//اُم المؤمنین حضرت صفیہؓ قسط اوّل

اُم المؤمنین حضرت صفیہؓ قسط اوّل

یہودی سردار حیی بن اخطب کی بیٹی حضرت صفیہ ؓ کی رسول اللہﷺ سے شادی میں بھی خدائی تقدیر کار فرماتھی۔جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے حضرت صفیہ ؓ جیسی پاک مزاج بی بی کو شادی سے پہلے بذریعہ خواب دے دی تھی۔

حضور ﷺنےخیبر سے واپسی پرحضرت صفیہ ؓ سےشادی کےبعدان کے ہودج میں بیٹھنے کی جگہ مزید نرم کرنے کیلئےاپنی عبا تہہ کرکےاس پر بچھا دی۔ پھر آپ ؐنے انہیں اونٹ پر سوار کروانے کے لئے اپنا گھٹنا جھکادیا تاکہ وہ اس پر پاوٴں رکھ کرسہولت سے اونٹ پربیٹھ سکیں۔اور انہیں ازواج مطہرات جیساپردہ کروایا جس سے صحابہ سمجھ گئے کہ وہ ’’امّ المؤمنین‘‘ ہیں۔

نبی کریمؐ نےغزوہ خیبر کے اسباب کی حقیقت کھول کر حضرت صفیہؓ کے سامنے بیان کی اور ان کے عزیزوں کے ہلاک ہونے پر دلاسا دیتے ہوئے اس قدر دلی معذرت کی کہ ان کا سینہ صاف ہوگیا وہ خود بیان فرماتی تھیں کہ‘‘اس سے پہلے آنحضرت ﷺ سے بڑ ھ کر میرے لئے کوئی قابل نفرین وجود نہیں تھا مگر آپؐ کے ساتھ پہلی نشست کے بعد جب میں اٹھی توآنحضرتﷺ سے زیادہ کوئی مجھے محبوب نہ تھا۔آپؐ ہی مجھے سب سے پیارے اور سب سے زیادہ عزیز تھے۔‘‘

رسول اللہﷺکی آخری بیماری میں حضرت صفیہؓ نے عرض کیا کہ کاش آپؐ کی بیماری مجھے مل جائے اور آپؐ کو شفاء ہو۔کسی بیوی نےاس پر طنزیہ اشارہ کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’خدا کی قسم یہ اپنی بات میں سچی ہے گویا مجھے صدق دل سے چاہتی ہے۔‘‘

نام ونسب

حضرت صفیہ  کا اصل نام زینب تھا۔ آپ یہود ی قبیلہ بنو نضیر کے سردار حُیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔

والدہ کا نام برّہ بنت شموئیل تھا۔ آپ ؓ کا نسب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے لاوی اور حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون علیہ السلام کی اولاد سے جاملتاہے۔

رسول اللہﷺ کے حرم میں آنے کے بعد آپ صفیہ کے نام سے موسوم ہوئیں۔صفی کے ایک لغوی معنے مالِ غنیمت کے اس حصہ کے ہیں جو رئیس اپنے لیے مخصوص کر لے۔اسی بناء پرمال غنیمت میں رسول اللہؐ کے حصہ کو ’’الصفی‘‘ کہا جاتا تھا۔حضرت عائشہؓ حضرت صفیہؓ کو اسی لحاظ سے صفی قرار دیتی تھیں۔

صفیہ کے دوسرےلغوی معنے خالص،پاک وصاف وجوداور مخلص ساتھی کےہیں۔ ان معنوں کے لحاظ سے بلاشبہ آپؓ اسم بامسمّی بھی تھیں،کیونکہ انہوں نے اسلام قبول کرکے اپنا دل وسینہ پاک و صاف کرکے محبت الہٰی اور عشق ِرسول سے لبریز کرلیا تھا۔

حضرت صفیہ ؓ ایک امیر کبیر یہود ی سردار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں شہزادیوں جیسا رہن سہن تھا۔ آپ ؓ کی ذاتی ملکیت میں ایک سو کے قریب لونڈیاں تھیں۔ جو گھریلو خدمت پربھی مامور ہوتی تھیں۔ آپ ؓ کی پہلی شادی اٹھارہ18 برس کی عمرمیں معروف یہودی عرب شاعرسلّام بن مشکم القرظی سے ہوئی۔مگردیر پا ثابت نہ ہوسکی اور سلّام نےکوئی اولاد ہونے سے پہلے ہی انہیں طلاق دے دی۔ دوسرانکاح یہودی سردار اورشاعرکنانہ بن ابی الحقیق سےہوا۔قدرتِ الہٰی کی بھی عجیب شان ہے کہ یہ شادی رسول اللہﷺ کے محاصرۂ خیبر کے قریبی زمانہ میں ہوئی۔ اور صفیہ ابھی نوبیاہتادلہن ہی تھیں کہ اس جنگ میں ان کا خاوند کنانہ مارا گیا۔ دونوں شادیوں سے کوئی اولاد نہیں تھی۔خیبر فتح ہونے کے بعدوہ اسیران جنگ میں شامل ہوکر حضرت بلالؓ کے سپرد ہوئیں،جب وہ انہیں لیکر یہودی مقتولین کے پاس سے گزرے تو حضرت صفیہ ؓ اور ان کی ساتھی قیدی عورت اس وحشت ناک منظر کودیکھ کرواویلاکرنے لگیں، جس پر رسول اللہﷺ نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئےحضرت بلال ؓ کو فہمائش فرمائی کہ اسیر عورتوں کو ان کے مقتولین کی نعشوں کے پاس سے لیکر نہیں گزرنا چاہیے تھاتاکہ وہ دلآزاری سے بچ جاتیں۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہﷺکو دشمن اسیران کے جذبات کا بھی کتنا خیال تھا۔اس دوران ایک صحابی حضرت دحیہ الکلبیؓ نے آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ خیبر کے جنگی قیدیوں میں سے مجھے بھی ایک لونڈی عطا ہو۔ رسول کریم ﷺنے انکی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کوئی ایک لونڈی لے سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ کو اپنے لئے چن لیا۔

