//انسانی پیدائش کا مقصد

انسانی پیدائش کا مقصد

انساني پيدائش کے متعلق قرآن کريم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس لئے پيدا کيا گيا ہے۔ تا وہ خداتعاليٰ کي صفات کو ظاہر کرے اور اس کا نمونہ بنے۔ قرآن ميں اللہ فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (سورة ذاريات آيت 57) ميں نے جنّ و انس کو صرف اس لئے پيدا کيا ہے تا وہ خداتعاليٰ کي صفات کا نقش اپنے دل پر پيدا کريں (جنّ سے اس جگہ انسان ہي کي بعض اقسام مراد ہيں نہ کہ کوئي غير مرئي جنّ) اسي طرح قرآن کريم ميں ايک دوسري جگہ اللہ تعاليٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ١ؕ (فاطر آیت: 40) اے انسانو اللہ ہي ہے جس نے تم کو اس دنيا ميں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کيا ہے پس اگر کوئي شخص تم ميں سے اس مقام کا انکار کرتا ہے تو اس کے انکار کا نتيجہ اسي کو پہنچے گا يعني اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر انسان خود ہي اپنا نقصان کرے گا۔ خداتعاليٰ کو اس سے کوئي نقصا ن نہيں پہنچے گا۔ ان آيات سے ظاہر ہے کہ انسان خداتعاليٰ کي صفاتِ حسنہ کو دنيا ميں ظاہر کرنے کے لئے پيدا ہوا ہے اور وہ اس دنيا ميں خداتعاليٰ کا قائم مقام ہے۔ پس انسان نقطۂ مرکزي ہے تمام عالم مادي کے لئے۔ اور چونکہ انبياء انسانوں کي اصلاح کے لئے اور ان کو اپنا فرض ياد دلانے کے لئے اور اسي ميں کاميابي کے لئے صحيح طريق کار بتانے کے لئے آتے ہيں۔ اس لئے وہ نقطہ مرکزي ہيں تمام انسانوں کے لئے۔ يا يوں کہو کہ انسان ايک سورج کي طرح ہے جس کے گرد تمام مادي دنيا گھومتي ہے اور پھر اپنے اپنے دائرہ ميں انبياء ايک سورج ہيں جن کے گرد ان کے حلقہ کے انسان گھومتے ہيں۔

