//ایک نصیحت فرقان حمید سے

ایک نصیحت فرقان حمید سے

وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِينَ(هود: 116)

ترجمہ: اور صبر کر۔ پس اللہ احسان کرنے والوں کا اجر ہرگز ضائع نہيں کرتا۔

حضرت مولوي نورالدين رضي اللہ عنہ سورة ھُود کي آيت 116 کي تفسير بيان کرتے ہوئے فرماتے ہيں:

موليٰ کريم چونکہ شکور ہے اور عليم و خبير ہے اس لئے وہ فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔ بےشک اللہ محسنين کے اجر کو ضائع نہيں کرتا۔ محسن کسے کہتے ہيں۔ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم سے احسان کي تعريف جبرائيلؑ نے صحابہؓ کي تعليم کے لئے پوچھي ہے۔ آپﷺ نے فرمايا کہ احسان يہ ہے کہ تو اللہ تعاليٰ کو ديکھتا رہے۔ يا کم ازکم يہ يقين کرے کہ اللہ تعاليٰ تجھ کو ديکھتا ہے۔

يہ ايک ايسا مرتبہ عظيم الشان ہے جس کے کسي نہ کسي پہلو کے حاصل ہوجانے پر انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ اور بڑے بڑے مراتب اور مدارج اللہ تعاليٰ کے حضور پاليتا ہے۔ ساري نيکيوں کا سرچشمہ اور تمام ترقيوں اور بلند پروازگيوں کي جان اللہ تعاليٰ پر ايمان ہے۔ انسان اعليٰ درجہ کے اخلاقِ فاضلہ کو حاصل ہي نہيں کرسکتا جب تک خداتعاليٰ پر يقين نہ ہوکہ وہ ہے۔ ميں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھي تيار نہيں ہوسکتا کہ ايک دہريہ بھي کبھي اعليٰ اخلاق والا ہوسکتا ہے۔ کوئي چيز اس کوگناہوں سے ارتکاب سے نہيں روک سکتي۔ نيکي کا کوئي سچا مفہوم اس کي سمجھ ميں نہيں آسکتا۔ پھر وہ نيکي کيسے کرے اور گناہوں سے کيونکر بچے۔ اس کي ساري عمر نااميديوں اور مايوسيوں کا شکار رہتي ہے۔ وہ اسباب و علّت و معلول کے سلسلہ کے پيچ در پيچ تعلقات ميں منہمک رہ کر آخر حسرت اور ياس سے اس دنيا کو چھوڑ جاتا ہے۔ ميں نے دہريہ اور ايمان لانے والے دونوں کو مرتے ديکھا۔ اور دونوں کي موت ميں زمين و آسمان کا فرق پايا ہے۔ ميں سچ کہتا ہوں اور اپنے ذاتي تجربہ سے کہتا ہوں اور پھر جو چاہے آزما کر ديکھ لے کہ سچي راحت اور حقيقي خوشي صرف اور صرف ايمان باللہ سے ملتي ہے۔ يہي وجہ ہے کہ انبياء عليھم السلام او صلحاء کي لائف ميں جب سے دنيا پيدا ہوئي ہے کوئي واقعہ خودکشي کا پايا نہيں جاتا۔ مومن کي اميد اپنے اللہ پر بہت وسيع ہوتي ہے۔ وہ کبھي اس سے مايوس نہيں ہوتا۔ ان کي زندگي کے واقعات پڑھوتو معلوم ہوگا کہ ايک وقت ان پر ايسا آيا کہ زمين ہر تنگ ہوگئي ہے۔ ليکن اس شدّتِ ابتلاء ميں بھي وہ ويسے ہي خوش و خرم ہيں جيسے اس ابتلاء کے دور ہونے پر۔ وہ کيا بات ہے جو ان کو موت کي سي حالت ميں بھي خوش و خرم اور زندہ رکھتي ہے۔ فقط اللہ پر ايمان۔

غرض محسنين کے زمرہ ميں داخل ہونا بہت ہي مشکل اور پھر مشکل کشا ہے۔ پہلا درجہ جو محسن کا اعليٰ مقام ہے کہ وہ خداتعاليٰ کو ديکھ رہا ہے۔ بعد ميں حاصل ہوتا ہے۔ اس کا ابتدائي درجہ يہي ہے کہ وہ يہ ايمان لائے کہ ميرے ہر قول و ہر فعل کو موليٰ کريم ديکھتا اور سنتا ہے۔

جب يہ مقام اسے حاصل ہوگا تو ہر ايک بدي کے وقت اس کا نورِ قلب اس ايمان کي بدولت اس سے روکے گا اور لغزش سے بچالے گا۔ اور رفتہ فتہ اس کا نتيجہ يہ ہوگا کہ آخر وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ خداتعاليٰ کو ديکھ لے گا اور يہ وہ مقام ہے جو صوفيوں کي اصطلاح ميں لقاء کہلاتا ہے۔ پس جب انسان محسن ہوکر اللہ کي راہ ميں خرچ کرتا ہے تو پھر تھوڑا ہويا بہت۔ اللہ اس کے بہتر بدلے ديتا ہے۔ يہ صرف اعتقادي اور علمي بات ہي نہيں۔ کہاني اور داستان ہي نہيں بلکہ واقعات نفس الامري ہيں۔

