//اُم المؤمنین حضرت ام حبیبہ ؓ

اُم المؤمنین حضرت ام حبیبہ ؓ

آخری قسط

اللہ اور بندوں کی ادائیگی حقوق کا حسین امتزاج

حضرت امّ حبیبہؓ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی ایمان کی مضبوطی اور اسلام اور آنحضرتﷺ کی سچی محبت سے نوازا تھا۔وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی خوب رعایت رکھتی تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ حضورؐ نے ایک دفعہ مجھ سے فرمایا کہ جو شخص دن اور رات میں بارہ رکعات نفل ادا کرتا ہے اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جاتا ہے۔آپؓ فرماتی تھیں کہ جب سے آنحضرتﷺ سے میں نے یہ حدیث سنی اس کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کبھی بھی یہ نوافل نہیں چھوڑےاور روزانہ یہ بارہ نوافل ادا کرتی ہوں۔

حضرت ام حبیبہؓ کو عبادات اور دعاؤں سے خاص شغف تھا۔اپنے والد کے قبول اسلام کے بعد جہاں ان کے حقوق کے دیگر تقاضے پورے کئے وہاں ان کے حق میں دعائیں بھی کیا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ آنحضرتﷺ نے ام حبیبہؓ کو یہ دعا کرتے سنا کہ اے اللہ! میرے شوہر حضرت محمد مصطفٰیﷺ کی عمر سے مجھے بہت برکت عطا کر یعنی ان کے ساتھ رفاقت کا لمبا زمانہ مجھے نصیب کر نا۔ میرے باپ ابوسفیان کی عمر میں بھی برکت دینا اور ان سے بھی میں لمبے زمانہ تک فائدہ اٹھاؤں۔اورمیرے بھائی معاویہ کی عمر میں بھی برکت دینا۔حضورﷺنے اپنی زوجہ مطہرہ کو یہ دعائیں کرتے ہوئے سناتو کیا ہی عمدہ نصیحت فرمائی کہ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ میعاداور تقدیریں اٹل ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہردعا اس تقدیر کو ٹال دے۔اللہ تعالیٰ پہلی چیز کو پیچھے نہیں کرتا اور پیچھے والی کو پہلے نہیں کرتا۔بالآخر آج یا کل سب نےخدا کے حضور پیش ہونا ہی ہے اسلئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ آگ اور قبر کے عذاب سے بچائےپس اپنے لئے اور سب کے لئے یہ دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ انجام بخیر کردےتو یہ زیادہ بہتر اور بابرکت ہوگا۔

حقوق العباد

حضرت امّ حبیبہؓ کا صلہ رحمی کا یہ تعلق اپنے والد اور بھائی سے آخر دم تک رہا۔آنحضورﷺ ایک روز اپنی ایک بیوی امّ حبیبہؓ کے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ اپنے بھائی معاویہؓ کو پیار کررہی تھیں۔آپؐ نے محبت کی نگاہوں سے اسے دیکھا اور بہن بھائی کی محبت کو طبعی تقاضوں کا ایک خوبصورت جلوہ تصور فرماتے ہوئے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا امّ حبیبہؓ کیا معاویہ تمہیں پیارا ہے۔ حضرت امّ حبیبہؓ نے جواب دیا جی حضور بھلا میں اپنے بھائی سے پیار نہ کروں گی!اس پر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ تمہیں پیارا ہے تو مجھے بھی پیارا ہے۔

بیوی کا دل اس جواب کو سن کر کس قدر خوش ہوا ہوگا کہ آپؐ میرے رشتہ داروں کو غیریت کی نگاہ سے نہیں بلکہ میری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ سے اس قدر محبت رکھتے ہیں کہ جو مجھے ہو اسی قدر ان کو بھی پیارا ہوتا ہے۔

روایات کے مطابق آنحضرتﷺ نےامّ حبیبہؓ کے والد ابو سفیان بن حرب کو جریش یا جرش کا گورنر مقرر کیا۔حضورﷺ کے وصال کے وقت وہ حاکم نجران تھے۔

