//اک نيا سال

اک نيا سال

آصفہ بلال  پاکستان

وقت کي رنگ بدلتي ہوئي دہليز پھر

اک نيا سال ،نئے باب لے کے آيا ہے

نئي اميد،نئے خواب لے کے آيا ہے

خواب يہ ہے کہ سبھي درد ،سبھي تکليفيں

گزشتہ سال  جو حصے ميں اپنے آئي تھيں

وہ رنجشيں کہ جو رشتوں ميں ہم نے پائي تھيں

اور آزمائشيں تقدير ميں جو آئي تھيں

وہ اب کے سال ميں يا رب ہميں نہ دکھلانا

سکون دينا ہميں اور فضل فرمانا

تيري رحمت کا ہو نزول ہميشہ ہم پر

کبھي نہ بھٹکيں تيري راہ سے

ميرے راہبر جھکے رہيں ميرے پيارے

فقط تيرے در پر ہر ابتلا سے بچا لے

تو رحم کر مولا اس نئے سال ميں يہ دل بھي نيا کر مولا

دے مجھے دل وہ کہ جس ميں ہو محبت تيري

عاجزي جس ميں ہو شامل ہو عبادت تيري

اے ميرے قادر مطلق تو دعائيں سن لے

درد ميں ڈوبي ہوئي ميري صدائيں سن لے

اس سے پہلے کہ يہ سال بھي گزر جائے

ہم کو مہلت نہ  ملے اور دم نکل جائے

ميرے خوابوں کو نئے سال ميں تعبير وہ دے

ميري دنيا جو بدل دے مجھے تقدير وہ دے

کہ وقت کي رنگ بدلتي ہوئي دہليز پہ پھر

اک نيا سال نئے باب لے کے آيا ہے

نئي اميد، نئے خواب لے کے آيا ہے