//ایک کپ چائے

ایک کپ چائے

. تحریر قرۃ العین فاروق حیدرآباد

آج اتوار کا دن تھا اس لئے سمیر صبح دیر سے سو کر اٹھا ویسے عموماً وہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے چائے کا پانی چڑھاتا پھر ساتھ ساتھ ناشتہ بناتا، ناشتہ کیا ہوتا بس روکھا بن کھا لیتا کبھی قسمت میں انڈا نصیب ہو جاتا تو بڑے اہتمام سے انڈا بنا کر کھاتا ابھی مہینہ ختم ہونے اور تنخواہ ملنے میں ایک دن باقی تھا اس کو دھیان نہیں رہا کہ چائے کی پتی ایک دن پہلے شام کو ختم ہوچکی ہے اس نے بےدھیانی میں چائے بنانے کے لیے پانی رکھ دیا پانی ابلنے لگا تو اس نے جیسے ہی پتی ڈالنی چاہی تو خالی ڈبے پر نظر پڑتے ہی اس کو اپنے اوپر غصہ آگیا، وہ چولہا بند کر کے کمرے میں گیا اور اپنے پرس میں پیسے گننے لگا پھر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا.

“ پیسے تو کم ہیں تو پھر….. پھر پتی کہاں سے آئے گی پھر کل ناشتے کے لیے دودھ اور بن بھی لانا ہوگا اور دودھ ہوگا تو ہی چائے بنے گی اور رات کے کھانے کے لئے کیا کرے گا… مگر اس مہینے ایسے کیسے ہوا کہ پیسے کم پڑ گئے “ پھر اسے یاد آیا کہ اس کے دوست کی شادی تھی جس میں اس نے کچھ رقم اپنے دوست کو اس کی شادی پر دی تھی اور جس فیکٹری میں وہ کام کرتا ہے وہاں پچھلے مہینے ہر چوتھے دن ہڑتال کی وجہ سے کام صحیح طریقے سے نہ ہوسکا تو اس کے مالک نے تنخواہ سب کو کاٹ کر یعنی تقریباً آدھی دی تھی یہی دو وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اس کے پاس پیسوں کی کمی ہو رہی تھی اب وہ سوچ میں گم تھا کہ پتی کہاں سے لائے اور رات کے کھانے کا انتظام کیسے کرے، مہنگائی بھی بہت ہے ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے یا دکاندار سے ادھار لے لوں…. نہیں نہیں ایک دفعہ یہ لت لگ گئی تو عادت پڑ جائے گی اور یہ طریقہ صحیح بھی نہیں، اب اسے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا کہ اسے دیکھ کر پیسے استعمال کرنے چاہئے تھے.

اس نے چائے کے بغیر ہی بن کھانا شروع کیا بن خشک ہونے کی وجہ سے اس کھایا نہیں جا رہا تھا تو اس نے بے دھیانی میں جو دودھ پڑا تھا وہ پی لیا، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اسے چائے کی طلب ہونے لگی اس سے تھوڑی دیر چائے کے بغیر بیٹھا نہیں جارہا تو اس نے سوچا کہ پورا دن کیسے گزارے گا آج چھٹی کا دن ہے کیوں نہ کسی کے گھر جا کر چائے پی لی جائے گرما گرم دھواں اڑاتی چائے کا سوچ کر وہ فوراً اٹھا، کپڑے تبدیل کر کے اپنے گھر کے قریب ایک رشتے دارحامد کے گھر چل پڑا، دروازہ حامد نے ہی کھولا گھر کے اندر جاتے وقت اچانک سمیر کی نظر باورچی خانے پر لگے تالے پر پڑی تو اس نے بے اختیار حامد سے پوچھ لیا

“ ارے اس پر تالا کیوں لگایا ہوا ہے”

“ کس پر تالا” حامد نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا

“باورچی خانے پر” سمیر نے تالے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا

“ او اچھا بچے اپنی ماں کے ساتھ نانی کے گھر گئے ہیں میں بھی دوپہر میں وہاں جاؤں گا تمہیں تو پتہ ہے ہم مزدور لوگ ہیں اگر ہم اس طرح سے تالے نہ لگائیں تو آس پڑوس کے بچے چھت پر کود کر کبھی پتنگ لینے یا کبھی بال لینے کے بہانے آکر گھر کی چیزوں کا سفایا کر جاتے ہیں اب  ہم کب تک اور ہر وقت تو ان کی نگرانی نہیں کرسکتے نا “حامد نے تفصیل سے سمیر کو بتایا

’’ مگر اگر تمہیں کچھ کھانا ہو میرا مطلب چائے ہی بنانی پڑ جائے “

’’ مجھے باورچی خانے کا کوئی کام نہیں آتا حتیٰ کہ چائے تک بنانی نہیں آتی اور میں ابھی ناشتہ کر کے بیٹھا ہوں آج گرمی بھی بہت ہے ایسا کرتا ہوں تمہارے لئے ٹھنڈی بوتل لے آتا ہوں‘‘

’’ ارے بوتل کی ضرورت نہیں ہے اب بس میں چلتا ہوں مجھے شاہد کے یہاں بھی جانا ہے آج چھٹی تھی تو سوچا گھر میں بیٹھنے کی بجائے آپ سب سے مل لوں “

’’ ہیں ابھی آیا ابھی چلتا ہوں یہ کیا بات ہوئی خیر تمہاری مرضی “ سمیر یہاں سے ناامید ہوکر اٹھا اور شاہد کے گھر چل پڑا تھوڑی دیر میں ہی وہ شاہد کے گھر پہنچ گیا اس نے دروازے پر دستک دی ہی تھی کہ شاہد کی ماں زور زور سے بولتی دروازے پر آگئیں اور دروازہ کھولتے ہی سمیر کو دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھٹھکیں ‘‘

’’ شاہد تو گھر پر نہیں ہے وہ پانی کی موٹر خراب ہو گئی ہے تو وہ مکینک کو لینے گیا ہے‘‘

اس سے پہلے کہ سمیر کوئی جواب دیتا شاہد کا بیٹا بھاگتا ہوا آیا

“دادی داری ابا کا فون آیا ہے کہ مکینک نہیں مل رہا وہ دوسرے شہر گیا ہوا ہے ابا کسی دوست کے گھر سے ہوتے ہوئے آئیں گے گھر آتے آتے شاید شام ہوجائے “

“ اچھا ماں جی میں چلتا ہوں “ سمیر نے کہا

شاہد کی ماں نے سمیر کی بات پر زیادہ دھیان نہ دیا اور پوتے کی بات سن کر پریشان سی ہوگئیں

’’ آئے ہائے مکینک نہ ملا تو موٹر کون ٹھیک کرے گا شام کو تیری پھپھو آرہی ہیں لاہور سے اگر گھر میں پانی نہ آرہا ہوا تو گھر کے سارے کام کیسے ہوں گے‘‘ شاہد کی ماں نے پریشان ہوتے ہوئے کہا

“مجھے کیا دادی” پوتے نے بے زاری سے کہا

“ہاں ہاں تمہیں کیا میں ہی گھر کے سارے کام دیکھوں “

سمیر جانے کے لئے پلٹا ہی تھا کہ شاہد کی ماں نے اسے آواز دی

“ تم کسی موٹر مکینک والے کو جانتے ہو “

“ ماں جی میں جانتا ہوں مگر” ایک دم گھر کے اندر سے نسوانی آواز آئی

“ اماں جی انہیں ہی کہہ دیں موٹر ٹھیک کرنے کا اتنا کام تو جانتے ہی ہوں گے اور کب یہ موٹر مکینک کو بلائیں گے اور کب وہ آئے گا اور کب موٹر ٹھیک کرے گا”

سمیر نے لمحے بھر کے لیے سوچا کہ شاید قسمت نے یہاں چائے پینی لکھی ہے مگر یہاں تو پانی نہیں آرہا تو چائے…. ابھی وہ اس سوچ میں گم تھا کہ شاہد کی ماں نے پورا دروازہ کھول دیا اور اندر آواز لگائی ایک طرف ہوجاؤ سب اور سمیر کو اندر آنے کا کہا اسے نہ چاہتے ہوئے بھی اندر آنا پڑا، وہ کافی دیر تک موٹر ٹھیک کرتا رہا مگر موٹر ٹھیک ہوکر نہ دی.