ميں دنيا کي تاريخ ميں جس سے مراد انبياء عليھم السلام کي پاک تاريخ ليتا ہوں۔ بہت سے واقعات اس کي تصديق ميں پيش کرسکتاہوں اور علمي طريق پر بھي خدا کے فضل سے اس کي سچائي ثابت کرنے کو تيار ہوں۔ مگر ان سب باتوں کو چھوڑ کر مَيں ايک عظيم الشان واقعہ صحابہؓ کي لائف کا دکھانا چاہتا ہوں۔ ميں ايک عرصہ تک اس سوال پر غور کرتا رہا کہ کيا وجہ تھي جو انصار کو خلافت نہ ملي۔ بلکہ خلافت کے اوّل وارث مہاجر ہوئے۔ اور مہاجرين ميں سے بھي ابوبکر صديق رضي اللہ تعاليٰ عنہٗ۔ حالانکہ انصار ميں سب نے بڑي ہمت کي اور ان کي اس وقت کي امداد ہي نے ان کو انصار کا پاک خطاب ديا ليکن اس کا کيا سِر ہے کہ بادشاہي اور حکومت کا ان کو حصّہ نہ ملا۔ اور پہلا خليفہ قريشي ہوا۔ پھر دوسرا، تيسرا، چوتھا بھي۔ يہاں تک کہ عباسيوں تک قريشيوں ہي کا سلسلہ چلا جاتا ہے۔ بنوثقيفہ ميں کوشش کي گئي کہ ايک خليفہ انصار ميں سے ہو اور ايک مہاجرين ميں سے۔ مگر يہ تجويز پاس نہيں ہوئي۔ اور کسي نے نہ مانا۔ آخر مجھ پر اس کا سِرّ يہ کھلا کہ اللہ تعاليٰ کي يہ صفت اِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِينَ اپنا کام کررہي تھي۔

انصار نے کيا چھوڑا تھا۔ جو ان کو ملتا؟ مہاجرين نے ملک چھوڑا۔ وطن چھوڑا۔ گھر بار چھوڑا۔ مال و اسباب۔ غرض جو کچھ تھا وہ سب چھوڑا۔ اور سب سے بڑھ کر ابوبکر صديقؓ نے۔ اس لئے جنہوں نے جو کچھ چھوڑا تھا۔ اس سے کہيں زيادہ بڑھ کر پايا۔ زيادہ سے زيادہ ان کي زمين چند بيگھہ ہوگي جو انہوں نے خدا کے لئے چھوڑي۔ مگر اس کے بدلہ ميں يہاں خدا نے کتنے بيگھہ دي۔ اس کا حساب بھي کچھ نہيں۔

پس يہ سچي بات ہے کہ جس قدر قرباني خدا کے لئے کرتا ہے اسي قدر فيض انسان اللہ تعاليٰ کے حضور سے پاتا ہے۔ حضرت ابراہيم عليہ السلام کي قرباني کتني بڑي تھي۔ پھر اس کا پھل ديکھو۔ کس قدر ملا۔ اپني عمر کے آخري ايام ميں ايک خواب کي بناء پر جس کي تاويل ہوسکتي تھي۔حضرت ابراہيم عليہ السلام نے اپنے خلوص کے اظہار کے لئے جوان بيٹے کو ذبح کرنے کا عزم بالجزم کرليا۔ پھر خدا نے اس نسل کو کس قدر بڑھايا کہ وہ شمار ميں بھي نہيں آسکتي۔ اسي نسل ميں محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم جيسا عظيم الشّان رسول خاتم النبيين رسول کرکے بھيجا جو کل انبياء عليھم السلام سے افضل ٹھہرا۔ جس کي امت ميں ہزاروں ہزار اولياء اللہ ہوئے جو بني اسرائيل کے انبياء کے مثيل تھے اور لاکھوں لاکھ بادشاہ ہوئے۔ يہاں تک کہ مسيح موعود جو خاتم الخلفاء ٹھہرايا گيا ہے وہ بھي اسي اُمت ميں پيدا ہوا۔ اور خداتعاليٰ کا شکر ہے کہ ہم نے اسے پايا اور اس کي شناخت کو موقعہ ہم کو ديا گيا۔ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِک۔