رسول اللہﷺسے شادی

بعد میں جب آنحضرت ﷺ کے علم میں یہ بات آئی کہ قیدیوں میں یہود کی ایک شہزادی بھی ہے، جسے حضرت دحیہ ؓالکلبی لے چکے ہیں۔ اس کا احترام ولحاظ یہود خیبر پر ایک اور احسان ہوگاجو ان کی دشمنی کم کرنے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ایسے ہر مشکل مرحلہ پر رسول کریم ﷺایک طرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس سے راہنمائی اور دعا کے ذریعہ اس کے فضل کے طالب ہوتے تو دوسری طرف اپنے اصحاب سےمشاورت سے بھی کام لیا کرتے تھے۔چنانچہ آپؐ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کہ یہود کی اس شہزادی سے کیا معاملہ ہونا چاہئے۔صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ!یہ آپؐ کے مناسب حال ہے۔ حضرت صفیہؓ سےآپ ؐ کے عقد کی صورت میں مفتوح قوم کی تالیف قلبی ہوگی اوریہ بات یہود کو اسلام کے قریب لانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔حضور ؐ نے قومی مفاد میں یہ مشورہ قبول کرتے ہوئے حضرت صفیہؓ کو آزاد کرکے اپنے حرم میں شامل فرمایا۔اور غلامی سے آزاد ی کوان کا حق مہر قرار دیا۔یہ گراں قدر حق مہر انہوں نے بخوشی قبول کیا۔

دوسری طرف صحابیٔ رسول ؐحضرت دحیہ الکلبی  جنہوں نے حضورﷺکی اجازت سے حضرت صفیہ کو اپنی تحویل میں لیا تھا،جب آنحضورﷺ نے حضرت صفیہؓ کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور اس کے عوض تالیف قلب کے لیے حضرت دحیہ ؓ کو سات غلام عطا فرما دئیے۔تویہ زیادہ انعام انہوں نے بخوشی قبول کیا۔ آنحضرتﷺ نےحضرت صفیہ ؓ کوتکمیل عدّت تک ایک مخلص انصاری گھرانے کی خاتون حضرت امّ سُلیمؓ کے سپرد کیا تاکہ حالت طہر کے بعدوہ انھیں رسول اللہ ؐ سے شادی کے لئے تیار کردیں۔ خیبر سے واپس آتے ہوئےحضور ﷺ نے سدالصہباء مقام پر پڑاؤکیا اورتین رات یہاں قیام کیا۔اسی جگہ حضرت امّ سلیم ؓ نے حضرت صفیہ ؓ کو دلہن بناکر رسول اللہﷺکی خدمت میں پیش کیا۔

خاص حجاب کا اہتمام

اس زمانہ کے رواج کے مطابق لونڈیوں کو اپنے مالکوں کے کام کاج اور سودا سلف وغیرہ لانےکی مجبوریوں سے گھر سے باہر بھی جانا پڑتا تھا۔ان کا پردہ نسبتاً نرم اور ہلکا ہوتا تھا جبکہ شریف خاندانوں اور بالخصوص ازواج النبی ؐ کا پردہ معیاری ومثالی اور ایک عمدہ نمونہ تھا۔جس میں چہرہ کےپردہ کا خاص اہتمام بھی شامل تھا۔ لونڈی کے پردہ کا شریف بیبیوں سے فرق کا اشارہ سورۃ احزاب کی آیت ذَلِكَ أَدْنَی أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ میں بھی موجودہے۔

حضرت ابن عباسؓ اس آیت کا یہ پس منظر بیان کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں عرب عورتوں کا لباس بلا امتیاز آزاد عورت یا لونڈی ایک قسم کا ہوتا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو چادر لینے کا حکم دیا کہ وہ لونڈیوں جیسا لباس نہ رکھیں۔اس پردہ کا مدینہ کے اوباش بھی لحاظ کیا کرتے تھے… گھونگٹ والی چادر کا پردہ معزز خواتین کے لیے ایسا مخصوص ہوا کہ حضرت عمرؓ اپنے زمانۂ خلافت میں کسی لونڈی کو اس پردہ کے اختیار کرنے کی اجازت نہ دیتے اور فرماتے تھے کہ گھونگٹ والی چادر کا پردہ آزاد عورتوں کے لیے ہے تا کہ وہ کسی چھیڑ خانی اور ایذاء رسانی سے بچ سکیں۔یہاں تک کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک لونڈی کو ایسا پردہ کیے دیکھا تو اسے سختی سے اس سے روک کر فرمایاکہ آزاد عورتوں سے مشابہت اختیار نہ کرو۔

