//اُمُّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا
Rehmat

اُمُّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا

فضائل

عرب قبيلہ بنو خزاعہ کے مشرک سردار کي بيٹي جويريہ ؓ بنت حارث بن ابي ضرار سےرسول اللہؐ کي شادي بھي خاص الہٰي تقدير تھي۔ انہوں نے بھي آنحضرتؐ سے شادي سے پہلے خواب ميں ديکھا کہ ايک چاند يثرب سے چلا اور ان کي گود ميں آگرا۔

جب جويريہ ؓ قيد ہوکر رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے پاس آئيں توان کے والد فديہ کےساتھ انہيں آزاد کروانے آئے۔ حضورﷺنے ان سے فرمايا کہ” ميں اسے اختيار ديتا ہوں اگر وہ آزاد ہوکر آپ کے ساتھ جانا چاہے توميري طرف سے آزاد ہے”۔مگر حضرت جويريہنے اپنے والد کوجواب ديا:۔ اب تو ميں اللہ کے رسول کو اختيار کرچکي ہوں۔ اس لئے اب آپ کے ساتھ واپس نہيں جاسکتي۔‘‘

نام ونسب

حضرت جويريہ  کااصل نام بِرّہ تھا جس کے معني نيکي کے ہوتے ہيں۔آنحضرتﷺ نے يہ نام پسند نہيں فرمايا اور اسے بدل کر جويريہ رکھ ديا۔ تبديلي نام کي اس حکمت کا ذکر حضرت زينبؓ بنت جحش کے حالات ميں بھي ہو چکا ہےکہ دراصل يہ قرآني ارشاد کي تعميل تھي کہ اپنے نيک اور پاک ہونے کا دعويٰ نہ کرو۔(النجم:31)برّہ يعني سراپا نيکي کا نام بدلنے کي دوسري وجہ يہ بھي ہو سکتي ہے کہ اس سے بڑائي کے اظہار کا کوئي خدشہ يا شائبہ باقي نہ رہے۔اس دوسري حکمت کي وضاحت آنحضورﷺنے اس موقع پر يوں بھي فرمائي کہ ميں يہ پسند نہيں کرتا کہ کوئي يہ کہے کہ بِرّہ يعني نيکي گھر ميں نہيں ہےياميں برّہ کے ہاں سے آگيا ہوں يعني نيکي کو چھوڑ چلا کرآيا ہوں۔

ايک دفعہ حضرت مسيح موعودؑ کے سامنے اس بات کا ذکر ہوا تو آپؑ نے اصولي طور پر ايسي احاديث کو درست قرار نہيں ديا جن سے اسلام پر اعتراض آئے۔کيونکہ خداتعاليٰ کے ناموں پر بھي يہ بات لگ سکتي ہے۔مثلاً عبدالرحمان اندر نہيں کہنے کا يہ مطلب نہيں ہوسکتا کہ عبدالشيطان اندر ہے۔ تاہم احاديث کي تعظيم کے بارہ ميں حضرت مسيح موعودؑ کااصولي ارشاديہ ہے کہ ضعيف سے ضعيف حديث پر بھي جب تک معارض ِقرآن نہ ہو عمل کرو۔بصورت ديگر ايسي حديث کي تاويل کرني پڑے گي۔ انہي ارشادات کي روشني ميں حضرت صاحبزادہ مرزا بشير احمد صاحب برّہ نام کي تبديلي کي اس روايت کي تاويل اور وضاحت کرتے ہوئے تحرير فرماتے ہيں۔”برّہ کا نام بدلنے ميں يہ حکمت تھي کہ چونکہ برّہ کے معني نيکي کے ہيں آنحضرتﷺيہ پسند نہيں فرماتے تھے کہ کبھي جب برّہ گھر ميں نہ ہوں اور کوئي شخص ان کے متعلق يہ دريافت کرے کہ آيا برّہ گھر ميں ہيں يا نہيں تو اسے يہ جواب ملے کہ برّہ گھر ميں نہيں ہے جس کے بظاہريہ معني ہيں کہ گويا نيکي اور برکت گھر سے اٹھ گئي ہے۔‘‘

شايد کسي کو يہ معمولي لفظي تبديلي کي بات معلوم ہو ليکن في الحقيقت اس سے آنحضرتﷺ کي اس دور انديشي، معاملات کي گہرائي اور تہہ تک جانے کي عادت معلوم ہوتي ہے کہ آپؐ کس طرح ہر ظنّ کے موقع سے بھي بچتے تھےاورنيکي کے ساتھ آپؐ کوکتني گہري محبت تھي کہ يہ بھي پسند نہيں کرتے تھے کہ نيکي سے جدائي کا مضمون لفظي طور پر بھي گفتگو ميں کہيں پيدا ہو۔

برّہ ايک مشرک سردار حارث بن ابي ضرار کي بيٹي تھيں۔جن کا تعلق بنو خزاعہ قبيلے کي مصطلق شاخ سے تھا۔ آنحضورﷺ کے حرم ميں آنے سے پہلے برّہ ايک مشرک مسافح بن صفوان کے عقد ميں تھيں جو غزوہ بني مصطلق ميں مارا گيا۔ ديگر اسيروں کے ساتھ وہ بھي قيدہو کر حضورﷺ کي خدمت ميں پيش ہوئيں۔

آنحضورﷺ نے ان کے ساتھ عقد کے وقت (جبکہ ان کي عمر 20سال تھي)جويريہ نام تجويز فرمايا تھا۔

غزوہ بنو مصطلق

يہاں غزوہ بنو مصطلق (جسے غزوہ مريسيع بھي کہتے ہيں)کے بارہ ميں مختصراً يہ ذکر مناسب ہوگا کہ قبيلہ بنو مصطلق مکّہ اور مدينہ کے درميان ساحل سمندر کے پاس مريسيع مقام پر آباد تھا۔

قريش مکّہ کے اکسانے پر اس قبيلے کے سردار حارث بن ابي ضرار نے اپنے آٹھ ديگر ساتھي قبائل کے پاس جا کر ان کو مدينے پر حملے کے لئے تيار کيا تھا۔آنحضورﷺ کو جب اس کي اطلاع ہوئي تو آپؐ نےاپنے ايک صحابي حضرت بُريدہ اسلميؓ کو احوال معلوم کرنے کي غرض سے بھيجا۔ انہوں نے واپس آکر بتايا کہ بنو مصطلق کے لوگ مدينہ پر حملہ کے لئے بالکل تيار ہيں۔آنحضرتﷺ نے بجائے مدينہ ميں رہ کر دفاع کرنے کے يہ حکمت عملي اختيار کي کہ مسلمانوں کو فوري جہاد کي تياري کا حکم ديا اور بنو مصطلق کے علاقے مريسيع کي طرف کوچ فرمايا اور منزليں مارتے ہوئے اچانک ان کے علاقہ ميں جا پہنچے جہاں اس قبيلہ کا سردار ديگر حامي قبائل کو اکٹھا کررہاتھا۔ رسول کريمﷺنےيہ سب اتنا آناً فاناً اور خاموشي سے کيا کہ دشمن کو اس کي بھنک بھي نہ پڑي اور آپؐ دشمن کے سر پر جا پہنچے، جب وہ امن سے اپني بکريوں کو پاني پلا رہے تھے۔وہ اچانک مسلمانوں کے لشکر کو ديکھ کرسخت پريشان ہوگئے۔ اردگرد کے قبائل جو ان کي مدد کے لئے آئے ہوئے تھے وہ تو گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوئے، البتہ قبيلہ بنو مصطلق کے لوگوں نے کچھ مقابلہ کرنے کي کوشش کي۔

مگر مسلمانوں نے ان کو گھيرے ميں لےليا، پہلے فريقين کے درميان تيرانداز ي ہوئي پھر مسلمانوں نے ہلّہ بول کر يکدم ان پر حملہ کيا۔ اس تمام مقابلے ميں صر ف ايک مسلمان شہيد اور دس کافر ہلاک ہوئےاور دشمن کو شکست فاش ہوئي۔