“ماں جی موٹر مجھ سے ٹھیک نہیں ہو رہی، اب میں چلتا ہوں”

“بیٹے کھانے کا وقت ہے کھانا کھا کر جانا، گھر میں پانی نہیں تھا تو ہم نے قریبی پٹھان کے ہوٹل سے ماش کی دال منگوائی ہے”

سمیر سوچنے لگا کہ چلو بھئی رات کے کھانے کا بندوبست تو ہوگیا ویسے کوئی چائے بھی تو لا سکتا تھا پٹھان کے ہوٹل سے خیر اس نے خوب پیٹ بھر کے کھانا کھایا پھر ماں جی سے معذرت کر کے کہ اس سے موٹر ٹھیک نہ ہوسکی اور کھانے کا شکریہ ادا کر کے وہاں سے رخصت لی، گھر پہنچا تو اس کا سر بہت بھاری ہو رہا تھا وہ فوراً ہی سو گیا جب سو کر اٹھا تو شام ہوچکی تھی بھوک تو اس کی مٹ چکی تھی اور اگر رات کھانا نہ بھی کھاتا تو بھی کام چل جاتا مگر چائے وہ کہاں سے اور کیسے پئیے گھر کے پاس رہنے والوں کے گھر پر تو چائے ملی نہیں اب دور رہنے والوں کے گھر جانے کے لیے کرایہ لگ جائے گا اور اگر وہاں بھی چائے نہ ملی تو، ایسا کرتا ہوں پتی لے آتا ہوں مگر دودھ وہ بھی تو چاہے ہوگا وہ تو میں صبح پی گیا تھا اوہو اب کروں تو کیا کروں ایسا کرتا ہوں پھر اسے پٹھان کے ہوٹل کا خیال آیا آہا پٹھان کے ہوٹل سے چائے پی لیتا ہوں اتنے پیسے نہ سہی کہ عیاشی کر سکوں مگر اس دل کا کیا کروں جو چائے پینے کے لیے مچل رہا ہے اور رہا ناشتہ تو وہ کل جب تنخواہ ملے گی تو وہیں سے کچھ خرید کر کھا لوں گا وہ پٹھان کے ہوٹل چل پڑا

“ایک کپ چائے”

ساتھ میں کچھ اور صاحب…“ بس ایک کپ گرما گرم چائے مگر جلدی لانا”

آج پٹھان کے ہوٹل میں کچھ زیادہ ہی رش تھا شاید سب لوگوں کو میری طرح چائے کھینچ لائی تھی یا ان کے گھروں میں بھی پتی ختم ہو گئی تھی وہ انہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا، شام سے رات ہونے کو تھی کہ دو موٹی موٹی مکھیاں آگئیں اور سمیر کے گرد مسلسل گھومنے لگیں کبھی اس کے منہ پر بیٹھتیں تو کبھی ہاتھ پر وہ اپنے اوپر سے مکھیاں اڑا رہا تھا کہ بیرا چائے لے آیا، سمیر نے چائے کو بڑے شوق سے دیکھ کر کہا

“تیری ہی مجھے صبح سے تلاش تھی تو کہاں چھپی بیٹھی تھی او میری چائے” وہ بے خیالی میں اور جذبات میں آکر تھوڑا اونچا ہی بول گیا، پاس بیٹھے کچھ لوگوں نے اس کی بات سنی اور وہ منہ ہی منہ میں مسکرا کر رہ گئے

