//انتظار

انتظار

۔ تحریر امۃ الجمیل سیال

میرے فون کی گھنٹی مسلسل بجے جا رہی تھی اور میں اس انجانے سے نمبر کو دیکھتے ہوئے ریسیور نہیں اٹھا رہی تھی۔ بیل مسلسل بجے جا رہی تھی۔ آخر اس اجنبی سے نمبر پہ چونکتے ہوئے ڈرتے ڈرتے۔میں نے ریسیور اٹھایا اور جھٹ سے پوچھا …کون ؟

آپ جمیل ہیں ؟آواز کچھ سنی سنی اور مانوس سی لگی…جی جی فرمایئے۔

اس کی آواز میں گھبراہٹ اور بے چینی میں صاف محسوس کر رہی تھی۔

 میں صائمہ بات کر رہی ہوں اس نے ایک ہی سانس میں اپنا تعارف کروانے کے بعد جھٹ سے پوچھا۔

آپ بینا شیخ کو جانتی ہیں ؟… جی بالکل جانتی ہوں ….

اس نے ایک ٹھنڈی مگر کرب ناک سانس میں کہا …کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے

بس آپ کو اطلاع کرنی تھی۔

یہ کہہ کر وہ فون بند کر گئی اور میں اپنے ساکت وجود کی لڑکھڑاہٹ کو سنبھالتے ہوئے بےجان سی ہو کر صوفے پر بیٹھ گئی اور دور ماضی کی بھول بھلئیوں میں گم اسکی یادوں کے تانے بانے بننے لگی اس کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں اور حسین لمحات ایک ایک کر کے کسی فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔

اس کا خوبصورت سراپا میرے سامنےرقصاں تھا۔سفید چادر میں لپٹی وہ ہمیشہ چیونگم کی جگالی کرتے ہوئے ہمارے گھر آتی اور بہت ہی پر اعتماد لہجے میں وہ اکثر فواد کا ذکر بھی کرتی رہتی وہ ہمیشہ اس کا نک نیم ہی لیا کرتی تھی۔وہ بھی اپنے اصل نام کی بجائے اس نام سے مشہور ہو گیا تھا۔ اس کا نام اس کی گالوں کی لالی اور چہرے کی شادابی کو اور بھی بڑھا دیتا تھا۔اس کا نام میرے بھی لا شعور میں کہیں بیٹھ سا گیا تھا۔میں نے دیکھا تھا اسے وہ واقعی وجیہہ شخصیت کا مالک چاہے جانے کے قابل تھا۔ دونوں کے پیار کے چرچے زبان زد عام تھے ان کی چاہت بھی مثالی چاہت تھی۔

باغیانہ بھی تھی۔ معاشرتی قیود سے ٹکرانے کا عزم بھی رکھتی تھی۔ محبت یوں ہی رواں دواں تھی وقت بھی اپنے مخصوص انداز میں چل رہا تھا۔محبت اپنے عروج پہ پہنچ چکی تھی

کہ اچانک اک موڑ پہ آ کر محبت کے اس جذبے میں سماج کی تلخیاں بھر گئیں۔

یہاں یہ کہنے کی جرات کروں گی…محبت میں کامیابی اور ناکامی کے سارے المیہ کا آصل مجرم وہ غیر ہموار اور غیر فطری معاشرہ ہے جس کے اصول محبت کرنے والوں کے درمیان ایک دھماکے کی طرح پھٹتے ہیں اور یکا یک وہ آہنی فصیل ابھر آتی ہے جس کے دونوں طرف تنہائیوں کا سناٹا مسلط ہو جاتا ہےاور محبت کو طبقاتی امتیاز کی تلوار پر رکھ دیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں سماج محبت لازم وملزوم ٹھہرا دیئے گئے ہیں۔ہم آج بھی سماجی اور اخلاقی بندشوں کے معاشرے میں زندہ ہیں کبھی خاندانی وقار کبھی انا اور کبھی ذات پات کے یہ جھوٹے خول کا لبادہ چڑھائے ہی رکھتے ہیں۔ وہ نہ جانے کیوں مرد ہونے کے باوجود کیوں عورت کی طرح بے بسی کے طوق کو گلے کا ہار بنا بیٹھا۔

بینا !کسی اور کی زندگی کا چراغ بن کر اس کے گھر کی روشنی بن گئی اور دور پردیس میں اپنا گھر بسا لیا۔ مگر جس گھر کی روشنی بن کر اجالے کرنے گئی تھی وہاں اسے محبت میں۔ تاریکیوں کے سوا کچھ نہ ملا۔اس گھٹن میں اتنے گہرے درد بکھرے تھے اور اتنے بوجھل لمحے کہ جن کا بوجھ اٹھا کر چلنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔اس کے شوہر کے تلخ رویئے نے اس کی زندگی خزاں رسیدہ بنا ڈالی۔یوں وہ زندگی سے دور لمحہ لمحہ موت کی وادیوں کی طرف اپنا سفر طے کرنے لگی۔

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

 جب کشتی ڈوبنے لگتی ہےتو بوجھ اتارا کرتے ہیں

آج وہ کتنی تنہا تھی کتنی مایوس تھی۔ تاریک رات خاموش فضا گہرا سکوت۔ یوں لگ رہا تھا جیسے گردش دوراں ساری کائنات سمیت عدم کی پنہائیوں میں گم ہو گئی ہو۔لیکن اس کی روح پلکوں پہ اٹکے آنسووں کی مانند تھی۔ ادھوری تمنائیں مجبور خواہشیں اور روتی آرزوئیںوہ تنہا تھی۔ حسین یادیں اس کے پہلو میں لیٹی تھیں اس کے حواس پر ان کی گرفت مضبوط ہوتی گئی۔اور وہ بکھرے خیالوں کی رنگین دنیا میں بار بار کھو جاتی تھی کہیں دور سے پیار کی زندہ لہروں کی منتظر۔

وہ آہستہ آہستہ ڈوب رہی تھی پھر اچانک اسے اپنے ارد گرد ایک سکوت محسوس ہوا پیاس اور تنہائی اور یادیں۔اور پھر محبت کی یہ شمع سحر ہونے سے پہلے ہی بجھ گئی۔

 بینا کی یادوں کے سحرسے باہر نکلی۔ تو بے اختیار میرے لبوں پر غالب کی غزل کا یہ شعر گنگنانے لگا۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا