//اندھیری راتوں کے تیر

اندھیری راتوں کے تیر

تحریرصفیہ چیمہ۔فرینکفرٹ

غير ممکن کو يہ ممکن ميں بدل ديتي ہے

اے ميرے فلسفيو زورِ دعا ديکھو تو

موجودہ دور ميں جو بد امني اور بےچيني ہے ہر طرف افرا تفري پھيلي ہوئ ہے۔ايک ايسي بيماري جو آج تک نہ ديکھي نہ سُني۔پوري دنيا جس کي لپيٹ ميں ہے۔ يہ سب کيا ہے؟ کوئي اس کو ايک سوچي سمجھي سکيم کے تحت پھيلائي گئي بيماري کا نام دے رہا ہے تو کوئي اس کو آسماني آفت سے منسوب کر رہا ہے۔کسي کے پاس آج تک اس کا کوئي مداوا نہيں۔ پوري طبي دنيا اس کا حل ڈھونڈ رہي ہے ليکن ابھي تک کہيں کاميابي نہيں ہوسکي چند دنوں سے ايک ويکسين کي ايجاد کا شور برپا ہےاور اس کے بارے مختلف آراء منظر عام پر ہيں کہ اس کے منفي نتائج کے ذمہ داري کون اپنے سر لے گا؟۔پوري دنيا کي معيشيت تباہ ہو کر رہ گئي ہے جس کا کبھي سوچا بھي نہ تھا۔کب حالات سنبھل پائيں گے کچھ نہيں کہا جا سکتا۔ سب پير فقير، نجوم بے بس ہو کر رہ گئے ہيں۔ہر طرف مايوسي اور نااميدي چھائي ہوئي ہے۔ بوڑھے بچے نوجوان سب ان حالات کا شکار ہيں۔ کہيں کوئي راہ نہيں سوجھ رہي کہ کس طرح بچا جائے۔

اگر ہم غور کريں تو ہميں احساس ہو گا کہ دراصل موجودہ ماديت پرستي نے انسان کو حد درجہ خود غرض اور ظالم بنا ديا ہے۔نيک اور خدا رسيدہ انسانوں کے لئے يہ دنيا تنگ ہوتي جا رہي ہے۔ کہيں قومي برتري کا زعم ہے تو کہيں طاقت کے نشے ميں چُور طاقتور، کمزور اور بےبس انسانوں کو تختہء مشق بنا رہے ہيں۔کہيں مذہب کي آڑ ميں شيطانيت زوروں پر ہے تو کہيں نسل پرستي، کالے گورے کا امتياز، قومي تفخر، ذات پات کي اونچ نيچ جيسي منحوس روايات نے ايسا جکڑ رکھا ہے کہ انسان اپنے ہي بنائے ہوئے دائروں ميں ايسا گھوم کے رہ گيا ہے جن سے راہِ فرار ممکن نہيں اور اگر کہيں ممکن کا امکان موجود بھي ہے تو ايک نفس دوسرے نفس پہ ايسا حاوي ہے کہ اپني کوئي مجال نہيں کہ خودکےلئے کوئي نجات کا راستہ اختيار کر سکے۔

يہ کرونا بيماري کيسي بيماري آ پڑي ہے جس نے جسم و جان اور روح کي صفائي کے سامان پيدا کر ديئے ہيں۔جو لغويات ايسي جاري و ساري تھيں کہ ان کے بغير جينے کا لطف نہيں سمجھا جاتاتھا۔ان کو ملکي سطح پہ پابند کر کے رکھ ديا ہے۔اشيائے خوردني کي پاکيزگي کا خيال چھا رہا ہے۔بے حيائي کي حرکات جو سرِ عام اختيار کرنے ميں کوئي حجاب نہ تھا اب ہر کوئي ايک دوسرے سے فاصلے پر اور خوف زدہ ہے۔سب عيش و عشرت کے اڈّے بند کر ديئے گئے ہيں۔ زميني آلودگي نے پوري زمين کو اپنے حصار ميں جکڑ رکھا ہے۔موجودہ ٹيکنالوجي نے گھروں ميں موجود انسانوں کو آپس ميں دور کر ديا تھا ہر کوئي قريب بيٹھے سے بات کرنے کي بجائےدور والے سے رابطہ رکھے ہوئے محوِ گفتگو ہے۔