ابھی سمیر نے چائے کی پیالی اٹھائی ہی تھی کہ اچانک ایک مکھی چائے میں گر گئی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا تو اس نے غور سے چائےکی پیالی میں دیکھا اس نے جیسے ہی سر پیچھے کیا دوسری مکھی بھی چائے میں آکر گری، دونوں مکھیاں چائے میں تیرنے لگیں یہ منظر دیکھ کر پہلے تو سمیر کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ اچانک یہ سب کیا ہوگیا ہے پھر تھوڑی دیر بعد اونچا اونچا بولنا شروع ہو گیا

“ہائے ہائے یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا.. ہائے رے میری قسمت.. آج تو میری قسمت ہی خراب ہے میری چائے”

آس پاس بیٹھے لوگ اپنا کھانا پینا چھوڑ کر سمیر کے گرد جمع ہوگئے

“کیا ہوگیا بھائی خیریت تو ہے” سمیر نے اس شخص کو کوئی جواب نہیں دیا بس گم صم بیٹھا اپنی چائے-کی-پیالی کو دیکھتا رہا

“ مجھے تو پاگل لگ رہا ہے دیکھا تھا بھائیوں پہلے بھی کیسے اونچی آواز میں اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا”

“ہاں صحیح کہ رہے ہو مگر حلیے سے پاگل لگ تو نہیں رہا مجھے تو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چائے کا مسئلہ ہے” سب لوگ اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے پھر اچانک ایک شخص نے سمیر کی چائے میں دو مکھیاں دیکھیں تو وہ سمجھ گیا …“ اس کی تو چائے میں مکھیاں گری ہیں اس لیے اداس ہے کوئی نہیں تم مکھیاں نکال کر چائے پی لو”

ایک شخص نے جو یہ سنا کہ مکھیاں نکال کر چائے پی لے تو فوراً بول پڑا

“ مکھیاں توبہ توبہ تھوڑی دیر پہلے میں ہوٹل کے باتھ روم میں گیا تھا وہاں فرش نظر نہیں آرہا تھا ہر طرف مکھیاں ہی مکھیاں بیٹھی تھیں “جب سب لوگ بول چکے تو پھر سمیر نے اپنے لب کھولے اور آج سارا دن جو اس کے ساتھ ہوا وہ سب کو بتا دیا سارا شور و غل سن کر ہوٹل کا مالک نکل کر آگیا، ایک بزرگ جو کافی دیر سے خاموش کھڑے سب کی باتیں سن رہے تھے مسکرا کر بولے

“ بیٹا ایک دن چائے نہ پی کر تمہاری یہ حالت ہو گئی ہے تو ذرا سوچو اگر دنیا سے پتی ہی ختم ہو جائے تو تم جیسے لوگ کیا کرو گے کبھی سوچا تم نے اور تم ایک کپ چائے نہ ملنے پر اپنی قسمت کو خراب کہہ رہے ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہاری قسمت ہم سب سے اچھی نکل آئے آج تم ایک چائے کی پیالی کے لیے ترس رہے ہو کیا پتہ کل تمہاری قسمت پلٹا کھائے اور تم سب کو مفت میں چائے پلا رہے ہو، چلو میں تمہیں اپنے پیسوں سے چائے پلاتا ہوں “

“ او صاحب جی آپ رہنے دیں آج کی چائے میری طرف سے سب لوگوں کے لئے بالکل مفت آپ سب بھی کیا یاد کرو گے کہ خان کے ہوٹل میں آئے تھے اور آپ کو تو صاحب ہم اسپیشل دودھ پتی پلائے گا وہ بھی اپنے ہاتھوں سے بنا کے” ہوٹل کے مالک نے سمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

“ تمہاری اچھی قسمت کی وجہ سے ہم سب کو خان بھائی مفت چائے پلا رہے ہیں “ایک شخص نے کہا پھر سب لوگ اپنی اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئے اور مفت چائے کے مزے لوٹنے لگے۔