//انتہائے محبت

انتہائے محبت

تحریر قدسیہ عالم فرانس

بے انتہا محبت کي بات ہو اور مجھے منيزہ کي ياد نہ آئے۔ ۔پگلي نے محبت کي انتہا کر دي تھي۔ وہ انتہا جہاں سے وہ واپس نہ مڑي اور پيچھے والوں کو پتھر کا کر گئي۔ منيزہ دو بھائيوں کي منجھلي بہن تھي۔ بڑا اس کو دل و جان سے عزيز تھا تو چھوٹے ميں بھي اس کي جان تھي۔ بہن بھائيوں والي نوک جھونک بھي تھي اور پيار بھي بہت تھا۔ چھوٹے کي تختي کو گاچني مٹي لگانا دھوپ ميں سکھانا اور اگر کسي نے چھوٹے بھائي کو تنگ کيا تو اسي تختي سے اس کي خبر لينےکو تيار رہنا۔۔ بڑے کے سارے کام اس جي حضوري سے کرنا کہ ديکھنے والے کو حيرت ہوتي بڑے بھائي کو تو وہ ديکھ ديکھ جيتي تھي۔ ۔ سب کہتے عاشق ہے منيزہ اپنے بھائيوں کي اور خاص کر بڑے کي۔ ۔ کچھ عجيب اندھا دھند سي محبت تھي اس کے دل ميں اپنے بھائيوں کے ليے۔ اماں بعض اوقات حيران ہوتيں کہ کيسے يہ بھائيوں کي چھوٹي سے چھوٹي بات کي ليے تڑپ اٹھتي ہے۔ ۔ اسي محبت کو دل ميں ليے وہ بابل کي گلياں چھوڑ پي کے ديس جا آباد ہوئي۔ بھائي بھي بياہے گئے وقت کا پہيہ چلتا رہا۔ ۔پھر بڑا بھائي پرديس چلا گيا اور يہ ايسے بلک بلک کر روئي کہ ديکھنے والوں کا کليجہ منہ کو آنے لگا۔ ۔منيزہ اپنے گھر ميں سلھي تھي سب اچھا تھا پر بھائي کي ياد اسے اکثر بے چين رکھتي…پھر اچانک ايک دن يوں ہوا کہ اس کےبھائي کي حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کي دردناک خبر آگئي…جوان موت تھي ماں کو سنبھالنے سے زيادہ سب کو يہ فکر کہ منيزہ کو کيسے بتائيں… اور وہي ہوا جب اسے خبر ملي تو اس کي حالت غير ہو گئي۔۔اس کا رونا اس کي فرياديں دل چير رہے تھے وہ اونچے اونچے بين کيئے جا رہي تھي اورنہ جانے منہ سے کيا کيا کلمے نکال رہي تھي… اس نے کچھ ايسا کہا کہ ساتھ بيٹھي اماں نے روتے روتےتڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور کہا خدا کے ليئے ايسے نہ کہو۔ ۔مگر وہ تڑپ تڑپ کر ايک ہي فرياد کيئے جا رہي تھي۔ ۔ميت ايک ہفتہ بعد آني تھي…تيسرے دن منيزہ ميکے سے اپنے گھر گئي راستے ميں سڑک پار کرتے ہوئے کسي لاپرواہ ڈرائيور کي تيز رفتار گاڑي نے اچھال کر پرے دے مارا…منيزہ کے دماغ پر چوٹ لگ گئي ہسپتال لے گئے فوري علاج شروع ہو گيا پر وہ سر کي چوٹ کي وجہ سے کومہ ميں چلي گئي…ماتم والا گھر ايک بار پھر آہ و فغاں ميں ڈوب گيا… دعائيں ہونے لگيں صدقے خيرات ديے گئےکہ اللہ کسي کي سن لے…چھ دن گزر گئےڈاکٹر کبھي اميد دلاتے کبھي مايوسي سے ديکھتے ساتويں دن شام کو بڑے بھائي کي ميت آئي اور اسي دن صبح منيزہ اپني جان سے گئي… بھائي کي تدفين سے پہلے منيزہ کي تدفين ہو گئي اور وہ منوں مٹي تلے جا سوئي۔ ۔ اس کي اماں کے کانوں ميں اس کے بين گونج رہے تھے وہ کہہ رہي تھي بھائي تم کيوں چلے گئے ميں تمہارے بغير کيسے رہوں گي بھائي ميں کيسے تمہارا مرا ہوا منہ ديکھوں گي…تم سے پہلے ميں کيوں قبر کي مٹي نہيں اوڑھ رہي…بھائي ميں نے تمہارے بغير اس دنيا ميں جي کر کيا کرنا ہے… بھائي..