا چاہيے تھا۔

پاس موجود بڑے بيٹے نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ابا کے قريب ہو کر بہن کو بولے ”ابا جو کٹي ہے اسے چپس کا پيکٹ نہيں ديں، جو دوستي ہے اسے دے ديں“ بھائي جان اپنے مشن ميں ادھورے کامياب ہو گئے کيوں کہ بيٹي نے دھاڑيں مار کر رونا شروع کر ديا۔

ابا جي نے اپني ٹائيگر فورس کے کنٹرولر بڑے بيٹے کي کمر پر ہلکي سي چپت دھري کہ زيادہ چنگاري کا کام نہ کرو، پھر ابا جي نے اپني ناراض شہزادي کو دوبارہ اپني گود ميں اٹھايا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے آفس بيگ کے اندر سے چپس کے دو عدد نئے پيکٹ نکال کر اپني گڑيا کے ہاتھ ميں تھماتے ہوئے بولے ”يہ کيسے ہو سکتا کہ ابا اپني شہزادي سے وعدہ کرے اور وہ پورا نہ کرے“ يہ لو ايک پيکٹ اور دوسرا اپنے بھائي جان کو خود دے دو۔

بيٹي نے فوراً دونوں پيکٹ پر جھپٹا مار کر بھائي کو دينے سے انکار کر ديا کہ بھائي کو يہ چپس نہيں دوں گي ”بھائي جن گندا ہے، بہت تنگ کرتا ہے“، ابا نے بيٹي کو گود سے نيچے اتارتے ہوئے دونوں پيکٹ واپس ليتے ہوئے بڑے بيٹے کي طرف اپنا رخ کر کے با آواز بلند کہا ”بھائي جن اب تنگ نہيں کرے گا اور اب غور سے سب ايک بات سن ليں کہ کوئي بھي ميري گڑيا کو تنگ کر کے دکھائے اور اپني شہزادي کو تنگ کرنے کے ليے صرف اس کا ابا کافي ہے۔ پھر بيٹي کي طرف مڑ کر اس کي اجازت لي کہ ”ٹھيک ہے؟‘‘

ابا نے پھر سے چھوٹي بيٹي کو تنگ کرنا شروع کيا ہي تھا تو چپس کے پيکٹس ابا کے ہاتھوں سے کھينچ تان کر دونوں بچے يہ جا وہ جا۔ چپس کے تھيلوں سے آگے جہاں اور بھي ہيں

ابھي تنگ ہونے کے امتحاں اور بھي ہيں، تھوڑي ہي دير بعد چھوٹي بيٹي روتي چلاتي ہمارے پاس آ گئي کہ ”بھائي جن چپس کھا گيا“۔