قانونِ قدرت اور قانونِ شريعت

قرآنِ شريف سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض کي طرف توجہ دلانے کے لئے اور ترقي کے راستہ پر اسے گامزن کرنے کے لئے خداتعاليٰ نے دو قسم کے قانون جاري کئے ہيں۔ ايک قانونِ قدرت۔ اس کا تعلق انسان کي مادي ترقي کے ساتھ ہے چونکہ اس کا تعلق رُوح کے ساتھ براہِ راست نہيں۔ اس لئے اس قانون کے توڑنے پر اس کا نتيجہ نقصان کي صورت ميں تو نکلتاہے ليکن خداتعاليٰ کي ناراضگي اور خفگي اس پر نہيں ہوتي۔ يہ قانون خداتعاليٰ نے خود مادہ کے اندر وديعت کرديا ہے اس لئے کوئي بيروني علم اس بارہ ميں خداتعاليٰ کي طرف سے نہيں آتا۔ دوسرا قانون، قانونِ شريعت ہے اس کا تعلق روحاني اصلاح کے ساتھ ہے اس قانون کے توڑنے پر خداتعاليٰ کي ناراضگي ہوتي ہے کيونکہ اس قانون کے پورا کرنے سے ہي انسان اس مقصد کو پورا کرسکتا ہے جس کے لئے وہ پيدا کيا گياہے اور اس قانون کو توڑنے کي وجہ سے وہ اس مقصد سے محروم رہ جاتا جس کے لئے خدانے اسے پيدا کيا ہے۔ پس جب کوئي شخص اس قانون کو توڑتا ہے تو وہ خداتعاليٰ کو ناراض کرديتا ہے ليکن ہر قانونِ شريعت کے توڑنے کا يہ نتيجہ نہيں ہوتا کہ انسان کلي طور پر اپنے مقصد ميں ناکام ہوجائے بلکہ اسلام ہميں بتاتا ہے کہ يہ تمام قانون مجموعي طور پر انسان کي روح کي پاکيزگي اور بلندي کے لئے بھيجا جاتا ہے۔ ليکن جس طرح قانونِ قدرت کے توڑنے سے ضروري نہيں کہ ہر قانون شکني کي وجہ سے تباہي اور بربادي آجائے يا ہر بدپرہيزي کي وجہ سے ضرور بيماري پيدا ہو۔ اسي طرح ضروري نہيں کہ قانونِ شريعت کا ہر حکم ٹوٹ جانے کي وجہ سے انسان اپنے مقصد سے بالکل محروم رہ جائے يا خداتعاليٰ کا غضب  اس پر نازل ہوجائے کيونکہ شريعت کے تمام احکام اصولي طور پر انسان کي درستي کے لئے مقرر کئے جاتے ہيں اور شريعت کا تمام نظام اسي مقصد کے لئے ہے۔ ايک وسيع نظام جو مختلف طريقوں سے ايک ہي غرض کے لئے اپنا اثر ڈال رہا ہے اگر اس کا کوئي حصہ اپنا کام کرنے سے عاري رہ جائے تو ضروري نہيں ہوتا کہ مقصود نتيجہ پيدا نہ ہو کيونکہ ہوسکتا ہے کہ جس حصہ نے اپنے کام ميں کوتاہي کي ہے دوسرے حصوں کا اثر اس کي کمزوري پر غالب آجائے اور مقصود نتيجہ پھر بھي پيدا ہوجائے انسان کا وجود ہي ايک مرکب وجود ہے۔ انسان کي زندگي، ہوا، پاني، غذا اور مختلف چيزوں پر انحصار رکھتي ہے بعض دفعہ ان ذرائع ميں سے کسي ميں کچھ نقص ہوجاتا ہے۔ مگر دوسري چيزوں کے اثر کي وجہ سے وہ بيمار نہيں ہوتا۔ اسي طرح شريعت ہے کہ وہ ان احکام پر مشتمل ہے جو انساني رُوح کي ترقي کے لئے ضروري ہيں اور ان کا مجموعي اثر انسان کي روحاني ترقي پر پڑتا ہے۔ پس جب تک خداتعاليٰ کي حکومت يا اس کے انبياء کي حکومت کے انکار کي روح نہ پيدا ہوجائے صرف غلطي يا کمزوري کي وجہ سے انساني عمل ميں اگر کوئي خامي رہ جائے تو ضروري نہيں کہ ايسي خامي انسان کو اپنے مقصد کے حاصل کرنے ميں ناکام کردے۔ ہاں اگر خامي بہت بھي ہو تو سچي توبہ اور دعا بھي اس کا ازالہ کرسکتے ہيں اوپر کے قانونوں کے علاوہ قرآن کريم سے معلوم ہوتا ہے کہ دو اور قانون بھي ہيں ايک قانونِ تمدن اور دوسرا قانونِ اخلاق۔ يہ دونوں قانون درحقيقت قانونِ قدرت اور قانونِ شريعت کي سرحديں ہيں۔ قانونِ اخلاق قانونِ شريعت کي طرف سرحد ہے اور قانونِ تمدن قانونِ قدرت کي طرف سرحد ہے اس لئے يہ دونوں قانوں بہت کچھ آپس ميں ملتے جلتے ہيں۔ بہت سے تمدني قانونوں کي بنياد قانونِ اخلاق پر ہوتي ہے اور بہت سے اخلاقي قانونوں کي بنياد قانونِ تمدن پر ہوتي ہے انسان چونکہ مدني الطبع پيدا ہوا ہے، اس لئے وہ ان دو قانونوں کا محتاج تھا۔ چونکہ قانونِ تمدن قانونِ قدرت سے ملتا ہے اس لئے خداتعاليٰ نے اس کا اختيار زيادہ تر بني نوع انسان کو ديا ہے اور چونکہ قانونِ اخلاق قانونِ شريعت سے ملتا ہے اس لئے قانونِ اخلاق کو قانونِ شريعت کے اندر داخل کيا گيا ہے گو اس کي بعض شقوں کو بني نوع انسان کے سپرد بھي کردياگيا ہے۔ تمام دنيا کا نظام ان چاروں قانونوں سے چل رہا ہے۔ قانونِ قدرت ميں بھي کسي کا دخل نہيں خدا ہي کي طرف سے وہ آتا ہے اور قانونِ شريعت ميں بھي کسي انسان کا دخل نہيں وہ بھي خداتعاليٰ ہي کي طرف سے آتا ہے ليکن قانونِ تمدن اور قانونِ اخلاق ميں خداتعاليٰ اور انساني نظام شريک ہوجاتے ہيں کچھ راہنمائي خداتعاليٰ کي طرف سے آتي ہے اور کچھ اختيار انسان کو ديا جاتا ہے اور اس طرح خدا اور بندے کے تعاون سے اس دنيا کے نظام کو بہتر سے بہتر بنايا جاتا ہے۔ جب تک يہ دو دريا متوازي چلتے رہتے ہيں اس وقت تک دنيا ميں امن قائم رہتا ہے اور خداتعاليٰ کي بادشاہت کے ساتھ مل کر انسان بھي دنيا ميں ايک مفيد اور بابرکت حکومت قائم کرليتا ہے اور جب يہ دو دريا مختلف جہات کو چلنے شروع ہوجاتے ہيں يا دوسرے لفظوں ميں يہ کہو کہ انساني عقل کي ندّي اپني کمزوري کي وجہ سے اپنے رستہ سے بدل جاتي ہے اور خدائي راہنمائي کي ندي کے ساتھ ساتھ چلنے کي برکت سے محروم ہوجاتي ہے تو دنيا ميں فساد اور جھگڑا  اور لڑائي پيدا ہوجاتي ہے اور دنيا پر نہ خدا کي بادشاہت رہتي ہے نہ انسان کي بلکہ شيطان کي بادشاہت قائم ہوجاتي ہے کيونکہ انسان خداتعاليٰ کي ہدايت کے ساتھ ہي انسان بنتا ہے ورنہ وہ وحشي جانوروں ميں سے ايک جانور کي طرح ہوتا ہے۔

