//ایک نصیحت فرقان حمید سے

ایک نصیحت فرقان حمید سے

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰ قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِيْنَ(سورة اٰل عمران آیت 34،33،32)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم… کامل انسان، اللہ تعالیٰ کا سچا پرسار بندہ تھا اور ہماری اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو مبعوث فرمایا۔ ان کے سوا الٰہی رضا ہم معلوم نہیں کرسکتے اور اسی لئے فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ جس طرح پر اس نے اپنے غیب اور اپنی رضا کی راہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے۔ اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان آدمؑ، نوح ؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، داؤدؑ، محمدؐ، احمدؐ ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپﷺ ہی کی چادر کے نیچے ہوکر ہے۔ کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کھلی ہے تو وہ آپ ﷺ میں ہوکر۔ ورنہ یقیناً یقیناً سب راہیں بند ہیں۔ کوئی شخص براہِ راست اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کرسکتا۔

جنابِ الٰہی میں محبوب بننے کے لیے اتباع رسول ﷺکی سخت ضرورت ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ساری دنیا کو قربان کردو۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع پر۔ دیکھو۔ حضرت ابراہیم ؑنے کیسی قربانی کی اور آخر اسی قربانی کے وسیلے سے وہ اس وجاہت پر پہنچا کہ خدا کے محبوب میں ایک ممتاز محبوب نظر آیا۔

جو قربانی کرتا ہے اللہ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔ اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے پھر اسے محبت کا مظہر بناتا ہے۔ پھر اللہ انہیں عبودیت بخشتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدود ترقیاں ہوسکتی ہیں۔

اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو اور اس سے سچے تعلقاتِ محبت پیدا کرنے کے خواہش مند ہو تو رسول کریم ﷺکی متابعت کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کے محبوب بن جاؤگے اصل سے صحابہؓ نے جو فائدہ اٹھایا ہے اس کی سوانح پر غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے۔

اسلام نام ہے فرماں برداری کا۔ سارے جہاں کو موقعہ نہیں کہ اللہ کی باتیں سنے اس لیے پہلے نبی سنتا ہے پھر اَوروں کو سناتا ہے۔ سو پہلا مرتبہ یہی ہے کہ نبی کی صحبت میں رہے اور اس سے فرماں برداری کی راہیں سنے اور سیکھے چنانچہ اس بناء پر نبی کریم ﷺنے یہ سمجھایا کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ یعنی سردست تم میرے تابع ہوجاؤ۔ اس کی تعمیل میں ایمان لانے والوں کو جیسا نبی کریم ﷺنے سمجھایا، کیا۔ کلمہ سکھایا کلمہ پڑھ لیا۔ نماز سکھائی تو نماز پڑھ لی۔ روزہ، حج، زکوٰۃ۔ جس طرح فرمایا اسی طرح ادا کیا۔ یہ اسلام ہے۔

انسان کو اپنے خالق و رازق و محسن سے محبت ہوتی ہے مگر محبت کا نشان بھی ہونا چاہیے اس لئے فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ یعنی کہہ دے اگر تمہیں اپنے مولیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے تو اس کی پہچان یہ ہے کہ میری اتباع کرو پھر تم محب کیا اللہ کے محبوب بن جاؤ گے۔

پھر بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہر حرکت و سکون میں ایسی فرماںبرداری نہیں کرسکتے کے اس میں فنا ہو جاویں اس لئے فرمایا کہ رسول ہونے کی حیثیت سے جو حکم اس نے دیئے ان پر عمل کرو۔ پس اگر محبوب نہ بنائیں تو کفر سے تو نکال لیں گے۔

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰی اٰدَمَ: اللہ تعالیٰ نے آدم زاد کو تمام مخلوقات پر برگزیدہ کیا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک عالمِ کبیر ہے تو آدم عالمِ صغیر، تمام اشیاء کا جامع ہے۔ پھر آدمیوں میں سے نو ح کو اوّل الرسل بنایا۔ آدم کو خدا نے رسول نہیں فرمایا بلکہ خلیفہ کہا۔ اوّل الرسول نوحؑ ہی ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو ترکِ بدی کی تعلیم دی اور استغفار سکھایا۔ پھر جب دوسرا دور آیا تو ابراہیمؑ کو رسالت سے ممتاز کیا جنہوں نے تنزیہہ کے علاوہ فرمانبرداری کی تاکید کی اور اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کا سبق دیا۔ پھر حضرت موسیٰؑ کا زمانہ آیا۔ ان کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی دی۔ غرض تمام انعامات سے بھرپور کردیا اور یہ نہ سمجھو کہ ان میں خاص خاص لوگ ہی تھے بلکہ عمران کی عورتوں کو بھی مشرف بکلام الٰہی کیا۔ چنانچہ عمران کی ایک عورت کا ذکر کرتا ہے۔

جب عمران کی ایک عورت نے کہا اے میرے رب! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے یقیناً وہ میں نے تیری نذر کردیا (دنیا کے جھمیلوں سے) آزاد کرتے ہوئے۔ پس تو مجھ سے قبول کرلے۔ یقیناً تو ہی بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔

بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ مریمؑ کی والدہ عمران کی بیوی نہ تھی۔ یہ غلط ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں میں بزرگوں کے نام پر قوم چلتی ہے۔ موسیٰؑ اور ہارونؑ عمران کے بیٹے تھے۔ پس انہی کی نسل میں سے ایک عورت تھی جس کا یہ ذکر ہے۔

امْرَاَتُ عِمْرٰنَ: عمرانیوں کی ایک عورت نے۔ عمران خاوند اور اس کی بی بی مراد نہیں۔

مُحَرَّرًا: اب تک ہندوؤں میں اور بعض مسلمانوں میں یہ رسم ہے کہ اگر کسی کی اولاد زندہ نہ رہے تو وہ وہ چڑہاوا چڑھا دیتا ہے۔ گویا اس پاک رسم کی اصل موجود ہے۔ وہ کسی خانقاہ کے نام پر تو نہ تھی۔ البتہ فرمایا کہ یااللہ میں نے اپنے کام سے آزاد کردیا۔ دین کے لئے وقف کردیا۔

وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰی: یہ اس لیے کہا کہ لڑکی کا رواج نہ تھا۔

لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰی: اگر یہ خدا کا کلام ہے تو پیشگوئی ہے کہ یہ لڑکی معمولی عورتوں سے بہت اچھی ہوگی۔ اگر اس میں عورت کا کلام ہے تو معنے ظاہر ہے۔

لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰی: اللہ نے فرمایا کہ لڑکا اس لڑکی جیسا نہ ہوتا۔

وَ اِنِّيْۤ اُعِيْذُهَا بِكَ: کیا اچھا ہوکہ مسلمان اس ہدایت پر عمل کریں اور صحبت سے پہلے بہت بہت دعائیں کرلیا کریں کہ ان کی اولاد نیک ہو۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 463 تا 466)