دشمن کي عورتيں اور بچے وغيرہ قيدي بنالئے گئے۔حضرت جويريہؓ بھي ان ميں شامل تھيں۔ حضورﷺنے قيدي تقسيم کئے۔ جويريہ ايک انصاري صحابي حضرت ثابت بن قيس  کے حصے ميں آئيں۔ جنہوں نے ان سے مکاتبت کرکے آزاد کرنے کا تحريري معاہدہ کرليا۔ ان کي آزادي کے عوض سردار کي بيٹي ہونے کے ناطے نَو اوقيہ کي ايک بھاري رقم ان کے ذمہ لگائي۔ جس کي ماليت کا اندازہ اس سے لگايا جاسکتا ہےکہ اس زمانہ ميں زکوٰة کا نصاب( يعني وہ رقم جس کي موجودگي ميں کسي مسلمان پر زکوٰة واجب ہوتي تھي) پانچ اوقيہ تھا اور يہ قريباً اس سے دگني رقم تھي۔يہ ساري رقم آنحضرتﷺ نے حضرت جويريہؓ کي طرف سے بطور حق مہر ادا کي اور انہيں آزاد کرکے ان سے نکاح فرمايا۔

رسول اللہﷺ سے شادي

حضرت عائشہ  اس واقعہ کو بيان کرتے ہوئے فرماتي ہيں کہ حضرت جويريہ خوبرو خاتون تھيں۔ انہوں نے حضرت ثابت ؓسے ايک خطير رقم کے عوض اپني آزادي کا معاہدہ کيا اور اس سلسلے ميں حضورﷺ کے پاس امدادلينے کي غرض سےآئيں۔ ايک عورت ہونے کے ناطہ سے مجھے طبعاً دل ميں کچھ وسوسہ سا پيدا ہوا۔ اس پر طرّہ يہ کہ حضرت جويريہؓ نے نہايت عمدگي اور کمال فصاحت کے ساتھ اپنا سارامعاملہ آنحضورؐ کي خدمت ميں پيش کرتے ہوئے عرض کيا “يا رسول اللہﷺ! آپ جانتے ہيں کہ ميں اپنے قبيلہ بنو مصطلق کے سردار حارث کي بيٹي ہوں جو مصيبت ہماري قوم کو پہنچي ہے وہ آپ سےمخفي نہيں۔ ميں نے حضرت ثابت  کے ساتھ آزادي کا تحريري معاہدہ کرلياہے۔ اب ميں آپؐ سے اس مکاتبت کي رقم ميں مدد حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئي ہوں۔

 معلوم ہوتا ہے حضورﷺ نے اس خيال سے کہ يہ قبيلے کے سردار کي بيٹي ہيں۔اور ان کے ساتھ تعلقِ عقد کے نتيجہ ميں يہ قبيلہ اسلام کے اور قريب آسکتاہے۔ چنانچہ آنحضرتﷺ نے حضرت جويريہ  سے فرمايا کہ “آزادي ميں مالي امداد سے بہتر کوئي اختيارآپ کو مل جائے تو کيا وہ مناسب نہ ہوگا۔ انہوں نے پوچھا وہ کيا؟ “آپؐ نے فرمايا “ اگر تمہاري مکا تبت کي رقم نو اُوقيہ ادا کرکے ميں آپ کے ساتھ عقد کرلوں۔”حضرت جويريہ  نے اس بات کو پسند کيا۔

دوسري روايت ميں يہ ذکر آتاہے کہ حضرت جويريہ  نے آنحضرتﷺ کي يہ تجويز صدق دل سے پسند کي يہاں تک کہ بعد ميں جب ان کے والد حارث اپنے خيال ميں بيٹي کو قيد سے آزاد کروانے آئے تو انہوں نے آنحضورﷺ کي خدمت ميں عرض کيا “ مجھ جيسے سردار کي بيٹي کے لئے مناسب نہيں کہ اسے لونڈي بناکررکھاجائے۔ ميري آپ سے گزارش ہے کہ اسے آزاد کرديں تاکہ وہ جہاں جانا چاہے جائے۔” حضورﷺنے فرمايا کہ” ميں اسے اختيار ديتا ہوں اگر وہ آزاد ہوکر آپ کے ساتھ جانا چاہے تو آپ اسے لے جاسکتے ہيں۔مگر يہ ان کي مرضي پر منحصر ہوگا، “وہ سردار اس پر بہت خوش ہوا مگر جب حارث اپني بيٹي جويريہؓ کے پاس گيا اور انہيں بتايا کہ آنحضرتﷺ نے تمہيں اختيار دے ديا ہے۔ آپ فديہ کے ساتھ آزاد ہوکر ہمارے ساتھ جاسکتي ہيں۔ اب خدا کے لئے ہميں کہيں رسوا نہ کرنا مگر قربان جائيں حضرت جويريہ کے اس جواب پر جو انہوں نے اپنے والد کوديا انہوں نے کہا” اب تو ميں اللہ کے رسول کو اختيار کرچکي ہوں۔ اس لئے آپ لوگوں کے ساتھ واپس نہيں جاسکتي۔

دراصل حضرت جويريہ ؓ رسول اللہﷺکے حسن و احسان کو ديکھ کر آپ ؐ کي گرويدہ ہوچکي تھيں۔ ابن ہشام کي روايت کے مطابق رسول اللہﷺ نے حضرت جويريہؓ کي حضرت ثابت ؓسے مکاتبت کي رقم ادا کرکےاور انہيں آزاد کروا کے نکاح فرما ليا۔

ابن ہشام کي ہي دوسري روايت ميں يہ مزيد تفصيل بھي ہے کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسي پر رسول اللہﷺ نے حضرت جويريہؓ کوبعض انصار کے سپرد کيا کہ انکا خيال رکھيں۔ آپؐ مدينہ واپس تشريف لائے۔ اِدھر جويريہؓ کے والد حارث اپني بيٹي کے فديہ کي خاطر کئي اونٹ لے کر مدينہ کو روانہ ہوئے۔ عقيق مقام پر پہنچے تو انہيں اپنے اونٹوں ميں سے دو اونٹ بہت خوبصورت معلوم ہوئے۔ جن کو انہوں نے عقيق کي گھاٹي ميں چھپا ديا۔ پھر آنحضورﷺ کي خدمت ميں باقي اونٹ بطور فديہ پيش کئے۔ حضورﷺ نے فرمايا ان دو اونٹوں کا کيا قصہ ہے جن کو تم نے عقيق کي گھاٹي ميں چھپا رکھا ہے۔حارث نے کہا ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہيں۔خدا کي قسم سوائے اللہ کے کسي کو اس بات کا علم نہيں تھا۔ اس پر حارث اور اس کے دو بيٹوں اور اس کي قوم نے اسلام قبول کر ليا۔پھر وہ اونٹ منگوا کرآنحضرتﷺ کي خدمت ميں بطور فديہ پيش کر ديئے۔اور ان کي بيٹي ان کے حوالے کردي گئي۔ حضرت جويريہؓ نے بھي اسلام قبول کر ليا تو آنحضور ؐ نے ان کے والد کو شادي کا پيغام بھجوايا۔انھوں نے اپني بيٹي کا نکاح آپ سے چار صد درھم پر کر ديا۔

حضرت جويريہ  کي روايت کے مطابق آنحضورﷺ سے نکاح کے وقت ان کي عمر20سال تھي۔

اس شادي ميں منشاء الہٰي اور برکت

آنحضرتﷺ کي قبيلہ بني مصطلق کي اس شہزادي سے شادي کے تعلق ميں منشاء الہٰي کے واضح اشارے ملتے ہيں۔ خود حضرت جويريہ بيان کرتي تھيں کہ آنحضرتﷺ کے مريسيع ميں آنے کے تين روز قبل ميں نے خواب ميں ديکھا کہ ايک چاند يثرب سے چلا اور ميري گود ميں آپڑاہے۔ ميں نے کسي کو يہ خواب بتاني مناسب نہيں سمجھي، جب رسول اللہﷺ تشريف لائے اور جنگ کے بعد ہم قيدي بنالئے گئے تو مجھے اپني روٴيا کي وجہ سے کچھ اميد بندھتي تھي کہ اس کي کوئي بہتر تعبير ميرے حق ميں ظاہر ہوگي۔پھر وہ حضورﷺ کي خدمت ميں پيش ہوئيں۔ وہ خود بيان فرماتي تھيں کہ جب ميں حضورؐ کي خدمت ميں حاضر ہوئي اور آپؐ نے مجھے آزاد کرکے ميرے ساتھ نکاح فرمايا۔

اس نکاح کا پہلا غير معمولي اثر اور برکت يہ ہوئي کہ مسلمانوں نے قبيلہ بنو مصطلق کے تمام قيدي آزاد کردئے۔حضرت عائشہ فرماتي ہيں کہ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ بنو مصطلق کے سردار کي بيٹي جويريہ سے رسول اللہﷺ نے شادي کرلي ہےتو انہوں نے کہا اب تو ہمارے آقا ومولا کا اس قبيلے کے ساتھ دامادي کا رشتہ ہوگيا ہے اور وہ رسول اللہﷺ کے سسرال بن چکے ہيں۔ اس لئے ان کے جتنے قيدي ہمارے پاس ہيں ہم ان کو بلا معاوضہ آزادکرتے ہيں۔ روايات ميں ذکر ہے کہ کوئي ايک سو مسلمان گھرانوں نے بني مصطلق کے قيدي اس دن آزاد کئےتھے۔

حضرت عائشہ فرماتي تھيں کہ ميں نے کسي بھي عورت کو اپنے قبيلے کے لئے ايسا برکت والا نہيں پايا جيسي حضرت جويريہ اپنے قبيلہ کے لئے ثابت ہوئيں کہ ان کے قبيلہ کے بيسيوں غلام اس بناء پر ايک دن ميں آزاد کردئے گئے کہ ام المومنين حضرت جويريہ کے رشتہ داروں اور عزيزوں کو ہم بطور غلام يا لونڈي کے اپنے پاس کيوں رکھيں۔

الغرض اللہ تعاليٰ نے اس قبيلہ کي غلامي سے آزادي کي يہ برکت حضرت جويريہ  کے طفيل ظاہر فرمادي اور اس کا نہايت گہرا اور عمدہ اثر اس قبيلے کے لوگوں پر ہوا جس کے نتيجہ ميں وہ قبيلہ بجائے دشمني کے اسلام کے قريب ہوگيا۔

ايک اعتراض کا جواب

وہ روايات جن ميں يہ ذکر ہے کہ حضرت جويريہ  آنحضرتﷺ کي مِلک يمين (لونڈي ) کے طور پر تھيں صحيح نہيں۔ کيونکہ مستند روايات سے ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت جويريہ ؓ کو آزاد کرکے ان کا حق مہر مقرر کيا اور بني مصطلق کے تمام اسير اس رشتہ مصاہرت کي برکت سے آزاد ہوئے۔خود حضرت جويريہ  بيان کرتي ہيں کہ ايک موقع پر ميں نے آنحضرتﷺ کي خدمت ميں جب يہ ذکر کيا کہ يا رسول اللہؐ! بعض ازواج مطہرات مجھ پر فخرکرتے ہوئے اس بات کا اظہار کرتي ہيں کہ آپؐ نے مجھے بطور لونڈي کے اپنايا ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمايا کہ اے جويريہ ! کيا ميں نے تمہارے لئے حق مہر مقرر نہيں کيا۔ لونڈي کا تو کوئي حق مہر نہيں ہوتا۔ پھر ميں نے توحق مہر کے علاوہ بھي تمہاري قوم کے چاليس غلام اور لونڈيوں کو بھي آزاد کردياہے۔

اس سے ظاہر ہے کہ حضرت جويريہ  آنحضرتﷺ کي زوجہ مطہرہ کے طور پر آپؐ کے عقد ميں آئيں۔اور آپ کي تربيت اور فيض صحبت سے جس طرح باقي ازواج نے حصہ پاياہے اسي طرح الہٰي تقدير کے مطابق قبيلہ بنو مصطلق کي اس خوش قسمت خاتون نے بھي حصہ پايا۔ جنہيں ان کي طبعي نيکي اور سعادت کے نتيجہ ميں روٴيا کے ذريعہ اس کي پيشگي خبر دے دي گئي تھي۔