انسان کو خداتعاليٰ کا مقرب بنانے کے لئے ضروري تھا کہ اسے صاحبِ اختيار بنايا جاتا۔ اس وجہ سے قرآنِ کريم بتاتا ہے کہ انسان اس دنيا کے ايک حصہ ميں مختار ہے اور ايک حصہ ميں مقيّد ہے۔ وہ مقيّد ہے قانونِ قدرت کے معاملہ ميں ليکن مختار ہے قانونِ شريعت کے معاملہ ميں۔ قانونِ قدرت کے معاملہ ميں وہ مقيّد ہے اس لئے کہ قانونِ قدرت پر عمل کرنے کي وجہ سے وہ کوئي روحاني ترقي حاصل نہيں کرتا اور قانونِ شريعت ميں اسے عمل کي آزادي دي گئي ہے اس لئے کہ قانونِ شريعت پر عمل کرنے سے وہ انعام کا مستحق ہوتا ہے اور انعام اسي صورت ميں ملا کرتاہے جبکہ آزادئ عمل حاصل ہو، جبري طور پر کرائے ہوئے کام کے بدلہ انعام نہيں ملا کرتا۔

قرآنِ شريف اس بات کو بھي تسليم کرتا ہے کہ انسان روحاني ترقي بھي اس کے جسماني حالات سے متاثر ہوتي ہے اور جس حد تک وہ اس سے متاثر ہوتي ہے اس کے اعمال يقيناً محدود ہوجاتے ہيں۔ قرآنِ کريم اس کا جواب يہ بتاتا ہے کہ خداتعاليٰ انساني اعمال کي قيمت اس کے ماحول کو مدّنظر رکھتے ہوئے لگائے گا۔ مثلاً اگر ايک شخص لاکھوں روپے کا مالک ہوکر دنيا کي بہتري اور بھلائي کے لئے سو روپيہ خرچ کرتا ہے اور ايک دوسرا شخص صرف چند روپوں کا مالک ہوکر دنيا کي بھلائي کے لئے اپنا سارا مال خرچ کرديتا ہے۔ تو خداتعاليٰ کي طرف سے دونوں کو ايک سا ثواب نہيں ملے گا۔ جس نے چند روپے خرچ کئے تھے گو اس کے روپے تھوڑے تھے مگر اسے ثواب زيادہ ملے گا کيونکہ اس کے ماحول کو مدّنظر رکھتے ہوئے يہ کہا جائے گا کہ اس نے اپنا سب کچھ قربان کرديا۔ ليکن جس نے لاکھوں اور کروڑوں روپيہ کے ہوتے ہوئے ايک سو روپيہ کي مدد کي اس کے ماحول کو مدّنظر رکھتے ہوئے يہ فيصلہ کيا جائے گا کہ اس نے اپني طاقت کا ہزاروں يا لاکھواں حصہ خداتعاليٰ کي راہ ميں خرچ کيا۔ پس خداتعاليٰ عمل کي مقدار کو نہيں ديکھتا بلکہ اس ماحول کو ديکھ کر عمل کي قيمت لگاتا ہے جس ماحول ميں کوئي انسان کام کرتا ہے اور وہ ان مجبوريوں يا ان سہولتوں کو نظرانداز نہيں کرتا جن کے ماتحت کام کرنے والے کے عمل ميں کوئي کمزوري پيدا ہوئي يا جن کي مدد سے کام کرنے والے کو کام ميں سہولت حاصل ہوئي۔

قرآن ميں ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح جسماني دنيا نے آہستہ آہستہ ترقي کي ہے اسي طرح روحاني دنيا کے لئے بھي آہستہ آہستہ ترقي مقدر تھي اسي لئے خداتعاليٰ کا کامل کلام دنيا کے شروع ميں نہيں آيا۔ جوں جوں انسان ترقي کرتا گيا اسے اس کي ترقي کے درجہ کے مطابق شريعت دي گئي آخر ہوتے ہوتے انسان اس مقام پر پہنچ گيا جبکہ وہ کامل ترين شريعت کا حامل ہوسکتا تھا اس وقت خداتعاليٰ کي حکمت کے ماتحت دنيا کا کامل ترين وجود ظاہر ہؤا  اور وہ محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم تھے پس آپﷺ پر خداتعاليٰ کي طرف سے آنے والي شريعتوں ميں سے کامل ترين شريعت اور خداتعاليٰ کي طرف سے آنے والي کتابوں ميں سے کامل ترين کتاب نازل ہوئي، جس طرح مادي عالم کا نقطۂ مرکزي انسان ہے جس طرح مختلف زمانوں اور قوموں کے لئے ان کا نقطۂ مرکزي اس کے انبياء ہيں۔ اسي طرح کہ تمام مادي عالم کا پہلا نقطۂ مرکزي انسان ہے يہ انسان مختلف دائروں ميں اپنے اپنے زمانہ کے نبيوں کے گرد گھومتے ہيں۔ تمام نبي محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے گرد گھومتے ہيں اور محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم خداتعاليٰ کے گرد گھومتے ہيں اس طرح يہ روحاني دنيا مکمل ہوجاتي ہے۔(ديباچہ تفسير القرآن صفحہ 315 تا 319)