حضرت امّ حبیبہؓ کےدیگر ازواج کے ساتھ تعلق اور سلوک سےمتعلق حضرت عائشہؓ کی ایک روایت بہت لطیف ہے اور وہ یہ کہ بوقت ِ وفات حضرت ام حبیبہؓ نے انہیں بطور خاص اپنے پاس بلوایا اور کہا کہ دیکھو ہمارا تعلق باہم سوکنوں کا تھا۔ اس تعلق میں بعض دفعہ کوئی خلش دل میں رہ جاتی ہے یا بعض دفعہ زیادتی بھی ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ وہ معاف کردے۔ میری ایسی جتنی بھی کوتاہیاں تھی میں ان کی معافی مانگتی ہوں۔ اور آپ کی طرف سے اگر ایسی کوئی زیادتی ہوئی ہو تو وہ میں آپ کو معاف کرتی ہوں۔حضرت عائشہؓ نے یہ سنا تو بے اختیار کہہ اٹھیں آپ نے تو مجھے خوش کر دیا اللہ تعالیٰ بھی آپ کو خوش کرے۔یہ وہ اعلیٰ درجہ کی تربیت تھی جو آنحضرتﷺ نے اپنی ازواج کی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ان کے پیش نظر ہوتا تھا۔پھرحضرت امّ حبیبہؓ نےیہ معاملہ صرف حضرت عائشہؓ سے ہی نہیں کیا بلکہ پھر حضرت ام سلمہؓ کو بلوا بھیجا اور ان سے بھی یہی بات کی کہ آپس میں ہماری جو بھی غلط فہمیاں یا حق تلفی کی باتیں تھیں میں بھی معاف کرتی ہوں آپ بھی معاف کر دیں۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہمارے معاملات صاف ہوکر پیش ہوں۔اور یوں اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہونے سے قبل کہا سنا معاف کرکے ہلکی پھلکی ہوگئیں۔

محبت وطاعت ِرسولؐ

زمانہ جاہلیت میں بدرسوم کے خلاف جہاد میں حضرت ام حبیبہؓ نے بہترین نمونہ قائم کرکے دکھایا۔عربوں میں اس سے پہلے جو قبیح رسمیں پائی جاتی تھیں ان میں سے ایک موت پر بہت زیادہ بے صبری، جزع فزع اور واویلا کاطریق تھاجو وفات یافتہ اور اس کے خاندان کی بڑائی کا معیا رسمجھا جاتا تھا۔ ام حبیبہؓ کے والد ابو سفیان تو مکہ کے بڑے سرداروں میں سے تھے۔جب ان کی وفات ہوئی تو بجائے اس کے کہ رسم جاہلیت کے مطابق کسی بڑے سردار کی مرگ جیسا نمونہ ظاہر ہوتا،حضرت امّ حبیبہؓ نے تیسرے ہی دن خوشبو منگوائی اور اسے استعمال کرکے فرمانے لگیں کہ میری عمر گوایسی نہیں رہی کہ مجھے خوشبو لگانے یا اپنے چہرے کے لئے کچھ زیب وزینت کرنےکی ضرورت ہو۔لیکن میں نےاپنے آقا و مولا آنحضرتﷺ سے ایک بات سنی تھی اس کی پیروی میں ایسا کر رہی ہوں۔ آپؐ نے ایک موقع پر منبر پر خطبہ دیتے ہوئےارشاد فرمایا تھا۔”کسی مومن عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہے جائز نہیں کہ وہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے کہ جس کا وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی‘‘ اپنے حقیقی والد کی وفات کے تیسرے دن ہی حضرت ام حبیبہؓ کااپنا سوگ وغیرہ ختم کرکے تیار ہو کر خوشبو وغیرہ استعمال کرنا بتاتا ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ کو اللہ اور اس کا رسول دنیا کی ہر چیز حتٰی کہ ماں باپ سے بھی زیادہ پیارے تھے۔

حمیت جاہلیت کے اس دور میں آپؓ کا یہ عمل ایک طرف غیر مسلم خواتین کے لیے غیرت دینی کا ایک شاہکار تھا تو مسلمان خواتین کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھا۔آپؓ رسول اللہﷺ کے ارشادات پر بغیر کسی تاویل کے لفظاً عمل کرنے کی حد تک سختی کی قائل تھیں۔جو دراصل اطاعت کی روح ہے۔خوا ہ بعض دفعہ اس میں آپؓ کی رائے شامل نہ ہو۔مثلاً ایک دفعہ آپؓ کے بھانجے ابوسفیان بن سعید الاخنس نے ستو کھا کر (نماز سے پہلے)صرف کُلّی کرنے پر اکتفا کیا تو وہ فرمانے لگیں کہ آگ کی پکی چیز پر رسول اللہﷺ کے ارشاد کے مطابق تمہیں وضو کرنا چاہئے۔ حالانکہ یہ حکم منسوخ ہوچکا تھا۔ مگرآپ کا جذبہ ٔ اطاعت اس واقعہ سے ظاہر ہے۔

