//اُم المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ
tareekh_muhammad

اُم المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ

. فضائل

زمانہ جاہلیت سے ہی حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ کا نام امّ المساکین مشہور تھا۔ وہ غرباء کی ضروریات کا بہت خیال رکھتی اور ان کو کھانا وغیرہ کھلاتی تھیں۔آپ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد وفات پانے والی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں۔الہٰی تقدیر کے مطابق انہیں چند ماہ رسول اللہﷺ کی صحبت نصیب ہوئی۔وہ آنحضرتﷺ کی مزاج شناس اور کامل فرمانبردار تھیں۔رسول اللہﷺ کی زندگی میں ان کی وفات ہوئی اور آپؐ نے خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

نام و نسب

حضرت زینب بنت خزیمہ بن حارث ہلالیہ کا تعلق قبیلہ بنی ہلال بن عامر سے تھا۔

حضرت زینبؓ بنت خزیمہ کی پہلی شادی طفیل بن حارث کے ساتھ ہوئی۔جن سے طلاق کے بعد انہی کےپھوپھی زاد جہم بن عمرو بن حارث سے دوسری شادی ہوئی۔پھر پہلے شوہر کے بھائی حضرت عبیدہؓ بن حارث کے ساتھ شادی ہوئی جو جنگ بدر میں شہید ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہؓ بن جحش کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا جو احد میں شہید ہوگئے۔حضرت عبداللہؓ بن جحش رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی حضرت اُمیمہؓ کے بیٹے اور آپ کے پھوپھی زاد تھے۔یوں حضرت زینبؓ بنت خزیمہ امّ المؤمنین حضرت زینب بنت جحش کی بھاوج بھی ہوتی تھیں۔اسی طرح امّ المومنین حضرت میمونہ والدہ کی طرف سے حضرت زینب ؓ کی بہن تھیں جو آپ  کی وفات کے بعد7ھ میں آنحضرت ﷺکے عقد میں آئیں۔

رسول اللہﷺسے شادی

آنحضرت ﷺکواپنے نسبتی بھائی اور شہید اُحد حضرت عبداللہؓ بن جحش کی اس بیوہ کی خاطر ملحوظ تھی۔ آپؐ نے شادی کا پیغام بھجوایا جو انہوں نے قبول کر لیا اور بارہ اوقیہ حق مہر پر حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ کا نکاح ماہ رمضان3ھ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ ہوا۔حضرت زینب ؓ، رسول اللہ ؐ کی مزاج شناس اور آپؐ کی کامل فرمانبردارتھیں چنانچہ قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت سے روایت ہےکہ میں ایک روز آنحضورؐ کی زوجہ حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ کے پاس بیٹھی تھی اور ہم انکے کپڑے رنگنے کیلئے سرخ مٹّی تیار کر رہے تھے اس دوران آنحضورؐ ان کے حجرہ میں تشریف لے آئے۔ آپؐ کپڑے رنگ کرنے کے اہتمام کیلئے رنگنےوالی سرخ مٹی دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہارکرتے ہوئے دروازے سے ہی واپس تشریف لےگئے۔ حضرت زینبؓ نے یہ دیکھا توسمجھ گئیں کہ رسول اللہ ؐنے اسے پسندنہیں فرمایا۔ چنانچہ حضرت زینب ؓ نے پانی لےکر ان کپڑوں کو دھو لیا جس سے تمام سرخ رنگ صاف ہوگیا۔ کچھ دیر بعد آنحضورؐ دوبارہ تشریف لائے،اورکمرے کا جائزہ لیا تو رنگنے والی سرخ مٹی وغیرہ موجود نہیں تھی چنانچہ آپؐ اندر تشریف لےآئے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفة المسیح الاول ؓ فرماتے ہیں۔