يہ سب آفات ہميں اپنے پيدا کرنے والے خالق و مالک سے جوڑنے کے لئے، ايک سبق سکھانے کے لئے ہيں۔ خدا تعاليٰ اپني مخلوق سے بہت پيار کرنے والا ہے۔وہ ان کي اصلاح کے لئے ہر زمانے ميں اپنے مقرر کردہ مصلح، پيامبر، نبي اور رسول بھيجتا رہا ہے تو يہ کيسے ممکن ہے کہ اس زمانے ميں جہاں ايسي شديد قسم کي بدصورتِ حال پيدا ہو جائے اور خدائي کي منکر دنيا، خدا کے بھيجے ہوئے مذاہب سے روگرداني کرے اور ايسے غفلت کے پردے تان لے کہ چاروں طرف اندھيرا ہي اندھيرا چھا گيا ہو تو اس پروردگار کي رحمت جوش ميں نہ آئے۔

اسي خدا نے اپنے وعدوں کے مطابق اس زمانے کے امام حضرت اقدس عليہ السلام کو اصلاحِ احوال کے لئے اور مخلوق کو اپنے خالق سے ملانے کے لئے مبعوث فرمايا اور وہ تعليم جو دنيا بھول چکي ہے اس زندہ وکامل مذہب اسلام کو از سرِ نوپھيلانے کے لئے اور نبيء پاک صلي اللہ عليہ وسلم کي عظمت و شوکت ظاہر کرنے کے لئے بھيجا۔

حضرت اقدس عليہ السلام فرماتے ہيں۔

“کيا تم خيال کرتے ہو کہ تم… امن ميں رہوگے يا تم اپني تدبيروں سےاپنے تئيں بچا سکتے ہو؟ ہر گز نہيں۔انساني کاموں کا اس دن خاتمہ ہو گا… اے يورپ تو بھي امن ميں نہيں اور اے ايشيا تو بھي محفوظ نہيں اور اے جزائر کے رہنے والو کوئي مصنوعي خدا تمہاري مدد نہيں کرےگا۔ميں شہروں کو گرتے ديکھتا ہوں اور آباديوں کو ويران پاتا ہوں۔وہ واحد و يگانہ ايک مدّت تک خاموش رہا۔اس کي آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہيبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں وہ سنے”{حقيقة الوحي۔صفحہ 257 مطبوعہ 1906ء۔روحاني خزائن جلد 22مطبوعہ لندن صفحہ 269}

ايسے ميں انسان ہونے کے ناطےانسانيت کي ہمدردي ميں ہميں اپنے خالق و معبود کے حضور ہي گڑگڑانا ہے اور اپني التجاؤں اور کمزوريوں کو اس کے حضور پيش کرتے ہوئے راہِ نجات و امن طلب کرني ہے۔خداتعاليٰ کے پيارے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا دامن تھامتے ہوئے، اس کے مسيح محمدي کي دعاؤں کا واسطہ ديتے ہوئے کل عالم کے لئےيہي التجا کرني ہے کہ خدا تعالي ٰ اپنے پيارے حبيب کے صدقے جلدان تکليف دہ حالات سےنجات عطا فرمائے ہميں اپنے پيار کے دامن ميں سميٹ لے، اپني پناہ ميں رکھے، ہر شيطاني فعل سے بچائے اس خوبصورت کائنات کا حسن جو اللہ کي مخلوق سے مزيّن ہے اس کو قائم و دائم رکھے۔ بےشمار نعمتيں جو بن مانگے ہمارے ہر سُو پھيلي ہوئي ہيں ان سے ہميشہ ہميں فيض ياب فرمائے۔ حضرت مرزا طاہر احمد ايدہ اللہ تعاليٰ جن کے شب و روز اس دنيا کي فلاح و نجات کي فکرميں دعائيں کرتےگذرتے ہيں اورہمارے آقا ہميں جس راہ پر قائم و دائم ديکھنا چاہتے ہيں ہم ان راہوں پر قدم ماريں، ان کے فرمودہ احکام و ہدايات پر عمل پيرا ہوں، سمعنا و اطعنا کي پيروي کرتے ہوئے اطاعت امام اپنا فرض جانيں۔ خدا تعاليٰ کے فرشتے آسمان سےپکارنے والے کي پکار کو سنتے ہوئے