حضرت صفیہ ؓ چونکہ اسیران ِجنگ میں سے تھیں، انہیں حرم میں شامل کرنے کے لئے کسی الگ اعلان ِنکاح کی ضرورت نہیں تھی۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ‘‘اگر وہ(لونڈیاں) مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا نا جائز ہے یعنی نکاح کے لیے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں۔‘‘چنانچہ صحابہ کرامؓ قیاس آرائیاں کرنے لگے کہ اگر نبی کریم ﷺنے حضرت صفیہ ؓ کو محض ایک لونڈی کے طور پر قبول فرمایا ہےتوآپؐ ان سے پردہ کا خاص اہتمام نہیں کروائیں گے اوراگر وہ آپؐ کی زوجہ اور امّ المومنین ہیں تو ان سےدیگر ازواج جیسا مثالی پردہ کروایا جائیگا۔پھر جب آنحضرتﷺ نےانہیں ازواج مطہرات جیسا ہی پردہ کروایا تو آپ ؐ کایہی فعل اعلانِ نکاح وشادی سمجھا گیا اورصحابہؓ کی تشفّی ہوگئی۔

دعوت ولیمہ

حضرت صفیہ ؓ سے باقاعدہ شادی کا ایک اور قرینہ دورانِ سفر ان کی رخصتی کے باوجود دعوت ِ ولیمہ کا اہتمام ہے۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپؐ کے صحابہ کی ایک محبت بھری بے تکلفی تھی۔حضرت صفیہؓ سے شادی کے موقع پر ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہﷺ!ولیمہ کب ہوگا؟ حضورﷺ نے فرمایا ’’ولیمہ تو حق ہوتاہے اوریہ ضرور ہوگا‘‘ پھر حضور ﷺنے دوران سفر ہی اس ولیمے کا انتظام بھی فرمایا۔

صحابہؓ بیان کرتے ہیں کہ فتح خیبر سے واپسی پرجب ہم سدّالصہباء مقام پر پہنچے تو رسول اللہﷺ نے یہاں پڑاوٴکیااوراسی جگہ رخصتی کے بعددعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔حالت سفر میں بھی یہ ایک نہایت سادہ مگر پُر وقارتقریب تھی۔ حضور ؐنے صحابہ سے فرمایا کہ سب کے پاس جو زادِ راہ ہے، اسے اکٹھا کیا جائے چنانچہ کھجور اور جَو وغیرہ جو صحابہ کے پاس تھے اکٹھے کئے گئے۔ حضور ؐبھی اپنی چادر کے ایک پلو میں جَو اور کھجور لیکر آئے۔ایک دستر خوان پر یہ سب کھانا چن دیا گیا اور تمام صحابہ اس دعوت میں شریک ہوئے۔رسول اللہﷺ نے صحابہ سے فرمایا‘‘ اپنی ماں کی دعوت کھاؤ‘‘یوں حضرت صفیہ  سے شادی کے بعد سفر خیبر میں نہایت سادگی کے ساتھ شاہ عرب کا یہ ولیمہ ہوا۔ خود حضرت صفیہ ؓ نے اس ولیمہ کے لئے رات کو ہی پتھر کے ایک برتن میں کھجوریں بھگو کر رکھ دی تھیں۔صبح یہ نبیذیعنی کھجور کا شربت مہمانوں کو پلایا گیا۔بعض روایات کے مطابق مدینہ آکربھی حضور ﷺنے اس سفری دعوت کے بعد دوبارہ ولیمہ کااہتمام فرمایا اور لوگوں کو دعوت میں کھانا وغیرہ کھلایا۔حضرت انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت صفیہ ؓ کے ولیمہ میں روٹی اور گوشت کا کھانا کھلایاتھا۔

حسن ِخلق سے حضرت صفیہ ؓ کے دل پر فتح

حضرت صفیہ کے کئی عزیز غزوہٴ خیبر میں مارے گئے تھے۔جن میں ان کے والد اور شوہر کے علاوہ بعض اور عزیز رشتہ دار بھی تھے۔ خود حضرت صفیہؓ کہتی ہیں کہ اس پہلوسے آنحضور ﷺ کے متعلق میرے دل میں ایک بوجھ تھا لیکن آپؐ نے محبت اور شفقت کے سلوک سےحضرت صفیہ کی اس قدر دلداری اور ناز برداری فرمائی کہ حضرت صفیہ کے بقول آپؐ نے ان کا دل جیت لیا۔ وہ خودبیان فرماتی ہیں کہ جب حضور ؐ خیبر سے روانہ ہونے لگے اور مجھے اونٹ پر سوار کروانے کا وقت آیا توحضور ﷺ نے پہلے ہودج تیار کروایا اور جو عباآپ ؐ نے اوڑھی ہوئی تھی اسے تہ کرکے میرے بیٹھنے کی جگہ پر بچھایا تاکہ ہودج نرم ہوجائے۔ یہ بیوی سے حسن معاشرت کا اعلیٰ نمونہ ہی نہیں بلکہ مفتوح قوم کی شہزادی کیلئے ایک اعزاز بھی تھا۔پھر آپ ؐنے انہیں اونٹ پر سوار کروانے کے لئے یہ سہولت بھی بہم پہنچائی کہ اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکادیا اور فرمایا ’’اس پر پاوٴں رکھ کر آپ اونٹ پر سوار ہوجائیں۔‘‘