’’ایک دفعہ حضرت زینبؓ اپنے کپڑے گیری میں رنگنے لگیں آنحضرتﷺ باہر سے تشریف لائے اور کپڑے رنگتے ہوئےدیکھ کر واپس تشریف لے گئے۔حضرت زینب ؓ تاڑ گئیں کہ آپؐ کس بات کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے ہیں۔ہادیوں کے گھر میں ہر وقت الہٰی رنگن چڑھی رہتی ہے۔جس کا ذکرصِبغَۃَ اللہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً(البقرۃ:139)میں ہے۔یہ رنگینیاں اسکے مقابل میں کیا چیز ہے۔پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بناوٹ،زیور اور لباس سے خوش نہیں ہوتا بلکہ نیک بیبیوں کی بناوٹ اور زیور انکے نیک عمل ہیں‘‘

 حضرت امّ سلمہ  فرمایا کرتی تھیں کہ جب رسول اللہؐ سے میری شادی ہوئی تو آپؐ نے مجھےحضرت زینب بنت خزیمہ کے اس گھر میں اتاراجہاں وہ رہا کرتی تھیں۔ یوں حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ کی وفات کے بعدان کا گھرحضرت امّ سلمہ کو مل گیا۔

اخلاق فاضلہ

حضرت زینب بنت خزیمہ نہایت نیک،پارسا اور غریبوں کی خبر گیری کرنے والی خاتون تھیں۔جاہلیت کے زمانہ سے ہی آپ کا نام امّ المساکین مشہور ہو گیا تھا کیونکہ وہ غرباء کی ضروریات کا بہت خیال رکھتی اور ان کو کھانا وغیرہ کھلاتی تھیں۔ غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ بھی حضرت زینب ؓبہت حسن سلوک سے پیش آتیں۔ایک دفعہ انہوں نےاپنی ایک لونڈی آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو آنحضرت ﷺ نے انہیں یہ نصیحت فرمائی کہ تمھارے بعض ننھیالی رشتے دار جوآپ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، یہ لونڈی اگر آپ ؓانہیں دے دیں تو زیادہ مناسب ہےچنانچہ وہ لونڈی حضرت زینب  نے انہیں دے دی۔

وفات

تقدیر خداوندی سے حضرت زینب بنت خزیمہ کو صرف چند ماہ تک ہی حضور ﷺ کی رفاقت نصیب ہوسکی۔ شادی کا یہ عرصہ تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ آٹھ ماہ تک بیان کیا جاتا ہے۔آپؓ کی وفات 30برس کی عمر میں ہوئی اور جنّت البقیع میں تدفین ہوئی۔ ازواج مطہرات میں سے آپ پہلی زوجہ مبارکہ تھیں جنہوں نے ہجرت کے بعد مدینہ میں وفات پائی۔آپ ؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت امّ سلمہ ؓ سے شادی کی۔حضرت زینببنت خزیمہ نہ صرف حضرت زینبؓ بنت جحش کی ہم نام تھیں۔بلکہ صدقہ و خیرات میں ان کی ہم صفت بھی۔اس وجہ سے بعض روایات میں یہ تشابہ ہو گیاہے کہ بوقت وفات حضور ﷺ نے لمبے ہاتھوں والی جس بیوی کے جَلد اپنے ساتھ آملنے کا ذکر فرمایا تھا وہ شاید حضرت زینبؓ بنت خزیمہ ہیں لیکن فی الواقعہ یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت زینب بنت خزیمہ کی وفات حضور ؐ کی زندگی میں ہی ہوگئی تھی اور لمبے ہاتھوں والی بیوی کے متعلق آ نحضور ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے مجھے آملے گی۔ یہ بات حضرت زینب بنت جحش کے حق میں پوری ہوئی جو حضور ؐ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد آپ ؐ سے جاملیں۔حضرت زینبؓ بنت خزیمہ کی نماز جنازہ آنحضورﷺ نے خود پڑھائی اور آپؓ کے لئے رحمت و مغفرت کی دعاکی۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بیت رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)