’’اتر سکتے ہيں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھي‘‘

مگر ہم فضائے بدر پيدا کرنے والے تو ہوں، اندھيري راتوں ميں اٹھ کر دعاؤں کي شمع جلانے والے تو ہوں۔خدا تعاليٰ اپنے بندوں کي بےقرار دلوں سے نکلي ہوئي دعاؤں اور التجاءوں کو ضرور سنتا اور قبول کرتا ہے وہ ضرور اس دنيا کو اس ناگہاني آفت سےبچائے گااور امن و سکون عطا فرمائے گا۔

اس ضمن ميں ايک اقتباس بعنوان’’اندھيري راتوں کے تِير‘‘پيش ہے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہيں  ’’دعا ايک ايسي طاقتور چيز ہے کہ دنيا کي اور کوئي طاقت اس کا مقابلہ نہيں کر سکتي اور بھي بڑي بڑي طاقتيں ہيں مثلاً پاني کي طاقت، بجلي وغيرہ کي طاقت ہے۔مگر دعا کے مقابلہ ميں کچھ بھي نہيں۔ ايک بزرگ کي نسبت لکھا ہے کہ وہ جس جگہ رہتے تھے ان کے پڑوس ميں ايک بڑا امير آدمي رہتا تھا جو ہر وقت گانے بجانے ميں مشغول رہتا، جس سے انہيں سخت تکليف ہوتي۔ايک دن وہ اس کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ ’’ديکھو بھئي ميں تمہارا  ہمسايہ ہوں، اس لئے ميرا بھي تم پر حق ہے۔اوّل تو اس لغو کام سے تمھيں خود ہي رُک جانا چاہيئے تھا ليکن اگر ايسا نہيں کيا تو اب ميري خاطر ہي اسے ترک کر دو، کيونکہ مجھے اس سے سخت تکليف ہوتي ہے۔‘‘ وہ چونکہ بڑا رئيس اور صاحبِ رسوخ تھا، اس نے کہا ’’تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے؟ ہم کبھي نہيں رکيں گے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اگر آپ اس طرح نہيں رکيں گے تو ہم بھي مجبور ہيں ہم اور طرح سے روکيں گے‘‘۔ اس نے کہا  ’’کيا تم روکو گے ؟ کيا تم ميں اتني طاقت ہے؟ ميں ابھي سرکاري گارڈ منگواتا ہوں‘‘انہوں نے کہا ’’ہم گارڈ کا بھي مقابلہ کريں گے‘‘۔ اس نے کہا ’’ تم ان کا کيا مقابلہ کر سکتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا  ’’نادان ہمارا مقابلہ توپوں اور بندوقوں سے نہيں ہو گا بلکہ ’’سہام الليل‘‘ سے ہو گا‘‘ لکھا ہے کہ يہ الفاظ انہوں نے کچھ ايسے دردناک لہجہ ميں فرمائے کہ اس کي چيخيں نکل گئيں اور بول اٹھا ’’ اس کا مقابلہ نہ ميں کر سکتا ہوں نہ ميرا بادشاہ کر سکتا ہے۔ آئندہ کے لئے ميں اقرار کرتا ہوں کہ آپ کو گانے بجانے کي آواز نہيں سنائي دے گي‘‘۔تو دعا ميں وہ طاقت ہے کہ کوئي توپ و تفنگ اس کا مقابلہ نہيں کر سکتي۔ کيوں؟ اس لئے کہ يہ تير زمين سے نہيں بلکہ آسمان سے آتے ہيں۔پھر انسانوں کے ہاتھوں سے نہيں بلکہ خدا انسانوں سے لے کر خود پھينکتا ہے اور خدا کے پھينکے ہوئے کو کوئي روک نہيں سکتا۔

(از خطبات ِمحمود۔جلد 5 صفحہ 141۔الفضل4 جولائي 1916)

اس لئے اس آڑے وقت ميں محض اور محض اللہ تعاليٰ کي ذات پاک ہے جو آسمان سے ہي اسباب پيدا فرمائے اور اس زميني آفت سے پورے عالم کو نجات حاصل ہو۔ اور ہمارے”سہام الليل “اندھيري راتوں کي دعاؤں کے تير زمين سے آسمان تک جا پہنچيں اور اس پاک ذات کي رحيميت جوش ميں آئے جو بہت ہي رحيم و رحمان ہے۔ ’’ربنا اکشف عنا العذاب انا مومنون‘‘آمين اللھم آمين