حضرت صفیہ  کے دل پر بظاہر ان چھوٹی باتوں کا بہت ہی گہرا اثرہوا۔ آپ بیان فرماتی ہیں‘‘ سفر میں آنحضرت ﷺ کی بے پناہ شفقتیں مجھ پر ہوئیں۔ میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی دوران سفر ہودج میں بیٹھے بیٹھے کئی دفعہ ایسے ہوا کہ نیند سے آنکھ لگ جاتی اور میرا سرہودج کی لکڑی سے جا ٹکراتا، آنحضرت ؐ بہت محبت اور پیار سے میرا سر تھام کر سہلاتے اور فرماتے ’’اے حُیی کی بیٹی ! اپنا خیال رکھو کہیں نیند یا اونگھ میں تمہیں کوئی چوٹ نہ لگ جائے‘‘

حضرت صفیہ ؓ کے خاندان کی اسلام دشمنی کے باوجود پیدا شدہ انقلاب!

حضرت صفیہؓ کے دل کی جیت رسول اللہﷺکی ایک عظیم ا لشان فتح تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ یہود اور خصوصاً حضرت صفیہ ؓ کے گھرانے میں اسلام کے لئے دشمنی کتنی شدید تھی۔دراصل یہودیوں کی کتابوں میں فاران کی پہاڑیوں سے ملک عرب میں ایک نبی کے جلوہ گر ہونے کی خبر تھی کہ جس کے ذریعے انہیں بادشاہت اور فتح نصیب ہونی تھی۔

اس موعود نبی کی کئی علامات ان میں مشہور تھیں، اور یہودکے کئی قبائل اس نبی کی تلاش میں مدینہ کے نخلستان میں آکر آباد ہوئے اور اسی امید میں اپنے بچوں کے نام بھی محمد رکھنے لگے۔مگر جب‘‘ وہ نبی‘‘ اپنی علامتوں کے مطابق آگیا تو انہوں نےاس لیے اس کا انکار کردیا کہ وہ ان کےجدّ امجد حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے اسحاق کی اولاد سے نہیں بلکہ دوسرے بیٹے اسماعیل ؑ کی اولاد سے تھا۔اس لئے ان کے بڑوں نے اپنی سرداری نہ چھوڑنے اوراس نبی کی مخالفت کرنے کا تہیہ کرلیا۔حضرت صفیہ ؓ کے والد حُیی اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔ ان کے بارہ میں خودحضرت صفیہؓ اپنے بچپن کی ایک معصوم اورسچی شہادت یوں بیان کرتی ہیں کہ ’’میرے والد اور میرے چچا گھر کے بچوں میں سے سب سے زیادہ مجھ سے پیار کرتے تھے۔اور باقی بچوں کو چھوڑ کر سب سے پہلےلپک کرمجھے لیاکرتےتھے۔جب رسول اللہﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اور قباء میں قیام فرمایا تو ایک روز میرے والد حُیی بن اخطب اور چچا ابو یاسر بن اخطب علی الصبح ان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے گئے۔ شام کو جب واپس گھرلوٹے تو انکے چہرے اترے ہوئے تھےاوروہ لڑکھڑاتے قدموں سے چلےآ رہے تھے۔میں اپنی عادت کے مطابق لپک کر ان کی طرف بڑھی۔مگراس روز ان دونوں نے میری طرف کوئی توجہ نہ کی۔ مجھے لگاجیساان کے دل کسی غم سے بوجھل ہوں۔ وہ سخت نڈھال تھے۔پھرمیں نے چچا ابویاسر کو ابّا سے کہتے سنا کہ بھائی کیا یہ وہی (موعود نبی) ہے؟میرے والدنے کہا کہ ہاں خدا کی قسم !یہ وہی ہے۔چچا نے کہا کیا واقعی آپ اسے اس کی نشانیوں سے پہچان گئے ہیں کہ وہ ساری علامتیں اسی شخص میں پوری ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا ہاں۔ چچا نے پوچھا توپھر اس کے بارہ میں آپ نے کیاسوچا؟ابّا نے کہاخدا کی قسم !جب تک دم میں دم ہے محمدؐ کی مخالفت کرنی ہے۔‘‘

ایک کم سن بچی کے صاف ذہن ودماغ پر نقش ہوجانیوالے اس سچے تاریخی واقعہ سے جہاں اس یہودی خاندان کی اسلام دشمنی ظاہر ہے وہاں اس واقعہ میں خدا ترس لوگوں اور عبرت حاصل کرنے والی قوموں کے لئے بہت بڑا سبق ہے کہ خدا کے مامورکے انکار و تکذیب اور عداوت کا فیصلہ کتنا خطرناک ہوتا ہے؟ دراصل ایسا فیصلہ خدا سے دشمنی کے مترادف ہوتا ہےجس میں تعصب اور عجلت برتنے کا نتیجہ سوائے ہلاکت اوربربادی کے کچھ نہیں ہوتا۔

اسی قسم کےمتعصب سرداران یہود کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کتنا واضح ہے جنہوں نے اپنی قوم کو قبول حق سے روک رکھا تھا۔آپؐ نےفرمایا ’’ا گردس بڑےیہودی (سردار)مجھ پر ایمان لاتے تو سارے یہودہی ایمان لے آتے‘‘ مگروہ ظالم سردار اپنی قوم کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔ یہ واقعہ یقیناً آج کی دنیا کے لئے باعث عبرت ہے۔

حضرت صفیہ  اپنے خاندان کی اسلام دشمنی کے بارہ میں دوسری گواہی یہ بیان کرتی تھیں کہ میری آنکھ کے اوپر بہت گہرا نیلے یا سبز رنگ کا ایک نشان تھا۔ حضور ﷺنے اسے دیکھ کر پوچھا کہ یہ تمہیں کیاہواتھا؟ تب میں نے آپ ؐ کوسارا قصہ کہہ سنایا کہ جب حضور ﷺ خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔میں نےخواب میں دیکھا کہ چودہویں کا چاند میری جھولی میں آگراہے۔ میں نے اپنے خاوند کو یہ خواب سنائی تو اس نے بڑے زور سے مجھے ایک طمانچہ دے مارا اور کہا‘‘ کیا تم یثرب(مدینہ)کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو ؟‘‘

دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حضرت صفیہ نے یہ خواب اپنے والد کو سنائی۔ اس میں سورج کے اپنے سینے پر گرنے کا ذکر کیا۔ والد نے ناراض ہوکر کہا کہ کیا تم اس بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔ جس نے آکر ہمارا محاصرہ کر رکھاہے۔

دونوں روایات میں تطبیق کی یہ صورت ممکن ہے کہ شوہر اور باپ دونوں کو آپؓ نے یہ خواب سنائی ہو۔ بہرحال یہ روٴیا حضرت صفیہ نے حضور ﷺ کے محاصرے کے دوران دیکھی اور بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ چودہویں کے چاند یا سورج سے مراد دراصل آنحضرتﷺ ہی تھے جو مدینہ کے بادشاہ بن گئے۔ اس بات کا بھی حضرت صفیہکے دل پرگہرا اثر ہوا۔

حضرت صفیہؓ کے معاندانہ خاندانی پس منظر سے ہی یہود خیبر کی مفتوح قوم کے دل میں انتقام کی جوآگ بھڑک رہی تھی اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔جس کا ایک اظہار حضرت صفیہؓ کی ہم نام یہودی عورت زینب کی طرف سے ہوا۔جوسردارخیبرمرحب کی بہن اورسلّام بن مشکم کی بیوی تھی۔اس نے رسول اللہﷺ کو فتح خیبر کے بعد کھانے کی دعوت پر بلایا اوربکری کے گوشت میں زہرملا کر آپؐ کو کھلانا چاہا۔ایک صحابی حضرت بِشر ؓنے ایک زہریلا لقمہ نگل لیا جس کے نتیجہ میں وہ کچھ عرصہ بعد وفات پاگئے۔ خود رسول کریمؐ کے حلق میں وفات تک اس زہر کا اثر رہا۔رسول کریمﷺنے اس یہودیہ کو بلواکر اس بدعہدی کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی‘‘میں نے سوچا اگر آپؐ واقعی نبی ہیں تو زہر کے اثر سے بچ جائیں گے اور اگر نبی نہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی‘‘ رسول کریمﷺ نے اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کی مرتکب اس عورت کو بھی معاف فرمادیا۔قریبا ً ایک سال بعد حضرت بِشر ؓبن البراء کی وفات پروہ قصاص میں ماری گئی۔

