//ایک نصیحت فرقان حمید سے

ایک نصیحت فرقان حمید سے

مرتبہ مدثرہ عباسی

مومن دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک امرأۃ فرعون کی مانند اپنے جذباتِ نفس میں مقید ہیں۔ اس حالت سے نکلنے کے واسطے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے مریم بنت عمران کی طرح ہیں جو اپنے نفس کو پاک کیے ہوئے ہیں اللہ تعالی کی رُوحِ صِدق ان میں پھونکی جاتی ہے اور وہ مسیحی نفس بن جاتے ہیں۔

وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ: اسی امت میں ابن مریم پیدا ہونے کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو مریم بھی فرمایا۔ مطلب یہ کہ گناہوں سے پاک ہوں۔ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ اس کی تفسیر میں ایک مفصل بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی کتاب کشتی نوحؑ میں لکھا ہے جس کو ہم درج ذیل کرتے ہیں۔

خدا نے سورۃ فاتحہ میں آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں بشارت دی کہ اس امّت کے بعض افراد انبیاءِ گزشتہ کی نعمت بھی پائیں گے نا یہ کہ نرے یہودی ہی بنیں یا عیسائی بنیں اور ان قوموں کی بدی تو لے لیں مگر نیکی نہ لے سکیں۔ اسی کی طرف سورۃ تحریم میں بھی اشارہ کیا ہے۔ کہ بعض افرادِ امّت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ مریم صدیقہ سے مشابہت رکھیں گے جس نے پارسائی اختیار کی۔ تب اس کے رحم میں مسیح کی رُوح پھونکی گئی۔ اور عیسیٰ اس سے پیدا ہوا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس امّت میں ایک شخص ہوگا کہ پہلے مریم کا مرتبہ اس کو ملے گا پھر اس میں عیسیٰ کی رُوح پھونکی جاوے گی۔ تب مریم میں سے عیسیٰ نکل آئے گا۔ یعنی وہ مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ گویا مریم ہونے کی صفت نے عیسیٰ ہونے کا بچہ دیا اور اس طرح پر وہ ابنِ مریم کہلائے گا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں اوّل میرا نام مریم رکھا گیا۔ اور اسی کی طرف اشارہ ہے الہام صفحہ 239 میں اور وہ یہ ہے کہ اَنَّی لَکِ ھٰذَا یعنی ای مریم تو نے یہ نعمت کہاں سے پائی اور اسی کی طرف اشارہ ہے صفحہ 226 میں یعنی اس الہام میں کہ هُزِّ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ یعنی اے مریم کھجور کے تنا کو ہلا۔ اور پھر اس کے بعد صفحہ 496 براہین احمدیہ میں یہ الہام درج ہے۔ یَامَرْیَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ نَفَخْتُ فِیْک مِنْ لَّدُنِّیْ رُوْحَ الصِدْقِ یعنی اے مریم تُو مع اپنے دوستوں کے جنت میں داخل ہو۔ میں نے تجھ میں اپنے پاس سے صدق کی روح پھونک دی۔ خدا نے اس آیت میں میرا نام روح الصدق رکھا۔ یہ اس آیت کے مقابل پر ہے کہ نَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا پس اس جگہ گویا استعارہ کے رنگ میں مریم کے پیٹ میں عیسیٰ کی رُوح جا پڑی جس کا نام رُوح الصدق ہے پھر سب کے آخر میں صفحہ 556 براہین احمدیہ میں وہ عیسیٰ جو مریم کے پیٹ میں تھا۔ اس کے پیدا ہونے کے بارہ میں یہ الہام ہوا۔ يَاعِيْسٰٓی اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اس جگہ میرا نام عیسیٰ رکھا گیا۔ اور اس الہام نے ظاہر کیا کہ وہ عیسیٰ پیدا ہوگیا جس کی رُوح کا نفخ صفحہ 496 میں ظاہر کیا گیا تھا۔ بس اس لحاظ سے میں عیسیٰ بن مریم کہلایا۔ کیونکہ میری عیسوی حیثیت مریمی حیثیت سے خدا کے نفخ سے پیدا ہوئی۔ دیکھو صفحہ 496 اور صفحہ 556 براہین احمدیہ۔ اور اسی واقعہ کو سورۃ تحریم میں بطور پیشگوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امّت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امّت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے اس مریم میں عیسیٰ کی رُوح پھونک دی جائے گی۔ پس وہ مریمیت کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پاکر عیسیٰ کی روحانیت میں تولد پائے گا۔ اور اس طرح وہ عیسیٰ بن مریم کہلائے گا۔ یہ وہ خبر محمدی ابن مریم کے بارہ میں ہے جو قرآن شریف یعنی سورہ تحریم میں اس زمانہ سے تیرہ سو برس پہلے بیان کی گئی ہے۔ اور پھر براہین احمدیہ میں سورہ التحریم کی ان آیات کی خدا نے خود تفسیر فرما دی ہے۔ قرآن شریف موجود ہے۔ ایک طرف قرآن شریف کو رکھو اور ایک طرف براہین احمدیہ کو اور پھر انصاف اور عقل اور تقویٰ سے سوچو کہ وہ پیشگوئی جو سورۃ التحریم میں تھی یعنی یہ کہ اس امت میں بھی کوئی فرد مریم کہلائے گا اور پھر مریم سے عیسیٰ بنایا جائے گا۔ گویا اس میں سے پیدا ہوگا۔ وہ کسی رنگ میں براہین احمدیہ کے الہامات سے پوری ہوئی۔ کیا یہ انسان کی قدرت ہے۔ کیا یہ میرے اختیار میں تھا اور کیا میں اس وقت موجود تھا جبکہ قرآن شریف نازل ہورہا تھا۔ میں عرض کرتا کہ مجھے ابن مریم بنانے کے لیے کوئی آیت اتار دی جائے اور اس اعتراض سے مجھے سبکدوش کیا جائے کہ تمہیں کیوں ابن مریم کہا جائے۔ اور کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہوسکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر اوّل اپنا نام مریم رکھتا اور پھر آگے چل کر افتراء کے طور پر یہ الہام بناتا کہ پہلے زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی عیسیٰ کی روح پھونکی گئی۔ اور پھر آخر کار صفحہ 556 براہینِ احمدیہ میں یہ لکھ دیتا کہ اب میں مریم میں سے عیسیٰ بن گیا۔ اے عزیزو! غور کرو اور خدا سے ڈرو۔ ہر گز یہ انسان کا فعل نہیں۔ یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے فہم اور قیاس سے بالاتر ہیں۔ اگر براہین احمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا۔ مجھے اس منصوبہ کا خیال ہوتا تو میں اسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا۔ سوچو کہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہوجائے گی۔ اس لیے اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفتِ مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سرِ مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔ حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی۔ میرے پر نازل ہوئی اور براہین احمدیہ میں درج ہوئی۔ مگر مجھے اس کے معنوں اور اس ترتیب پر اطلاع نہ دی گئی۔ اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا میری سادگی اورعدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔ محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیوں کہ مجھے خودبخود غیب کا دعویٰ نہیں۔ جب تک کہ خداتعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔ سو اس وقت تک حکمت الٰہی کا یہی تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہامی اسرار میری سمجھ میں نہ آتے۔ مگر جب وقت آگیا۔ تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں یہ وہی دعا ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بار بتصریح لکھا گیا ہے۔ اس جگہ ایک اور الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ صدہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا۔ اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے۔ اور وہ اس زمانہ کا ہے۔ جب کہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا۔ یعنی پھر مریم کو جو مراد اس کا عاجز سے ہے۔ دردِ زہ کھجور کی طرف لے آئی۔ یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بےسمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا۔ جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔ تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء میں مولویوں کی طرف سے بحیثیت مجموعی پڑا اور وہ اس دعویٰ کو برداشت نہ کرسکے۔ اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا۔ تب اس وقت جو کرب اور قلق نہ سمجھوں کا شور و غوغا دیکھ کر میرے دل پر گزرا۔ اس کا اس جگہ خداتعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے جیسا لَقَدْ جِئْتِ شَيْـًٔا فَرِيًّا مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا اور پھر اس کے ساتھ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ 521 میں موجود ہے اور وہ یہ ہے اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ وَ لِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا۔ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 516 سطر 12 و 13 (ترجمہ) اور لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا مکروہ اور قابلِ نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دور ہے۔ تیرا باپ اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے مگر خدا ان تہمتوں سے اپنے بندہ کو بری کرے گا۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان بنا دیں گے اور یہ بات ابتداء سے مقدر تھی اور ایسا ہی ہونا تھا۔ یہ عیسیٰ بن مریم ہے جس میں لوگ شک کررہے ہیں، یہی قولِ حق ہے۔ یہ سب براہین احمدیہ کی عبارت ہے اور یہ الہام اصل میں آیاتِ قرآنی ہیں جو حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ ان آیتوں میں عیسیٰ کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے۔ اسی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے مَیں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شرک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے۔ اور شک محض نا فہمی سے ہے جو خدا کے اسرار کو نہیں سمجھتے اور صورت پرست ہیں حقیقت پر ان کی نظر نہیں۔

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 152 تا 155)