//ایک نصیحت فرقانِ

ایک نصیحت فرقانِ

حمید سے

فرقانِ حميد کي آيت کي تفسير بيان کرتے ہوئے حضرت الحاج مولوي نورالدينؓ فرماتے ہيں۔اَوَلَمَّا اَصَابَتْكُمْ مُصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ اَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ اِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (آل عمران: 166)

ترجمہ:بہت سے لوگ ہيں کہ انہيں دنيا کے کاموں ميں بہت تکليف پہنچتي رہتي ہے مگر اس کام کو چھوڑ نہيں ديتے۔ ليکن اگر دين ميں کچھ تکليف پہنچے تو بہت جلد بے دلي ظاہر کرتے ہيں۔ مَيں ايک بزرگ سے پڑھتا تھا جو ہميشہ سے سفر ميں رہتے۔ جب وہ کہيں جاتے مجھے بھي ساتھ جانا پڑتا۔ ايک دفعہ کسي شخص کي بھينس چور لے گئے۔ چوروں کا پتہ مل گيا۔ ہمارے استاد کو سفارش کے لئے وہ لوگ جن کا نقصان ہوا تھا لے گئے۔ وہاں جاکر انہوں نے بہت کچھ کہا مگر چور يہي کہتے۔ بدلے کي ديني ہے اصل نہيں ديتے۔ اور وہ گاؤں ايسا تھا کہ اس ميں سب مال چوري ہي کا تھا۔ ہمارے دوست ايک اور طالب علم تھے جواولاد ميں سلطان باہو رحمة اللہ کے تھے انہوں نے کہا ہم خود کچھ انتظام کرتے ہيں يہ لوگ مولويوں کي بات نہيں مانتے تم ميرے ساتھ چلو وہاں جا کر تم نے کہناہے۔آج ميں کہوں گا۔ نہيں کل۔ چنانچہ ہم گئے اور ايسا ہي کہا۔ ايک نوجوان نے حيرت سے کہا کہ کيا بات ہے۔ ميرے دوست نے کہا يہ قريشي ہيں اور چلے ہيں تمہارے گھر آذان دينے۔ اس نے کہا خدا کے لئے ذرا ٹھہر جاؤ اور دوڑتا ہو گھر گيا کہ غضب ہو گيا ستم ہوگيا۔ چنانچہ وہ لوگ ہمارے استاد کے پاس گئے اور کہا کہ ہم بھينسيں لاديتے ہيں خدا کے لئے ہمارے گھر آذان نہ کہنا۔ آخر انہوں نے راز بتايا کہ ان لوگوں کا خيال ہے قريشيوں نے مسجد ميں آذان دي تو وہ ايسي ويران ہوئي کہ يہ اس ميں کوئي بھينس باندھي جاسکتي ہے نہ گائے۔ پس يہ آذان دے کر ہمارے گھر کو بھي مسجد يعني ويران بنا ديں گے۔ پس وہ ڈر کے بھينس لے آئے۔

ميں نے ديکھاہے کہ پير خود بھي لوگوں کو دھوکہ ديتے ہيں۔ کسي پر ناراض ہوں اور اتفاق سے کوئي حادثہ پيش آجائے تو اپني طرف منسوب کرتے ہيں مگر انبياء ايسے نہيں ہوتے وہ توحيد کا جوش رکھتے ہيں اس لئے ہر نيک بات اللہ کي طرف منسوب کرتے ہيں اور بتاتے ہيں ہ دکھ اپني شامت اعمال نتيجہ ہے۔

يہ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ کي تفسير ہے۔ اس ميں بتايا ہے کہ مصيبت تمہاري نافراني کا نتيجہ ہے۔ جب الله تعاليٰ کي شريعت کي خلاف ورزي کي جاتي ہے تو سزا ملتي ہے۔ قرآن پہلے سيّد و قريش کے گھر سے نکلا (گو اب اس نکلنے کے يہ معني ہيں کہ نکل ہي گيا) اور پھر يہي لوگ اب قرآن سے جاہل ہوتے جاتے ہيں حالانکہ ان کي بڑائي کي وجہ ہي يہي تھي کہ وہ قرآن شريف جانتے تھے۔ لوگوں نے قرآن شريف سے دين و دنيا کے فائدے اُٹھائے ہيں مگر پھر تو نيّتوں ميں فتور آگيا۔ ايک محلّہ ميں بہت سے حافظ رہتے تھے۔ والد صاحب نے کہا کہ جانتے ہو کہ يہ کيوں اتنے حافظ ہيں۔ ميں نے کہا فرمائيے۔ کہا يہ لوگ کابل کي طرف تجارت کرتے ہيں اور وہاں حفّاظِ قرآن کے لئے محصولِ تجارت معاف ہے۔ پس يہ حافظ بن جاتے ہيں۔ ايک اور حافظ قرآن شريف ياد کررہے تھے۔ ميں نے پوچھا آپ قرآن کيوں ياد کرتے ہيں کہا کہ قرآن شريف ياد کرکے کلکتہ جاؤں تو دوسَو روپيہ لاؤں سندھ جاؤں تو ايک سو روپيہ۔

يہ تو پڑھنے والوں کا حال ہے اور جن کو پڑھنا چاہئے اور نہيں پڑھتے ان کو حال سنو کہ ايک بڑے آدمي سے ميں نے کہا۔ آپ پڑھتے کيوں نہيں۔ تو وہ بڑے جوش ميں آکر کہنے لگا۔ کيوں ہم کوئي بندر ہيں؟ سيکھتے تو بندر ہيں شير نہيں سيکھتے۔ ميں نے کہا اگر آپ اجازت ديں تو ميں بھي ايک مثال پيش کروں۔ باز تو سيکھتے ہيں مگر کوّے نہيں سيکھتے۔ يہ سن کر خاموش ہوگيا۔ ايسا فرقہ بھي ہے جو اپنے نيک اور بد کام خدا سے منسوب کرتا ہے۔ تقدير کے مسئلے کے سمجھنے ميں غلطي کھائي ہے۔

ميري والدہ اعوان قوم ميں سے تھي۔ بڑي فہميدہ عورت تھي۔ وہ ہميشہ ايک مثال ديا کرتي تھي جو آگ کھاتا ہے انگارے ہگے گا يعني جيسا کرے گا ويسا پائےگا۔ وَالْقَدْرِ خَیْرِہ وَشَرِّہ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ کے معني بتايا کرتيں کہ ہر نيک و بد عالم کا اندازہ خدا کي طرف سے ہوچکا ہے۔ جيسا کريں ويسا نتيجہ پائيں۔ قَدّرَہٗ تَقْدِیْراً(الفرقان: 3)

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ نمبر 539تا 541)