يہاں يہ سوال پيدا ہوسکتا ہے کہ حضرت جويريہؓ کے ملک يمين يا لونڈي ہونے کے بارہ ميں اعتراض ازواج ِنبي کو کيسے پيدا ہوا جو رسول اللہﷺکي تربيت يافتہ تھيں۔اس بارہ ميں يادرکھنا چاہئے کہ وہ زمانہ شريعت کے نزول کا تھا۔جب پرانے رسم ورواج کے خاتمہ کے ساتھ اسلامي تعليم کے نفوذ کا آغاز ہورہا تھا۔ اوريہ مسائل ابھي واضح نہ ہوئےتھے بلکہ آج بھي بعض لوگوں ميں اس بارہ ميں ابہام پايا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود ؓ اس کي وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہيں:۔

لونڈي سے مرادہر وہ لونڈي نہيں جسے آج کل لونڈي کہا جاتا ہے۔ بلکہ لونڈيوں سے مراد وہ لونڈياں ہيں جو رسول کريمﷺ کے مقابل پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کي مدد کرنے کيلئے ان کے ساتھ آتي تھيں اور وہ جنگ ميں قيد کرلي جاتي تھيں۔تو اگر وہ مکاتبت کا مطالبہ نہ کريں تو ان کو بغير نکاح کے اپني بيوي بنانا جائز ہے يعني نکاح کيلئے ان کي لفظي اجازت کي ضرورت نہيں تھي۔

پس دور غلامي کے عرب ميں ايک مفتوح قبيلہ کي لونڈي کو جب رسول اللہﷺ نے آزاد کرکے شادي کي تو طبعاً يہ سوال پيداہوناہي تھا جيسا کہ فتح خيبر کے بعد جنگي قيدي حضرت صفيہؓ کو آزاد کرکے رسول اللہﷺ نے جب ان سےعقد فرمايا تو صحابہ کو يہي سوال پيدا ہوا کہ وہ کنيزہيں يا زوجۂ رسولؐ؟پھر سب صحابہ کا اس پر اتفاق ہوا کہ اگر تو حضرت صفيہؓ کو ديگرازواج کي طرح پردہ کروايا گيا تو وہ زوجہ مطہرہ ہونگي ورنہ لونڈي۔ جب حضورﷺ نے ان کو پردہ کروايا تو معاملہ واضح ہوگيا۔

پس جنگي قيديوں کے قديم دستور سے ہٹ کر حضرت جويريہؓ کو رسول اللہﷺکا حق مہر ادا کرنا،ان کے لئے ازواج کي طرح پردہ کا اہتمام اور انکي باري کي تقسيم نے ان کے جنگي قيدي ہونے کے تمام خيالات کو يکسر ردّ کرديا۔

رسول اللہﷺ کا فيض صحبت سےپيدا ہونيوالا انقلاب

 حضرت جويريہؓ قبول اسلام کے بعد حضورﷺکي صحبت کي برکت سے اللہ تعاليٰ سے محبت اور ذکر ِالہٰي کرنے والي اور اعليٰ درجہ کي عبادت گزار بن گئيں۔حضرت جويريہ  کي اپني ايک روايت سے بھي اس کا اندازہ ہوتاہے۔وہ بيان کرتي ہيں کہ آنحضرتﷺ ايک دفعہ گھر سے باہر تشريف لے گئے تو ميں اس وقت صبح کي نماز اداکرنے کے بعد تسبيحات اور ذکر الہٰي کر رہي تھي، حضورؐ نماز پڑھانے کے بعد صحابہ کے درميان تشريف فرمارہے اور پھر واپس تشريف لائے تو دن چڑھ چکا تھا اور ميں اسي طرح مصلّے پر بيٹھي تسبيحات اور ذکر الہٰي ميں مشغول تھي۔

آنحضرتﷺ نے مجھے اسي حال ميں بيٹھےديکھ کر پوچھا کہ تم صبح سے يہيں بيٹھي ذکر الہٰي اور تسبيح ميں مصروف ہو، ميں نے عرض کيا جي ہاں يارسول اللہﷺ! آپؐ نے فرمايا کيا ميں تمہيں کچھ ايسے کلمات نہ سکھاوٴں جو تم تسبيحات اورذکر الہٰي کے وقت پڑھ لياکرو۔ ميں نے تو وہي تين چار کلمے تين دفعہ پڑھے ہيں۔ مگر تم نے نماز فجر سے لے کر دن چڑھنے تک جتناذکر الہٰي اور تسبيحات کي ہيں۔ وہ چار کلمے اپنے اجرو ثواب ہيں ان سے زيادہ بھاري اور وزني ہيں۔ اور وہ يہ کلمات ہيں :۔

سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ

اللہ تعاليٰ اپني حمد کے ساتھ پاک ہے۔ اتنا قابل تعريف اور پاک جتني اس کي مخلوق کي تعدادہے۔اور اتنا پاک ہےجتنا وہ چاہے۔ اور اتنا پاک ہے جتنا اس کے عرش کاوزن ہے۔ اوراتنا پاک جتنا اس کے کلمات کے لکھنے کے لئے سياہي ہو(اور اس کے کلمات کو احاطہ تحرير ميں لانے کے لئے دنيا کے تمام سمندروں کي سياہي بھي ناکافي ہے)۔ دوسري روايت ميں اس دعا کے ہرکلمہ کو تين مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔

اس سے آنحضورﷺ کا مقصود صاف ظاہر ہے کہ خدا تعاليٰ کي جوتسبيح اورحمددل کي گہرائي، سچي محبت اورشعورو وجدان سےاپني تمام تر لفظي ومعنوي وسعتوں کےساتھ کي جائےوہ زيادہ لائق قبول ہے۔

عشق رسولﷺ

حضرت جويريہ ؓ جو ايک مشرک اور دشمن قبيلہ سے تھيں۔رسول اللہﷺ کے عقد ميں آئيں اور آپؐ کے اخلاق فاضلہ اور حسن سلوک سے متاثر ہوکر آغاز ميں ہي ايسي گرويدہ ہوئيں اور وہ سچي محبت ان کے دل ميں پيدا ہوگئي جو ايک مومن کي حقيقي شان ہے۔چنانچہ جب آپ ؓ کے والد نے اپني بيٹي کي اسيري کا سنا اور ان کو آزاد کروانے کيلئے فديہ ليکر آيا اور درخواست کي کہ اسے آزاد کرديا جائے۔ رسول اللہﷺ نے حضرت جويريہ ؓ کو اختيار ديا کہ وہ والدين کے ساتھ جانا چاہيں تو جاسکتي ہيں۔والد نے خوشي خوشي جاکر اپني بيٹي کو يہ بات بتائي اور کہا کہ خدا کيلئے مجھے رسوا نہ کرنا۔ مگرقربان جائيں حضرت جويريہؓ پر انہوں نے حضرت زيدؓ والا جواب ديا کہ قَد اِختَرتُ رَسُولَ اللّٰہ کہ اب تو ميں خدا کے رسول کو اختيار کرچکي ہوں۔اپنے ماں باپ کو تو چھوڑ سکتي ہوں مگر ان سے جدا نہيں ہوسکتي۔يہ وہ سچا عشق رسول تھا جو حضرت جويريہ ؓ کو ايمان کے بعد نصيب ہوا۔اور پھر زندگي کے ہر شعبہ ميں حقوق اللہ اور حقوق العباد ميں انہوں نے رسول اللہﷺ کي ذات کو نمونہ بناکر آپؐ کي اطاعت کا خوبصورت نمونہ دکھايا۔جيسا کہ انکي روايات سے ظاہر ہے۔

روايات حديث

آنحضرتﷺ سے حضرت جويريہ نے جو کچھ سيکھا اسے بيان کرنے کي بھي کوشش کي۔آپ ؓ سے کل سات احاديث مروي ہيں۔ آپ کي بعض روايات سے آپ کے ديني شوق کا اندا زہ ہوتا ہے۔آنحضرت ؐ نےشعبان 5 ھ ميں ان سے شادي کي جس کے بعد انہيں پانچ سال آپ کي پاکيزہ صحبت کے ميسر آئے۔ اس عرصہ ميں وہ نيکي اور عبادت کے اعليٰ معيار پر قائم ہوگئيں۔آپؓ بيان فرماتي ہيں کہ ايک دفعہ ميں نے جمعہ کے دن روزہ رکھا ہواتھا، آنحضرتﷺ تشريف لائے، آپؐ کو پتہ چلا تو پوچھا کہ کيا آپ نے کل بھي روزہ رکھاتھا کيونکہ جمعہ کا اکيلا روزہ رکھنا منع ہے، سوائے اس کے کہ اس سےپہلے يا اگلے دن بھي روزہ رکھاجائے۔

معلوم ہوتاہے حضرت جويريہ  کو يہ بات معلوم نہ تھي انہوں نے عرض کيا کہ کل تو ميرا روزہ نہيں تھا آنحضورؐ نے فرمايا کيا آنے والے کل ميں روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ عرض کيا نہيں بس آج جمعہ کا ہي روزہ رکھا ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمايا جمعہ کا اکيلا روزہ مناسب نہيں ہے اس لئے افطار کردو۔

حضرت جويريہ بيان کرتي ہيں کہ حضورﷺ نے لباس کے بارہ ميں سب ہميں آداب سکھائے۔ خاص طور پر مردوں کے لئے ريشم کا لباس آپؐ نے منع کيا او ر فرمايا کہ جو لوگ فخر اور تکبر کے اظہار کے لئے ريشم پہنتے ہيں، اللہ تعاليٰ قيامت کے دن ان کو ذلت کے لباس پہنائے گا۔

دوسري روايت ميں آگ کے لباس کا ذکر ہے، مقصود يہ ہے کہ اللہ تعاليٰ اور اس کے رسولؐ کي نافرماني اور اس کي ناراضگي کي جزا جہنم ہے جس ميں انسان گرايا جاتاہے۔

حضرت جويريہ نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي گھريلو سادہ زندگي کے بارہ ميں بھي بيان کيا ہے۔ اتني سادگي تھي، اتني قناعت سے گزارا ہوتاتھا کہ ايک دفعہ رسول اللہﷺ گھر تشريف لائے اور حضرت جويريہ سے فرمايا کچھ کھانے کو ہے وہ کہتي ہيں، ميں نے عرض کيا يارسول اللہﷺ! آج اس وقت کھانے کي اور تو کوئي چيز نہيں سوائے گوشت کے جو ميري فلاں آزاد کردہ لونڈي نے بھجوايا ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمايا کہ وہي لے آوٴ وہ ہمارے لئے جائز ہے۔کيونکہ آپ  کي لونڈي کو جہاں سے بھي گوشت آيا وہ اپنے محل پر پہنچ چکا، اب اس کي ملکيت ہوجانے کے بعد ہم اس سے تحفہ لے رہے ہوں گے جو منع نہيں۔ گويا ملکيت کے بدلنے سے صدقہ کي حيثيت تبديل ہوجاتي ہے۔پھر حضورﷺنے وہ کھانا تناول فرمايا۔ اس روايت سے يہ بھي ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کي زندگي کھانے پينے کے معمولات ميں کتني سادہ تھي۔اس سادہ زندگي کے باوجود ايک عرب سردار کي بيٹي کا رسول اللہﷺ کو ترجيح دينا اور اختيار دئے جانے کے باوجود اپنے والدين کے پاس جانے کے لئے تيار نہ ہونا صاف بتاتا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے حسن اخلاق کي گرويدہ ہوچکي تھيں۔

وفات

حضرت جويريہ کي وفات 65سے 70سال کي عمر ميں 56 ھ ميں بيان کي جاتي ہے۔ آپ ؓکي نماز ِ جنازہ حضرت معاويہ کے دور حکومت ميں مدينہ کے والي مروان بن حکم نے پڑھائي۔  حضرت جويريہ کي زندگي اس بات کي مثال کے لئے پيش کي جاسکتي ہے کہ کس طرح ان کي زندگي ميں انقلاب برپا ہوگيااور ايک مشرک سردار کي بيٹي آنحضرتﷺ کے عقد ميں آکر آپ ؐکي فيض ِ صحبت کي برکتيں حاصل کرکے کس طرح امّ المومنين بن گئيں۔اوراُمّت کو ہميشہ کے لئے ايک پاکيزہ نمونہ دے کر اس دنيائے فاني سے رخصت ہوگئيں۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بيت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)