یہود کی عداوت اورصحابہ کے خدشات

حضرت صفیہ ؓ کے والد،بھائی، شوہر اور دیگر افراد خاندان کی جنگ میں ہلاکت کے بعد جب وہ حضور ؐ کے حرم میں آئیں تو طبعی طور پر بعض فدائی صحابہ کے دلوں میں آپؐ کی حفاظت کے حوالہ سے کئی وسوسے اٹھ رہے تھے۔خصوصا ًاس لئے بھی کہ حضرت صفیہ ؓ کی ہم نام ایک یہودی عورت زینب کے رسول اللہﷺ کو زہر دینے کی کوشش کا واقعہ ابھی تازہ تھا۔حضرت ابوایوب  انصاری بیان کرتے ہیں کہ غزوہٴ خیبر سے واپسی پر جب رسول اللہﷺ نے یہودی سردارحُیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ سے شادی کی تو میرے ذہن میں جذبہٴ عشقِ رسول اور آپ ؐ کی حفاظت کے خیال سے کچھ اندیشے اور وسوسے پیدا ہوئے۔ میں نے ساری رات حضورﷺکے خیمہٴ عروسی کے گرد پہرہ دیا۔ صبح رسول اللہﷺ نے دیکھ کر پوچھا تو دل کا حال عرض کیا کہ آپؐ کی حفاظت کے لئے از خودساری رات پہرہ پرکھڑا رہاہوں۔رسول اللہ ﷺنے اسی وقت دعا کی کہ‘‘اے اللہ! ابو ایوب  کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت پر مستعد رہے ہیں‘‘ یہ دعا قبول ہوئی۔حضرت ابو ایوب  نے بہت لمبی عمر پائی اور قسطنطنیہ میں ان کا مزار آج بھی محفوظ اور زیارت گاہ خاص و عام ہے۔:

حضرت صفیہ ؓ مدینۃ الرسولؐ میں

حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ عسفان سے واپسی پر ہم رسول اللہﷺ کے ہم رکاب تھے آپؐ اونٹنی پر سوار تھے۔ حضرت صفیہؓ بنت حُیی کو اپنے پیچھے بٹھا یاہوا تھا، آپؐ کی اونٹنی کا پیر پھسلا اورآنحضورﷺ اور حضرت صفیہ ؓ اونٹ سے گر پڑے۔ابوطلحہؓ نے اپنی سواری سے کود کر عرض کیایا رسول اللہﷺ!میں آپؐ پر قربان، آپؐ خیریت سے تو ہیں۔ آپ ؐنے فرمایا ’’پہلے عورت کی خبر لو‘‘ چنانچہ ابوطلحہؓ نے اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیااورحضرت صفیہؓ کے پاس پہنچ کر ان کو بھی چادر اوڑھائی اور آپؐ کے لیے سواری کو ٹھیک ٹھاک کرکے تیار کیا۔ ;

خیبر سے مدینہ تشریف آوری پرآنحضورﷺنے حضرت صفیہ ؓ کااپنے ایک صحابی حضرت حارثہؓ بن نعمان کے گھر ٹھہرنے کا انتظام فرمایا۔انصار کی عورتوں نے جب رسول اللہﷺ کے ساتھ آپ ؐ کی خوبرو دلہن کی آمد کی خبر سنی توان کو دیکھنے دوڑی چلی آئیں۔ حضرت عائشہ ؓ بھی ازراہِ جستجونقاب اوڑھ کر ان خواتین میں شامل ہوگئیں۔آنحضورﷺ نے انہیں پہچان لیا اور جب وہ باہر نکلیں تو رسول اللہ ﷺ پیچھے سے جا کر ان کے پاس پہنچ گئے اور گلے لگا لیا اور دریافت کیا کہ عائشہ ؓ!تم نے انہیں کیسا پایا؟حضرت عائشہ ؓ نے اپنے خاص انداز میں جواب دیا کہ‘‘یہودیوں میں سے ایک یہودیہ‘‘ آنحضور ؐ نے فرمایا ’’عائشہ!ایسا نہ کہووہ اب اسلام قبول کرکے بہت اچھی مسلمان ہے۔‘‘

ہرچندکہ حضرت عائشہؓ کی دلداری رسول اللہﷺ کوملحوظ خاطر ہوتی تھی۔مگران کے اظہار ِ غیرت کے بعض ایسے مواقع پرتربیت کی خاطر حضورؐ انہیں بھی تنبیہ فرمانا ضروری سمجھتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نےحضرت صفیہ ؓ کو اپنی چھوٹی انگلی دکھا کران کےپست قد کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے چھوٹے قد کا طعنہ دے دیا۔آنحضرتﷺ کو پتہ چلاتو آپؐ نے بہت سر زنش کی اورفرمایا‘‘یہ ایسا سخت کلمہ تم نے کہا ہےکہ تلخ سمندر کے پانی میں بھی اس کو ملادیا جائے تو وہ اور کڑوا اور کسیلاہو جائے۔‘‘

حضرت صفیہبیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ کی یہ شفقتیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔ایک دفعہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے مجھےیہ طعنہ دےدیا کہ‘‘تمہارا تعلق تو یہودی قبیلے سے ہے اور تم یہودیوں کی اولاد ہو‘‘ حضور ﷺ گھر تشریف لائے تو مجھے روتے دیکھ کر فرمایا کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ ! آپؐ کی جن ازواج کا آپؐ کے خاندان یا قریش سے تعلق ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم قریش کے خاندان سے ہیں اور تم یہودیوں کی بیٹی ہو۔حضور ؐنے فرمایا ’’اے حُیی کی بیٹی !اس میں رونے کی کونسی بات ہے۔ تمہیں ان کو یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ تم مجھ سے بہتر کس طرح ہوسکتی ہو؟ حضرت ہارون ؑ میرےباپ، حضرت موسیٰ ؑ میرے چچا اور محمد ﷺ میرے شوہر ہیں‘‘ یعنی میرا تو تین نبیوں سے تعلق بنتاہے۔اور تم ایک نبی کا تعلق مجھ پر جتلا رہی ہو۔

حضرت عائشہمیں یہ وصف بھی تھا کہ حق بات کہنے سے رکتی نہ تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے کھانا پکانے میں حضرت صفیہ سے بہتر کوئی نہیں دیکھا۔ ایک دفعہ انہوں نے میری باری میں خود کھانا بناکر بھیج دیا۔ مجھے غیرت آگئی اور میں نےان کا برتن توڑدیا۔ بعد میں خود ندامت کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ میری اس غلطی کا کفارہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا برتن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔

حضرت صفیہ ؓ اوررسول اللہﷺ کی شفقت بے پایاں

حضرت صفیہ ؓکے اندر رسول اللہﷺ کی صحبت سے جو انقلاب پیدا ہوا اس کا ذکر وہ خود یوں بیان کرتی تھیں کہ‘‘ شروع میں آنحضرت ﷺ سے بڑ ھ کر میرے لئے کوئی قابل نفرین وجود نہیں تھا مگر امر واقعہ یہ کہ حضور ﷺ نے پہلی ملاقات میں ہی اتنی محبت اور شفقت کا سلوک میرے ساتھ روارکھا اور اس قدر اصرار کے ساتھ مجھ سے اظہارِ عذر فرماتے رہے کہ اے صفیہ ! تیرا باپ وہ تھا جو تمام عرب کو میرے خلاف کھینچ کرلایا اور اس نے یہ یہ کیا اور بالآخرہمیں اپنے دفاع کیلئے مجبور کر دیاکہ ہم خیبر میں آکر اس کی ان سازشوں کے مقابل پرجوابی کاروائی کریں۔ حضرت صفیہ فرماتی تھیں کہ آنحضور ﷺ نے اس کثرت سے اور اتنی محبت اور شفقت کے ساتھ اس بات کا اعادہ کیا کہ میرا دل حضور ﷺ کے لئے بالکل صاف ہوگیا۔ آپؐ کے ساتھ پہلی مجلس سے ہی جب میں اٹھی ہوں تو آنحضرتﷺ سے زیادہ کوئی مجھے محبوب نہ تھا۔آپؐ ہی مجھے سب سے پیارے اور سب سے زیادہ عزیز تھے‘‘

رسول کریمﷺکی بعض اور دلداریوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صفیہ بیان کرتی ہیں کہ حجة الوداع کے موقع پر حضورﷺ واپسی سفر میں نسبتاً جلد مدینہ پہنچنا چاہتے تھے۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ ہمیں یہ ڈر تھا کہ حضرت صفیہ کے ایام مخصوصہ کی وجہ سے شاید ہمیں کچھ دن رکنا پڑے گا تاکہ وہ بھی آخری طواف سے فارغ ہوجائیں تو پھر واپسی ہو۔ چنانچہ حضورؐنے اسی فکر کے باعث پوچھا کہ کیا صفیہ کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟ یہ بھی حضور ﷺ کی ایک دلداری تھی کہ اگر حج کے بعد اپنی فطری مجبوری کے باعث حضرت صفیہؓ کا آخری طواف باقی ہے تو ہم سب کو ان کا انتظار کرنا ہوگا۔لیکن جب آپؐ کو بتایا گیا کہ وہ طواف ِ افاضہ کرچکی ہیں تو آپ ؐنے فرمایا ’’اچھا!پھر تو ہم روانہ ہوسکتے ہیں ’’

اسی سفر کا ذکر ہے، حضرت صفیہ بیان کرتی ہیں کہ حج کے بعد ہم واپس مدینہ لوٹے۔میرا اونٹ بہت تیزرو تھا۔ آنحضرت ﷺنے شتر بان سے فرمایا کہ خواتین قافلہ میں شامل ہیں اس لئے اونٹوں کو ذرا آہستہ ہانکو۔ پھر اچانک حضرت صفیہ  کاوہ بہت تیز رفتار اونٹ اَڑ کر رُک گیا۔ وہ اس وجہ سے پریشان ہو کر رونےبیٹھ گئیں۔ آنحضرت ﷺان کو دلاسے دےکرتسلی کروارہے ہیں مگر ان کوچین نہیں۔حضور ؐ جتنا ان کو بہلاتے وہ روتی چلی جاتیں کہ یارسول اللہؐ! میری سواری تو سب سے آگے بڑھنے والی تھی یہ اب رُک کے بیٹھ رہی ہے۔ جب بار بار منع کرنے کے باوجود ان کی طبیعت نہ سنبھلی توآنحضورﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اور قافلہ کو پڑاؤ کا حکم دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب اگلے پڑاوٴ پر مجھے یہ صدمہ تھا کہ ایسی بے صبری کااظہارمجھ سے کیوں ہوا اور کیوں میں نے تحمل سے کام نہ لیا۔ میرے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ اگر آنحضرتﷺ مجھ سے ناراض ہوگئے تو کہیں ایسا نہ ہوکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو۔ چنانچہ میں نے حضورؐ کو راضی کرنے کی یہ ترکیب سوچی کہ حضرت عائشہ  سےکہا کہ میں آج اپنی باری کا دن آپ کو ایک شرط پر دےسکتی ہوں اور وہ یہ کہ آپ آنحضرت ﷺکو مجھ سے راضی کردیں۔دراصل حضرت صفیہ کو یہ اندیشہ لاحق تھا کہ میں نے جو اپنا رونا دھونا بند کرنے کے ارشاد کی فوری تعمیل نہیں کی تو آپ مجھ سے خفا نہ ہوگئےہوں۔حضرت عائشہ نے ان کی یہ شرط قبول کرکے اپنی خوبصورت اوڑھنی زیب تن کی، خوشبو وغیرہ لگائی اور اپنے عمدہ لباس کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے خیمہ میں پہنچ گئیں۔ جونہی پردہ اٹھایا آنحضرت ؐنے فرمایا، عائشہ آج تمہاری تو نہیں صفیہ کی باری ہے۔ حضرت عائشہ نےجواب میں کمال حاضر دماغی سے اس قرآنی آیت سے جواب دیا ذَالِک فَضلُ اللهِ یُؤتِیهِ مَن یَّشَاءُ۔ کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتاہے۔ پھر انہوں نے سارا قصہ حضورﷺ کو کہہ سنایا کہ کس طرح مجھے صفیہ نے اپنا آج کا دن اس شرط پر دے دیاہے کہ میں ان کی طرف سے آپ کو راضی کر لوں۔ حضرت عائشہؓ نے حضورﷺ کو ساری بات بتائی تو آپؐ صفیہؓ سے راضی ہو گئےیافرمایا کہ ’’میں راضی ہوں‘‘۔حضرت صفیہ ؓ نےاپنی باری محض رسول اللہﷺ کی رضا کی خاطر قربان کی۔  اسی سفر میں حضرت صفیہ  کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی ایک اور شفقت اس رنگ میں ظاہر ہوئی کہ جب حضرت صفیہ ؓ کا اونٹ چلتے چلتے اَڑ گیاتو حضورﷺکو بقیہ سفر کیلئےان کی سواری کی فکر ہوئی۔ اُم ّالمومنین حضرت زینب  بنت جحش کے پاس دو اونٹ تھے۔ حضورؐنے انہیں تحریک فرمائی کہ صفیہ کا اونٹ چل نہیں رہا آپ اپنی دوسری سواری ان کو دے دیں۔ اگرچہ حضرت زینب کو اپنی سوت کے لئےخوش دلی سے یہ قربانی کرنے کی سعادت نہ مل سکی اور نتیجۃ ً وہ حضورؐ کی ناراضگی کا بھی مورد ہوئیں۔مگر دوران ِ سفر مجبوری کی صورت میں حضرت صفیہ کی خاطر حضورﷺنے اس بات سے بھی دریغ نہیں کیا کہ کسی دوسری بیوی سے ان کیلئے تعاون طلب کریں۔

اسی طرح ایک ماہ رمضان کا واقعہ ہے۔ حضور ﷺ اعتکاف میں تھے۔ ازواج مطہرات حضورؐ کی زیارت کے لئے مسجد نبوی ؐ آئیں اور ملاقات کرکےاپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔حضرت صفیہ بنت حُیی کا گھرحجرات نبوی ؐسے الگ مسجد سے کچھ فاصلے پر تھا وہ حضورؐ کے پاس رُک گئیں۔ حضورؐ نے رات کے وقت انہیں تنہا واپس بھجوانا مناسب نہ سمجھا اور خود ان کے ساتھ ہو لئے۔ جب مسجد کے اس دروازے کے پاس پہنچے جو حضرت اُمّ سلمہ  کے حجرے کے دروازے کے قریب ہے تو آپؐ نے دو انصار کو وہاں سے گزرتے دیکھا۔ انہوں نے حضورﷺ کو سلام کیااو ردیکھا کہ حضور ؐکے ساتھ ایک باپردہ خاتون جارہی ہیں۔ان کے احترام میں وہ تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگے۔آنحضرت ﷺنے ان دونوں کو دیکھ کر فرمایا ذرا ٹھہرجاوٴ میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حُیی ہیں۔ وہ دونوں انصاری رک گئے اور بہت ہی پریشان اور نادم ہوکر عرض کیا۔ یارسول اللہﷺ! اللہ پاک ہے آپؐ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ہمارے دل میں اس کے علاوہ کوئی اور خیال بھی آسکتا ہے؟آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’’شیطان انسان کے اندر خون کی سی تیزی سے گردش کرتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر۔ مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہ تمہارے دل میں کہیں کوئی غلط خیال نہ آجائے۔‘‘ اس لئے یہ وضاحت مناسب سمجھی گئی۔بہر حال اس واقعہ سے حضرت صفیہ ؓ کے لئے رسول اللہﷺ کی شفقت ظاہر وباہر ہے کہ حالت اعتکاف کے باوجود بامر مجبوری رات کے وقت انہیں گھر چھوڑ نے کےلئے آپ ؐ خود ان کے ہمراہ تشریف لے گئے۔

(بحوالہ اہل بیت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

باقی انشاء اللہ آئندہ شمارہ میں…