يہ بدلہ۔ يہ جزاء کس بات کي تھي؟ اس عظيم الشان قرباني کي جو اس نے خداتعاليٰ کے حضور دکھائي۔ واقعي يہ بات قابلِ غور ہے کہ ابراہيم عليہ السلام کي عمر جب کہ سو برس کے قريب پہنچي۔ اس وقت قويٰ بشري رکھنے والا کيا اميد اولاد کي رکھ سکتا ہے۔ پھر 13 برس کي عمر کا نوجوان لڑکا جو 84 برس کے بعد کا ملا ہوا ہو۔ اس کے ذبح کرنے کا اپنےہاتھ سے ارادہ کرلينا معمولي سي بات نہيں ہے۔ جس کے لئے ہر شخص تيار ہوسکے۔ غور کرو اس ذبح کے بعد عمر کے آخري ايام ميں اور قبر قريب ہے۔ پھر کيا باقي رہ سکتا ہے۔ نہ مکان رہا نہ عزّت و جبروت۔ مگر اے ابراہيمؑ تجھ پر خدا کا سلام۔ تو نے خداتعاليٰ کے ايک اشارہ اور ايماء پر سارے ارادوں اور ساري خوشيوں‘ خواہشوں کو قربان کرديا۔ اور اس کے بدلے ميں تُو نے وہ پايا جو کسي نے نہيں پايا۔ خاتم النبيينؐ اسي اسماعيل کي نسل ميں ہوا۔ اور خاتم الخلفاء اسي خاتم النببين کي اُمّت ميں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ۔ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔

پھر ابراہيم عليہ السلام کا وہ صدق اور اخلاص کہ باري تعاليٰ کا ارشاد ہوا۔ اَسْلِمْ۔ قَالَ اَسْلَمْتُ۔ اے ابراہيم! تو فرماں بردار ہوجا۔ عرض کيا۔ حضور ميں تو فرماں بردار ہوچکا۔ اَسْلِمُ۔ نہيں کہا۔ اَسْلَمْتُ يعني اپنا ارادہ رکھاہي نہيں۔ معاً حکمِ الٰہي کے ساتھ ہي تعميل ہوگئي۔ پھر اس اخلاص سے کيا بدلہ پايا کہ ابوالملّة ٹھہرا۔ جو کچھ چھوڑا اس سے بڑھ کر ملا۔

اسي طرح سيّدالانبياء عليہ الصلوٰة والسلام کے حالات پر غور کرو۔ اہلِ مکّہ نے کہا کہ اگر آپ کو بادشاہ بننے کي آرزو ہے تو ہم تجھ کو بادشاہ بنانے کے لئے تيار ہيں۔ اگر تجھے دولتمند بننے کي خواہش ہے تو دولت جمع کرديتے ہيں۔ اگر حسين عورت چاہتا ہے تو تأمل و مذائقہ نہيں۔ يہ کيا چيزيں تھيں۔ مگر دنيا پرست کي نظر ان سے پَرے نہيں جاسکتي تھي۔ اس لئے اس کو پيش کيا۔ آپﷺ نے اس کا کيا جواب ديا؟ کہ اگر سورج اور چاند کو ميرے دائيں بائيں رکھ دو تو بھي ميں اشاعت اور تبليغ سے رُک نہيں سکتا۔ اللہ! اللہ! کس قدر اخلاص ہے اللہ تعاليٰ پر کتنا بڑا ايمان ہے۔ قوم کي مخالفت ان دکھوں اور تکليفوں کے سمندر ميں اپنے آپ کو ڈال دينے کے واسطے روح ميں کس قدر جوش اور گرمي ہے جو اس انکار سے آنے والي تھيں۔ ان تمام مفاد اور منافع پر تُھوک دينے کے لئے کتني بڑي جرأت ہے جو وہ ايک دنيا دار کي حيثيت سے پيش کرتے تھے مگر خدا کو راضي رکھ کر۔ اس کو مان کر اور اس کے احکام کي عزت و عظمت کو مدّنظر رکھ کر اس قرباني کا بدلہ آپﷺ نے کيا پايا جو دنيا ميں کسي ہادي کو نہيں ملا۔ اور نہ ملے گا۔ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ کي صدا کس کو آئي؟ اور کس نے ہر چيز ميں آپﷺ کو وہ کوثر عطا کي جس کي نظير دنيا ميں نہيں مل سکتي۔ سوچو اور غور کرو!!

ميں نے مختلف مذاہب کي کتابوں۔ ان کے ہاديوں اور يا نبيوں کے حالات کو پڑھا ہے۔ اس لئے دعويٰ سے کہتا ہوں کہ کوئي قوم اپنے ہادي کے لئے ہر وقت دعائيں نہيں مانگتي ہے۔ مگر مسلمان ہيں کہ دنيا کے ہر حصہ ميں ہر وقت ہر آن اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ کي دعا آپﷺ کے لئے کررہے ہيں۔ جس سے آپﷺ کے مراتب ہر آن بڑھ رہے ہيں۔ يہ خيالي اور خوش کن بات نہيں۔ واقعي اسي طرح پر ہے۔ دنيا کے ہر آباد حصہ ميں مسلمان آباد ہيں اور ہر وقت ان کي کسي نہ کسي نماز کا وقت ضرور ہوتا ہے جس ميں لازمي طور پر اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ پڑھا جاتا ہے۔ مقرر نمازوں کے علاوہ نوافل پڑھنے والوں کي تعداد بھي بہت زيادہ ہے۔ اور درودشريف بطور وظائف کے پڑھنے والے بھي کثرت سے ہيں اس طرح آپﷺ کے مراتب و مدارج کا اندازہ اور خيال بھي ناممکن ہے۔ يہ عزت اور فخر کسي اور ہادي کو دنيا ميں حاصل نہيں ہوا۔

(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 378 تا 382)