دیگر روایات ِ حدیث

حضرت امّ حبیبہؓ کی دیگر روایات میں ایک حدیث رسول اللہﷺ بروز ِ قیامت آپؐ کوحقِ شفاعت عطا کئے جانے کا ذکر ہے۔ دوسری روایت میں آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول کریمﷺ اذان کے کلمات سن کر انہیں دوہرایا کرتے تھے۔ اسی طرح عصر سے قبل آپؐ نے چار رکعات ادا کرنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے۔ ایک اہم روایت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابن ِآدم کی ہر بات یا کلمہ اسکے اپنے فائدے کے لیے ہوتا ہے سوائے نیکی کا حکم دینے،برائی سے روکنے اور ذکرِ الہٰی کے جو خدا کے لئے ہے۔

دینی غیرت اور محبت رسولﷺ

حدیبیہ کے معاہدہ کے بعد جب اہل مکہ عہد شکنی کے مرتکب ہوئے تو ابوسفیان اس معاہدہ کی توثیق کی خاطر مدینہ آیا اور اپنی بیٹی حضرت امّ حبیبہؓ کے گھر گیا۔جب وہ آنحضرتﷺ کے بستر پر بیٹھنے لگاتو حضرت ام حبیبہؓ نے فوراً آگے بڑھ کر اس بستر کو لپیٹ دیا۔ سردار مکّہ ابوسفیان لمبے عرصہ بعداپنی بیٹی کے گھر آیا تھا۔وہ سخت حیران ہوا کہ میری بیٹی بجائے میرےاکرام و عزت کے لئے بستر بچھانے کے الٹا اپنابستر لپیٹ رہی ہے۔اس نے بڑے تعجب سے سوال کیا کہ بیٹی کیا یہ بستر میرے قابل نہیں یا کوئی اور بات ہے؟ حضرت امّ حبیبہؓ نے عرض کیا ابّا! یہ بستر میرے شوہر نامدار ہی کا نہیں میرے آقا حضرت محمدمصطفٰیﷺ کا ہے اور آپ کے ناپاک مشرکانہ عقیدہ کی وجہ سے میں نے حضورؐ کا پاکیزہ بستر لپیٹ کر آپ سے جدا کر دیا ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ میری بیٹی !لگتا ہے جب سے تم مجھ سے جدا ہوئی ہو تمہارے حالات کچھ بگڑ گئے ہیں۔چنانچہ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت امّ حبیبہؓ کا یہ فعل ان کی ذاتی دینی غیرت کا آئینہ دار ہے۔باوجود یہ کہ اسلام ایسے مشرکوں کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے جنہوں نے ان سے ظلم و تعدی اور جنگ نہیں کی۔(الممتحنۃ:9)چنانچہ رسول اللہﷺ نے حضرت اسماءؓ کی مشرک والدہ کے مدینہ آنے پر ان سے نیک سلوک کی ہی نصیحت فرمائی تھی۔ بعد میں یہی ابوسفیان جب مسلمان ہوگئے توان کی باوفا صاحبزادی حضرت ام حبیبہؓ نے ان کے لئے دعائیں کرکے محبت و خدمت کا خوب حق ادا کیا۔

تاہم امّ حبیبہؓ کے اپنے والد کے ساتھ اس معاملہ سے رسول کریمﷺ کے اخلاق فاضلہ اور آپؐ کی سچائی کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ بیوی سے بڑھ کر شوہر کے اخلاق کو کون جانتا ہے۔رسول اللہﷺ کے اخلاق ایسے بے تکلف، پاک صاف اور سچے تھے کہ آپؐ کی صحبت اور قرب میں رہنے والے آپؐ کے گرویدہ اور والاوشیدا تھے۔ حضرت امّ حبیبہؓ کا ازخود دینی غیرت کے سبب رسول اللہﷺ کو اپنے باپ پر ترجیح دینا صاف بتاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی سچائی پر آپؓ جان ودل سے فدا تھیں۔ انہوں نے اپنے باپ کے خونی رشتہ پر بھی محبت وادبِ رسولؐ کو مقدم رکھا حالانکہ ان کا باپ بھی دنیوی لحاظ سے کفار کا بڑا سردار تھااور ایک شان وشوکت رکھتا تھا۔مگر ان کی نظر میں اپنے باپ کی دنیوی وجاہت یا کوئی بھی خونی رشتہ رسول اللہﷺ کے مقابل پر ہیچ تھا۔

خلافت سے تعلق

حضرت ام حبیبہؓ رسول اللہﷺ کی تربیت یافتہ تھیں۔ آپؓ نے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد آپؐ کے خلفاء سے محبت و ادب اور وفا کا تعلق قائم رکھا۔حضرت عثمانؓ کی خلافت کے زمانہ میں جب باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو سب سے پہلے حضرت ام حبیبہؓ آپؓ کی مدد کو آئیں۔ چنانچہ حضرت ام حبیبہؓ پانی مہیا کرنے کی غرض سے حضرت عثمانؓ کے گھر آئیں۔جب آپؓ ان کے دروازے تک پہنچیں تو باغیوں نے آپؓ کو روکنا چاہا۔بعض نے کہا بھی کہ یہ امّ المومنین اُمّ حبیبہؓ ہیں مگر اس پر بھی وہ شورش پسند باغی باز نہ آئےاور آپؓ کی خچر کو مارنا شروع کردیا۔امّ المومنین حضرت ام حبیبہؓ نےخلیفۂ وقت کے پاس جانے کیلئے یہ معقول وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس لئےبھی اندر جانا چاہتی ہوں کہ مجھے خدشہ ہے کہ بنو امیہ کے یتامیٰ اور بیوگان کی وصایا جو حضرت عثمانؓ کے پاس ہیں ضائع نہ ہوجائیں۔ تاکہ ان کی حفاظت کا سامان کردوں۔ مگر ان بدبختوں نے آنحضرتﷺ کی زوجہ مطہرہ کی یہ بات ماننے کی بجائے نہایت بے ادبی سے آپؓ کی خچر پر حملہ کرکے اس کے پالان کے رسّے کاٹ دئیے اور زین الٹ گئی۔ قریب تھا کہ حضرت امّ حبیبہؓ گر کر ان مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جاتیں اور شہید ہوجاتیں کہ بعض مخلصین اہل ِمدینہ نے جو قریب تھے جھپٹ کر انہیں سنبھالااور گھر پہنچادیا۔

وفات

حضرت ام حبیبہؓ کی وفات کے بارہ میں اختلاف ہے۔ اکثر روایات کے مطابق حضرت امیرمعاویہ کی امارت کے زمانے میں44ھ میں بعمرتہتّر73 برس انکی وفات ہوئی۔امام حاکم،ابن سعد،ابن اثیر وغیرہ کی رائےبھی یہی ہے۔امام حاکم نے مستدرک میں ایک اور روایت بھی درج کی ہےجس کے مطابق آپؓ اپنے بھائی امیر معاویہ کی وفات 60ھ سے ایک سال پہلے فوت ہوئیں۔:

ہمارے نزدیک پہلی رائے زیادہ ثقہ ہے۔

ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کی قبر حضرت علیؓ کے مکان میں تھی۔حضرت علیؓ بن حسین سے روایت ہے کہ میں نے اپنے مکان کا ایک گوشہ کھدوایا تو اس سے کتبہ نکلا جس پر لکھا تھا۔یہ رملہ بنت صخر کی قبر ہے۔;

ائمہ اہل بیت میں سے حضرت امام حسینؓ کے صاحبزادے امام علی بن حسین زین العابدینؒ کی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہی آپ کا مدفن تھا۔ا للہ تعالیٰ اپنی بہت ہی رحمتیں اور فضل فرمائے امّ المومنین حضرت امّ حبیبہؓ پر جنہوں نے آنحضرتﷺ اور دین اسلام کے ساتھ آخر دم تک محبت اور وفا کے سب تقاضے پورےکر دکھائے۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بیت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)