//آئیڈیل یا آئیڈیل پرستی

آئیڈیل یا آئیڈیل پرستی

تحریر: قدسیہ مرزاپاکستان

انسان ازل سے شخصیت پرستی کے پھیر میں پڑا رہا ہے۔ شخصیت پرستی یا ہیروازم انسان کی فطری کمزوری ہے جس پر غلبہ دلائل کی صورت حاصل کرنا چاہیے۔ اس فطری کمزوری نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ اندھی تقلید میں روشنی تلاش کرتا رہا اور تاریکی مقدر بنیں۔ آباؤ اجداد، حکمران، عالم دین، سپہ سالار، دانشور، جس کسی کو سر آنکھوں پر بٹھایا، اسے مقدس اور کامل بنا دیا۔ ہر خطا سے پاک، انمول اور ہدایت یافتہ، بت پرستی بھی اسی فطری کمزوری کا ایک مظہر ہے جو انسان کی اندھی تقلید سے جنم لیتی ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ سترہ سال تک حق کا نور آپ کے سامنے چمکتا رہا، قبول کیوں نہیں کیا۔۔۔۔؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے سامنے جو لوگ تھے ان کی عقلوں کو ہم پہاڑ کی طرح سمجھتے تھے۔۔۔ ابوجہل، ولید بن مغیرہ، عتبہ یہ وہ لوگ تھے جو قریش کے اس لاڈلے کے آئیڈیل تھے۔ یہ پہاڑ ہٹ گئے تو حق نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل و دماغ کو منور کردیا۔ سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ سیف اللہ کا لقب پایا، مشرق و مغرب میں اسلام کی دعوت کو لے کر پہنچے اور سرخرو ہوئے۔

پھر یہی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ شام اور ایران کی فتوحات تھیں، ایک امیج تھا، لوگوں کے پسندیدہ تھے، ایک پکار پر سپاہی کٹ مرنے کے لیے تیار رہتے تھے، میدان جہاد کے بہترین شاہسوار تھے لیکن ایک غلطی کر بیٹھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے برعکس مال امراء میں تقسیم ہوا۔ دربار خلافت میں خبر پہنچی اور پھر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ نہ کوئی دبدبہ کام آیا نہ شہرت۔ یہ ہے شخصیت پرستی پر وہ ذات جو اسلام لگانا چاہتا ہے۔ غلط اور صحیح کا تعین۔ شخصیت کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ اللہ کے حکم کی بنیاد پر ہوگا۔

ہمارے ہاں اسی کمزوری نے ایک المیے کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ہم حکمرانوں، علماء اور دانشوروں کو آئیڈیل بناتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ کامل صرف اللہ کی ذات ہے۔ انسان چاہے جتنا ہی بہترین کیوں نہ ہو، غلطی کرسکتا ہے۔ اردگان کا معاملہ ہو یا سعودی حکمرانوں کا یا ایرانی زعما کا یا پھر ہمارے اپنے ہی سیاسی اور فوجی حکمران ہوں، کیسی بدنصیبی ہے کہ ہم اندھی سیاسی، ملکی اور ذاتی پسندناپسند کی بنیاد پر ان کی غلطیوں کو جواز دینے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرتے رہتے ہیں۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلائل گھڑتے ہیں، خطاکار کو نیکوکار بنانے کی سعی کرتے ہیں، غلطی کو سٹریٹجی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسوس! بھلے آدمی! مان لو کہ انسان خطا کرسکتا ہے اور وہ ایک شخص بھی ایک انسان ہی ہے اور اگر وہ حکمران ہے تو اس کی غلطی پر گرفت تو اور بھی لازم ہوجاتی ہے کہ اسلام کی رُو سے یہ ایسا فرض ہے جس پر کارہائے سیاست کا سارا دارومدارہے۔

ذرا مدینہ کا ایک منظر دیکھیے۔ مسجد نبوی کا منبر ہے اور جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا خطبہ دے رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اگر میں صحیح چلوں تو میری پیروی کرو اور اگر میں قرآن و سنت سے ہٹ کر راہ  اپنا ؤں تو مجھے روک دو۔ کیسا منظر ہے کہ معیار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہیں، قرآن اور سنت ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق کی شخصیت کو ایک طرف رکھ دیجئے اور عمل کو اسلام کی بنیاد پر پرکھیے۔ یہ ہے کرنے کا کام جس کا حکم دیا گیا ہے۔

پھر ایک اور منظر دیکھیے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں کھڑے ہیں اور ایک نیا حکم جاری فرما رہے ہیں جو عورتوں کے حق مہر کے حوالے سے ہے۔ لوگوں کو پابند کر رہے ہیں کہ وہ اتنی اتنی رقم سے زیادہ حق مہر نہ مقرر کریں۔ ایک بوڑھی عورت کھڑی ہوتی ہے اور سخت آواز میں اس شخصیت سے مخاطب ہوتی ہے جس کے رعب اور دبدبے سے شیطان بھی ڈرتے تھے۔ ’’اے عمر! تم کون ہوتے ہو اسے پابند کرنے والے جبکہ اللہ قرآن کی فلاں آیت میں اس چیز کی اجازت دیتاہے کہ اگر انہیں خزانے بھی دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں‘‘۔۔ اور جواب میں کوئی پولیس حرکت میں نہیں آتی، کوئی ایجنسی اس خاتون کو نہیں اٹھاتی، کہیں یہ آواز نہیں اٹھتی کہ تمہیں ہمت کیسے ہوئی بلکہ جناب عمر رضی اللہ عنہ نادم ہوتے ہیں۔ جواب میں فرماتے ہیں کہ اے لوگو! اس معاملے میں، میں غلط تھا اور یہ عورت ٹھیک ہے اور اپنا حکم واپس لے لیتے ہیں۔ذرا تصور کیجیے کہ شخصیت پرستی کے بُت پر کیسی چوٹ ہے یہ۔ جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

ہمارے سامنے خواہ بہترین انسانوں میں سے ایک بہترین انسان ہی کیوں نہ ہو، معیار قرآن و سنت ہی رہے گا۔ یہ ہے وہ حل جو اسلام اس فطری کمزوری پر غالب آنے کے لیے دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قریش مکہ کے سامنے اسلام کی دعوت رکھتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے اپنے آباؤاجداد کو کبھی یہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم کیسے مان لیں۔ یہ ہے وہ اندھی عقیدت جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ جو حق اور باطل میں فرق مٹا دیتی ہے۔ جو انسان کو حق شناسی سے دور لے جاتی ہے۔ اتنا دور کے وہ قبر کے اندھے گڑھے تک پہنچ جاتا ہے اور روشنی سے محروم رہتا ہے۔ اسی لئے قرآن انہیں اندھے، بہرے اور ناسمجھ قرار دیتا ہے۔

خدارا! اپنی اندھی عقیدت و اور چاہتوں کو معیار نہ بنائیے۔ انہیں اپنے دماغ سے نکال کر لوگوں کو پرکھیے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ ہمیشہ خصوصیات کو بنیاد بنانے کی بجائے شخصیات کو اسلام کی بنیاد پر پرکھنا ہے۔ ان کے اعمال کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ اسلام کی بنیاد پر کرنا ہے۔ جو حق اور باطل کا معیار ہے، جو کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کرنے والا ہے۔ اس لئے جو صحیح کرے اسے صحیح کہو، جو غلط کرے اسے غلط کہو۔ مجھے یقین ہے کہ جس دن مسلمان اندھی عقیدتوں کے پھیر سے باہر نکل آئے، کسی دن وہ یقیناً منزل کی طرف جانے والے راستے کو پالیں گے۔ انشاءاللہ